ہمارے علماء کی ناکامی:
------------
نوٹ:
یہ تحریر لکھنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑا اور بالآخر لکھنے کا فیصلہ کر ہی لیا، میں مانتا ہوں کہ مجھے دینی علوم کی ا،ب کا بھی پتہ نہیں ہے اور نہ میں میں کوئی فارغ التحصیل عالم یا مفتی ہوں بس جو محسوس کیا وہ بتانا چاہ رہا ہوں چناچہ میری بات کو کسی مخصوص فرد، مسلک یا ادارے پر حملہ تصور نہ کیا جائے اور اسے صرف علمی حد تک رکھا جائے اور بے شک کھل کر تنقید کی جائے۔اور مجھے کسی مسلک سے مت جوڑا جائے۔
---------------------------------------------------
ایک اسلام پسند ہونے کے باعث سوشل میڈیا سے لے کر عام زندگی تک ہمارا سامنا ہر قسم کے لوگوں سے ہوتا ہے اور مختلف لوگوں کا نقطہ نظر سننے کا موقع ملتا ہے۔
فلحال پاکستان میں فکری و سیاسی طور پر2 قسم کے طقبے موجود ہیں ایک "اسلام پسند" اور دوسرے "لبرل ،ملحد وغیرہ وغیرہ"
اب دو خیمے موجود ہیں ایک جس پر اسلام کا پرچم ہے ۔اس پرچم کے نیچے اور دیگر پرچم بھی اورگروہ بھی موجود ہیں ۔اب ہوتا یہ ہے کہ ہم مسلکی اختلافات کی بنیاد پر چند مسالک کو اس خیمے سے باہر نکال چکے ہیں ۔ مثلاً شیعہ اور بریلوی
ان دونوں کے اندرانتہائی اچھے علماء بھی موجود ہیں اور نظریہ خلافت و حکومت بھی۔ اب میں بات کھل کر کرنا چاہ رہا ہوں ۔
اہل تشیع نے جب اس بات کو محسوس کیا کہ اب ان کا گزارہ اس اسلام پسند خیمے میں ممکن نہیں ہے تو وہ اپنی بقا کے لئے لبرل طبقے میں جا ملے۔ جس کا نقصان اسلام پسند طبقے کو تو ہوا ہی لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان خود اسی مسلک کو اٹھانا پڑا موجودہ دور میں شیعہ علماء اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اب ایک عام شیعہ نوجوان دین سے بیزاری برتنے لگا ہے۔اور وہ خدا کے من گھڑک تصور کا شکار ہے اور قدرے "نیچری" بھی۔
اب یہی نوجوان سوشل میڈیا پر "بے دینوں " کی جانب سے اسلام پسندوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور شدید نقصان پہنچاتے ہیں ۔حلانکہ دونوں مین زمیں آسمان کا فرق ہے۔ ایک خدا کو ماننے والا اور دوسرا خدا کا انکاری ۔لیکن ایسا ہورہا ہے۔
اب دوسری جانب ہمارے پاس رہ گئے بریلوی ۔ ان کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہ انتہا کہ شخصیت پرست ہیں اس لیے یہ کسی ایک شخصیت پر متفق نہیں ہو پاتے وگرنہ پاکستان میں ان کی تعداد بہت بہت زیادہ ہے۔ان میں واحد سیاسی تدبر رکھنے والی شخصیت "علامہ شاہ احمد نورانی " مولانا انس نورانی کے والد محترم تھے جنہوں نے اس مسلک کو سیاسی بصیرت عطا کی۔
اب ایک عام بریلوی سیاسی طور پر سیاسی دین سے نا واقف ہے۔اور مجھے دور دور تک اس کے آثار بھی نظر نہیں آ رہے اس لیے انکا وزن بھی اسلام مخالف پلڑے میں ڈلتا رہے گا۔
یہ لوگ نہ خود کچھ کریں گے بلکہ ہر ہونے والی اچھی تبدیلی میں رکاوٹ کا باعث بنیں گے۔
اس لیے لبرل پاکستان میں آزاد خیال سیاسی جماعتوں سے افراد اکٹھے کر کے غیر محسوس کن طریقے سے انہیں اپنے نظریے کا شکار بنا رہے ہیں ۔
-----------
یہ ہمارے علماء کی ناکامی ہے کہ اب ایک اسلام پسند کو بیک وقت بے دینوں کے ساتھ اور اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ فکری و سیاسی طور پر لڑنا پڑ رہا۔
تمام مسالک کو ایک اسلامی اور عین شرعی مقصد کے حصول کے لئے متحد رکھنا ہر صورت علماء کا ہی کام ہے جو وہ نہیں کر سکے اور جس کا خمیازہ آج اس پوری قوم کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
تحریر











یہ صرف علما کی نہیں، تمام مذہبی تحریکوں کی ناکامی ہے کہ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک قرآن کو ماننے والوں میں موجود فروعی اختلافات کو غیر ضروری بڑھاوا دے کر شدت پسندی سے نمٹنے کی سعی کر رہے ہیں۔ نتیجہ، فرقہ در فرقہ!