خط بنام زاہد محمود

0 comments
آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ سیفوکیہ (اعزازی و عارضی) 
استنبول، ترکی

محترم زاہد محمود الخراسانی

ہمارے "مرزا عبدالودود بیگ" امید ہے کہ آپ صحت ایمان، علم اور کاروبار کی بہترین حالت میں ہوں گے. اجی بات کچھ اس طرح سے ہے کہ ہم بھی بخیر عافیت ہیں،جب سے خاکسار پاک سر زمین چھوڑ کر یہاں استنبول آیا ہے گویا دیکھنے اور محسوس کرنے کو تو بہت کچھ میسر ہے مگر یہ دیکھنا اور یہ محسوس کرنا آپ کے مخصوص تہہ در تہہ تبصروں کی آمیزش کے نہ ہونے کے سبب قدرے نا مکمل محسوس ہوتا ہے.اور خدا جانتا ہے کہ "بوجھ کب ناتواں سے اٹھتا ہے". اس سے قبل بھی عاجز کی مکتوب نگاری کا سلسلہ جاری تھا جو پیشہ ورانہ سستی و کاہلی کے سبب جاری نہ رہ سکا. اب کہ ہم سوچتے ہیں کہ  بحالت مجبوری وقت بے وقت کی  انگریزی ہانکنے اور ترک زبان سننے سے کہیں ہماری اردو متاثر نہ ہو جائے، اسی اندیشے کو سامنے رکھتے ہوئے اور صلاحیت کو نکھارنے واسطے بقلم خود عاجز ناچیز خاکسار حاضر خدمت ہے. 
عزیز دوست ماحول کا لطیف اثر طبعیت پہ پڑ نہیں رہا اتر رہا ہے، راہ چلتے کسی کتے کو کنکر اور بلی کو بھگا دینے کو من تیار نہیں ہوتا، چلتے چلتے پھولوں کی کیاریوں سے ہاتھ پھیلائے ہوئے پتوں کو نوچنے، پھولوں کو مسلنے اور ٹہنیوں کے بانک پن کو چھیڑنے پہ طبعیت مائل نہیں ہوتی ہے. جو جہاں ہے جیسے ہے خوبصورت ہے، یہاں مجھے احساسات کی کشیدہ کاری سے  مزین دلکش کواڑ کھولنے کے لیے مکانوں کی لا تعداد قطار میں سے چلتے ہوئے کارخانوں کے دھواں اگلتے آتش فشاؤں کے قریب زرا ہرے بھرے ویرانوں کی ضرورت نہیں پڑتی ہے. شہر استنبول میں تاریخ کی محبت کا فسوں سر چڑھ کر بولتا ہے.اور کچھ جام و بادہ کی طلب بھی محسوس نہیں ہوتی ہے، اور اگر یہ طلب محسوس ہو بھی تو یاد رکھیے یہاں ہماری چائے  دستیاب نہیں ہے، لہذا بس اپنے آپ کو اس شہر کی پر اسرار سرد ہوا کے حوالے کیجیے اور دیکھیے یہ کس طرح تاریخ کے معطر و منور جھرونکوں سے قدیم عشق و محبت  کی وہ خوشبو کشید لائے گی کہ جدیدیت تمام تر شعلہ سامانیوں کے باوجود ہاتھ ملتی رہ جائے.دعاؤں میں یاد رکھیے..!

خاکسار
انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔