احساسات ‏(اسکدار)

0 comments
استنبول کی ایشیائی جانب" اسکدار ساحل" کے قریب نئے غریب خانے میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہوا چاہتا ہے۔یہاں کھڑکی سے بر لب باسفورس یورپی کنارے پہ نظر آنے والے ڈولما باہچے محل کے منظر کے علاوہ سب سے دلچسپ چیز   پڑوس میں رہنے والے افراد ہیں،اکثریت مذہبی اور بہترین اخلاق والے ہیں،ہمارے سامنے ایک عبداللہ نام کے ترک بزرگ رہتے ہیں جو آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے اپنا ٹول بکس اٹھا کر ہمارے گھر آ جاتے ہیں اور کوئی نہ کوئی کام اپنی مرضی سے  فی سبیل اللہ کر جاتے ہیں ، اور اس سے متعلق ضروری اشیاء بھی خود ہی خرید لاتے ہیں ایک بار اپنی انگلیاں بھی زخمی بھی کروا بیٹھے مگر باز نہیں آئے۔ آج تک ہمارے گھر سے ایک کپ چائے بھی نوش نہیں فرمائی مگر جیسے ہی  شام کو  گھر واپسی ہوئی تو معلوم ہوا کہ عبداللہ چچا ہم احباب واسطے آج  پنیر کا بنا ہوا  لذیز بوریک گھر دے گئے ہیں۔مالک مکان کی بیوی بھی ایک نہایت اعلی ظرف کی  بزرگ خاتون ہیں ،گزشتہ دنوں اپنے بیٹے کے ہمراہ  کچھ دیر  کو ہمارے ہاں ٹھہریں ،ہم نے اپنی سہولت کے لیے گھر کا کچھ کام کروایا معلوم پڑا  تو اسکے پیسے کرائے میں سے واپس کروائے اور روانگی سے کچھ ہی دیر بعد مزید کارپٹس دے کر اپنے بیٹے کو بھیج دیا ۔ 
یقیناً ہم میں سے ہر کسی کے ساتھ معاملات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہم بلا شبہ کہہ سکتے ہیں یہاں کے مذہبی اور روایتی لوگوں میں آپ ہر گز اجنبیت محسوس نہیں کریں گے۔الحمداللہ ہم یہاں بھی بزرگوں کی نصیحت  و نظر کرم سے محروم نہیں ہیں۔اور بحیثیت مسلم و پاکستانی جو محبت ہم یہاں سمیٹ رہے ہیں اس کے لیے احسان مند ہیں۔
انس اعوان

خط بنام زاہد محمود

0 comments
آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ سیفوکیہ (اعزازی و عارضی) 
استنبول، ترکی

محترم زاہد محمود الخراسانی

ہمارے "مرزا عبدالودود بیگ" امید ہے کہ آپ صحت ایمان، علم اور کاروبار کی بہترین حالت میں ہوں گے. اجی بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہم بھی بخیر عافیت ہیں،جب سے خاکسار پاک سر زمین چھوڑ کر یہاں استنبول آیا ہے گویا دیکھنے اور محسوس کرنے کو تو بہت کچھ میسر ہے مگر یہ دیکھنا اور یہ محسوس کرنا آپ کے مخصوص تہہ در تہہ تبصروں کی آمیزش کے نہ ہونے کے سبب قدرے نا مکمل محسوس ہوتا ہے.اور خدا جانتا ہے کہ "بوجھ کب ناتواں سے اٹھتا ہے". اس سے قبل بھی عاجز کی مکتوب نگاری کا سلسلہ جاری تھا جو پیشہ ورانہ سستی و کاہلی کے سبب جاری نہ رہ سکا. اب کہ ہم سوچتے ہیں کہ  بحالت مجبوری وقت بے وقت کی  انگریزی ہانکنے اور ترک زبان سننے سے کہیں ہماری اردو متاثر نہ ہو جائے، اسی اندیشے کو سامنے رکھتے ہوئے اور صلاحیت کو نکھارنے واسطے بقلم خود عاجز ناچیز خاکسار حاضر خدمت ہے. 
عزیز دوست ماحول کا لطیف اثر طبعیت پہ پڑ نہیں رہا اتر رہا ہے، راہ چلتے کسی کتے کو کنکر اور بلی کو بھگا دینے کو من تیار نہیں ہوتا، چلتے چلتے پھولوں کی کیاریوں سے ہاتھ پھیلائے ہوئے پتوں کو نوچنے، پھولوں کو مسلنے اور ٹہنیوں کے بانک پن کو چھیڑنے پہ طبعیت مائل نہیں ہوتی ہے. جو جہاں ہے جیسے ہے خوبصورت ہے، یہاں مجھے احساسات کی کشیدہ کاری سے  مزین دلکش کواڑ کھولنے کے لیے مکانوں کی لا تعداد قطار میں سے چلتے ہوئے کارخانوں کے دھواں اگلتے آتش فشاؤں کے قریب زرا ہرے بھرے ویرانوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے. شہر استنبول میں تاریخ کی محبت کا فسوں سر چڑھ کر بولتا ہے.اور کچھ جام و بادہ کی طلب بھی محسوس نہیں ہوتی ہے، اور اگر یہ طلب محسوس ہو بھی تو یاد رکھیے یہاں ہماری چائے  دستیاب نہیں ہے، لہذا بس اپنے آپ کو اس شہر کی پر اسرار سرد ہوا کے حوالے کیجیے اور دیکھیے یہ کس طرح تاریخ کے معطر و منور جھرونکوں سے قدیم عشق و محبت  کی وہ خوشبو کشید لائے گی کہ جدیدیت تمام تر شعلہ سامانیوں کے باوجود ہاتھ ملتی رہ جائے.دعاؤں میں یاد رکھیے..!

خاکسار
انس اعوان

مہنگی کرپشن

0 comments

ہمارے ایک دوست درآمد برآمد کا کاروبار کرتے ہیں، استنبول سیر و سیاحت کے لئے تشریف لائے، حالیہ پاکستانی حکومت کے کارہائے نمایاں کو زیر بحث  لاتے ہوئے وہ گویا ہوئے کہ پاکستان کے حالات پہ تو تنزلی ہمیشہ کی طرح جاری ہی. ہے اور کرپشن پہ تو کوئی فرق نہیں پڑا  ہاں البتہ کرپشن مہنگی  ضرور ہو گئی ہے.
بات کچھ عجیب لگی خیر وضاحت کرتے ہوئے کہنے لگے کہ دیکھیے اوپر سے نیچے تک ہر سرکاری محکمے کی صورتحال وہی ہے جو پہلے تھی، لیکن ایک بات زبان زد عام ہے کہ "اوپر سے بہت سختی ہے" اور اسی ہوائی سختی کی مد میں عام رشوت کے ساتھ ساتھ اضافی رقم بھی عوام کی جیب سے نکلوائی جا رہی ہے تاکہ اس "اوپر" سے آنے والی سختی کے اثر کو زائل کیا جا سکے.
یعنی کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ اس کرپشن کے خلاف نام نہاد جنگ کا اضافی بوجھ بھی عوام کی جیب پہ ہی پڑ رہا ہے.اور غریب کی جیب اور پیٹ پہ پڑنا والا ہر ہاتھ بولتا دکھائی دیتا ہے کہ
"اب نہیں تو کب - - - ہم نہیں تو کون"

انس اعوان - استنبول