انتہائے شوق بمقابلہ انتہائے ذوق

0 comments
انتہائے شوق بھی ہے انتہائے ذوق کو 
انتہائے شوق سے دل کو بیگانہ کیجیئے 
دیکھتے ہیں کس طرح کچھ اس ادا پہ غور ہو 
مجرم کہے گئے ہیں ہم  عائد جرمانہ کیجیئے
عجب سا ہمسفر ملا کہ منزلیں بھی کھو گئیں 
اپنی تلاش کے لیے ہم کو روانہ کیجیئے
ہم پہ بے اثر زہر دوائیں تمام ہو گئیں
اک نئے  درد کے واسطے دل کو توانا کیجیئے
اہل شہر عرصہ ہوا حلقہ بدوش ہوگئے

نوواردانِ شہر سے کوئی دیوانہ کیجیئے

ملک انس اعوان 


https://images2.alphacoders.com/278/278090.jpg

23 مارچ یوم عزم

0 comments

ایک مستقل خاموشی کے بعد ایک آواز فضا میں بلندہوتی ہے خاموشی کا بند ٹوٹتا ہے اور اس آواز کی حمایت میں ہزاروں آوازیں یک جان ہو کر لبیک کی صدا بلند کرتے ہوئے میدان میں سنائی دیتی ہے ،چاروں جانب شور اٹھتا ہے، گرد اڑتی ہے اور سرخ خونی آندھیاں چلنے لگتی ہے ۔ کچھ دیر بعد اندھیرے میں روشنی کی ایک ننھی سی کرن پھوٹتی ہے غلامی کا طوق گلے سے ٹوٹ کر قدموں میں آ گرتا ہے ۔لٹی عصمتیوں اور کٹے جسموں کی یادیں دل میں لئے سینکڑوں قافلے ایک ایسی منزل کی جانب چل دیتے ہیں جہاں سے امید اور خوشی کی خوشبو پھوٹ رہی ہوتی ہے۔وہ کوشش وہ جستجو وہ لگن جنت کو پا لینے کی تھی کہ جس میں سکون اور اطمنان ہو،امن و آشتی ہو،بھائی چارہ ہو،اخوات ہو،محبت ہو اور سب سے بڑھ کر اسلام ہو۔ سو پتا چلا کہ وہ پہلی آواز جو میدان میں بلند کی گئی جس کے گرد لاکھوں پروانے اکٹھتے ہوتے چلے گئے وہ دل سوز اور دلگیر آواز "لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ" کی آواز تھی۔وہی آواز جسے فرزندان توحید اپنا عقیدہ مانتے ہیں میدان میں اتر تی ہے تو اپنی کوکھ سے "نظریہ پاکستان" کو جنم دیتی ہے۔عصمتوں اور جسموں کے مینار بنائے جاتے ہیں مگر اس عقیدے کے ماننے والے اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹتے اور زمین کے درمیاں ایک حد قائم کر دی جاتی ہے ، یہ تقسیم کوئی زمینی تقسیم نہ تھی بلکے حق اور باطل کی تقسیم تھی۔طے ہوا کہ حق اس جانب رہے گا اور باطل دوسری جانب۔اسی عقیدے کے نوزائیدہ نظریے کی بنیاد پر قائم اس خطہ ارضی کو پاکستان کا نام دیا گیا یعنی پاک جگہ۔ وقت گزرتا گیا آج 23 مارچ 2016 کا سورج طلوع ہو چکا ہے۔باہر سورج کی روشنی پھیل چکی ہے اور لوگ یوم دفاع پاکستان منا رہے ہیں ۔ میں ٹی وی سکرین آن کرتا ہوں ۔ پہلے پاکستان کا ایک نیوز چینل لگاتا ہوں اور پھر کچھ دیر بعد بھارت کا ایک چینل لگا لیتا ہوں دونوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا ، میں ٹی وی بند کر کے باہر گلی میں کھیلتے بچوں کو دیکھنے لگتا ہوں جن کے بالوں کے سنوارنے اور انکے پہنے ہوئے لباس پر بھی بھارت کی چھاپ دکھائی دیتی ہے ، میں وہاں سے سڑک پہنچتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ چند مرد و خواتین بیچ سڑک ہاتھوں میں بینر پکڑے نظر آتے ہیں جس پر سیکولر پاکستان کا مطالبہ درج ہوتا ہے ، میں وہاں سے چلتا چلتا جابجا عبرت کے مناظر دیکھتے ہوئے اپنے گھر میں آ بیٹھتا ہوں اور سوچنے لگتا ہوں کہ کیا ہم آج بھی متحدہ برصغیر میں رہ رہے ہیں ؟ وہی طور اطوار ، وہی انداز وہی ثقافت کچھ بھی تو نہیں بدلا ہے مگر کچھ تو بدلا ہے! کچھ ایسا کہ جس نے اس مملکت خداداد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہےاور چاروں جانب سے جکڑ رکھا ہے ۔ اس کی پکڑ اس قدر مضبوط ہے کہ اسلام کا دم بھی ایک ایسی ریاست کے اندر گھٹ رہا ہے جس کے حصول کا مقصد ہی اسلام کا نفاذ رہا ہے ، جس کا مقصد جس کا منہج جس کا معیار فقط وہ نظام ہے جس نے آج سے 1400 سال پہلے مکہ کی گلیوں سے نکل کر ایک عالَم کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔میری چشم تصور کے سامنے وہ ہزاروں خون آلود لاشیں اپنی جانب اشارہ کرتی ہوئی محسوس ہوئیں جو مجھ سے اپنی قربانیوں کا صلہ مانگ رہی تھیں ۔وہ پوچھ رہیں تھیں کہ ائے فرد ملت اسلامیہ بتا کہ کیا ایسے پاکستان کے لئے ہم نے اپنی لاشوں کے ٹکڑے کروائے ؟ انکے سوالات تو شاید اگر محسوس کیے جائیں تو ہمارے کلیجے چیر کر رکھ دیں ۔مگر دیر کہاں ہوئی ہے ابھی کونسا وقت گزرا ہے! ابھی تو ہماری رگوں میں خون باقی ہے اور گردن پہ سر سلامت ہیں۔ آئیں اور میدان عمل میں کود جائیں نظریہ پاکستان کے مقدمے کے مدعی بن جائیں اور اس مقدمے کو اپنی اپنی حیثیت میں جہاں جہاں اور جیسے بھی ممکن ہو پیش کریں ، لوگوں کی ذہنوں کی عدالت میں یہ مقدمہ پیش کریں اور وہاں مکالمے کو فروغ دیں۔ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اس ملک کا ایک ایک بچہ ،بوڑھا اور جوان اس مقدمے میں پاکستان کا مدعی بن جائے گا۔پھر مدینہ کی ریا ست کا وہ نقشہ کہ جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا تکمیل کو مراحل کو چھونے لگے گا ۔ اوراس دن واقعی ہم فخر اور دینی حمیت کے ساتھ یوم دفاع پاکستان منا سکیں گے۔ ایسا پاکستان جس جس کی نظریاتی سرحدیں اس کی زمینی سرحدوں سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہوں گی اور وہ وقت ہمارا مقدر ہے ۔انشاءاللہ
تحریر
انس اعوان

اندر کا کافر

0 comments

بارش کی ہلکی ہلکی سی آواز بھی کانوں میں شور پیدا کر رہی تھی. اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے وہی مانوس سا منظر،ساتھ والے پلنگ پر کپڑے اور دیگر سامان بکھرا پڑا تھا جو بتا رہا تھا کہ ساتھی صبح سویرے ہی آبائی شہر روانہ ہو چکے ہیں. کمبل اٹھا کر ایک جانب رکھتا ہوں اور جوتے پہن کر باہر ہاسٹل کے چوبارے سے بارش کو گرتا ہوا دیکھنے لگتا ہوں. غور کرنے کے باوجود بھی بارش محض بارش ہی رہتی ہے، نہ اسکا رنگ بدلتا ہے اور نہ ہی اس کے قطرے کوئی خاص معانی و مفہوم پیدا کر پاتے ہیں. وہی پانی والی بارش، وہی بازار اور اس میں آنے جانے والے لوگ، سیمنٹ کے بنے ہوئے مکانات، الجھے ہوئے بجلی کے تار سب کچھ ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا وہ ہے. عجیب خالی جالی پن تھا جیسے طبعیت میں کچھ باقی رہ گیا ہو. وقت دیکھتا ہوں تو ابھی صبح کے صرف 7 بج رہے تھے. واپس بستر میں جاتا ہوں اور مسکراتے ہوئے آنکھیں بند کر لیتا ہوں کہ
"صد شکر آج اندر کا کافر سو رہا ہے".

ملک انس اعوان

نیلی سفاک وحشت

2 comments
 چاروں جانب زندگی رواں دواں تھی لوگ آرہے تھے جا رہے تھے لیکن میں کسی دوست کی مانگ کرلائی ہوئی موٹر سائیکل کے ساتھ ٹیک لگا کر موچی کو دیکھ رہا تھا جو میرے دوسری یا تیسری بار ٹوٹ جانے والے سینڈل کو انہماک سے سی رہا تھا۔وہ جس رفتار سے کام کر رہا تھا لگ رہا تا کہ مزید 20 منٹ اسی کام میں صرف ہوں گے چناچہ میں وقت گزارنے کے لئے ارد گرد دیکھنے  لگتا ہوں ،پہلی نظر اپنی  کلائی والی  گھڑی پر پڑتی ہے جو نیا سیل نہ ڈلوانے کی وجہ سے بند ہو چکی تھی اور اس کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا، یہ سوچ کر کلائی جھٹک کر گھڑی  کے ڈائل کو دوسری جانب گھما دیا کہ جب وقت ملا تو اسے بھی صحیح کروادوں گا۔ نظریں اٹھاتا ہوں تو سامنے چند برقعہ پوش خواتین کو دیکھتا ہوں جو اپنے بچوں کے ساتھ سبزی کی خریداری میں مشغول تھیں تو مجھے ناجانے کیوں گھر کا خیال آتا ہے۔اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل موبائل نکالتا ہوں مگر پھر کچھ سوچ کر موبائل واپس جیب میں رکھ دیتا ہوں ۔اپنی عینک اتارتا ہوں اور اس کے پرانے اور بھدے شیشوں کو قمیض کے گھیرے سے صاف کرنے لگتا ہوں ۔ صاف کرنے کے بعد آنکھوں پر ٹکاتا ہوں اور آسمان کی جانب دیکھتا ہوں  کہ ہلے بادلوں کےدرمیان سے سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے اور اسی لمحے مجھے  دھوپ کی شدت کا احساس مزید زیادہ ہو جاتا ہے  اور میں وہاں سے اٹھ کر مسجد کے دروازے کے پاس چھاؤں میں بیٹھ جاتا ہوں ۔مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ ہی ایک افغانی مہاجر بچہ چھوٹے چھوٹے چوزوں  کے ساتھ کھیل رہا تھا میں اس بچے سے نہایت ہی پیار سے  پوچھتا ہوں کہ بچے کیا کر رہے ہو تو وہ میری جانب دیکھتا ہے اپنی بڑی بڑی گول آنکھوں کو مجھ پر ٹکاتا ہے اور ایسے تاثرات دکھاتا ہے  کہ گویا وہ میری زبان سمجھ نہیں پایا لیکن دوسرے کی لمحے اس کی زبان حرکت میں آتی ہے  اور وہ فارسی زدہ لہجے میں کہتا ہے کہ  یہ چوز اکتنے کا خریدو  گے؟

یہ سننا شاید میرے بس  کا کام نہیں تھا، ہائے یہ غربت جو بچوں سے معصومیت تک چھین لیتی ہے  اور محبت اور الفت تک کی قیمت  لگا دیتی ہے ۔اس بچے کی عمر مشکل سے 5 سال کی ہوگی لیکن وہ مجھ جیسے یونیورسٹی کے طالب علم سے  اس پیار کی قیمت طے کر رہا تھا جو ایک چوزے کی صورت میں اس کے ننھے ہاتھوں میں موجود تھا۔ میں جھرجھری لیتا ہوں ، موچی سے سینڈل لے کر اپنے دوست کی موٹر سائیکل  پر جلدی جلدی اس جگہ سے نکل جاتا ہوں ۔ہاں اگر  میں پیدل ہوتا تو اس مادہ پرست جگہ سے بھاگ جاتا کیونکہ مجھے اس کی نیلی آنکھوں سے وحشت ہونے لگی تھی ۔ نیلی سفاک وحشت

ملک انس اعوان


عکس

0 comments

ہم اسکو رات بھر راز کی باتیں بتاتے ہیں

نئی منزل نئے رستے نئی راہیں دکھاتے ہیں

الجھے پانیوں میں عقل کی کشتی چلاتے ہیں

ہم اسکو دور سے امید کے ساحل دکھاتے ہیں

وہ کہتا ہے سنو تم سے تو برسوں کی رفاقت ہے

بتاؤ کون ہو تم اور یہ کیسی رفاقت ہے

میں کہتا ہوں سنو ہم خواب کے پیکر بناتے ہیں

خودی سے پیار کرتے ہیں خودی سے روٹھ جاتے ہیں

ملک انس اعوان