یہ سال تسلیم کا سال رہا ،صبر اور مزید نرمی اختیار کرنے کا سبق دے گیا۔ نقصانات اتنے کہ جنکا ازالہ ممکن نہیں مگر اللہ تعالی کے اتنے انعامات کہ جتنا بھی شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے ۔ ایک اہم چیز جو کسی حد تک سیکھنے کو ملی وہ خود احتسابی رہی ، چاہے وہ معمولی نوعیت کی ہی ہو یا بڑھتی عمر کا ہی اثر ہو مگر بہرحال ایک حقیقی صورت میں اس سے شناسائی ممکن ہو پائی ہے ۔ خود سے دور کسی اور کی نظر سے خود کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش جاری رہی ہے ، اور ہمارے لیے اس کی کوشش کرنا اس کے حاصل کرنے کے زیادہ اہم ہے ۔
اپنی کمیاں کوتیاہیاں غلطیاں بار بار سامنے آ نے کے باوجود ان کے حل اور ان کی جانب رجوع کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہے ۔مزاج کا ظاہری ٹھہراؤ اندرونی بے چینی سے میل نہ کھانے کے باعث بے وجہ کی پرملال کیفیت سے دوچار رہا ہے ۔ ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کرنے کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔
اپنی زندگی کے بدرترین لوگوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے الحمداللہ اس وقت کے بہترین لوگوں کو اپنا منتظر پایا ہے ،ان کی موجودگی اور ان کا خلوص میرے لیے سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ انکو دینے کے لیے میرے پاس دعاؤں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالی حیات کی تلخیوں اور غلطیوں سے سبق سیکھنے ، مستقبل کو سنوارنے اور تعمیرکرنے ، اپنے رستے میں قبول کرنے ، مثبت توقعات پہ پورا اترنے ، جوانی کو بہترین جگہ کھپانے ،سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
تحریر:
ملک انس اعوان
30 دسمبر2016 ،
اٹک ،پنجاب ،پاکستان
