ہم اسکو رات بھر راز کی باتیں بتاتے ہیں
نئی منزل نئے رستے نئی راہیں دکھاتے ہیں
الجھے پانیوں میں عقل کی کشتی چلاتے ہیں
ہم اسکو دور سے امید کے ساحل دکھاتے ہیں
وہ کہتا ہے سنو تم سے تو برسوں کی رفاقت ہے
بتاؤ کون ہو تم اور یہ کیسی رفاقت ہے
میں کہتا ہوں سنو ہم خواب کے پیکر بناتے ہیں
خودی سے پیار کرتے ہیں خودی سے روٹھ جاتے ہیں
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔