نیلی سفاک وحشت

2 comments
 چاروں جانب زندگی رواں دواں تھی لوگ آرہے تھے جا رہے تھے لیکن میں کسی دوست کی مانگ کرلائی ہوئی موٹر سائیکل کے ساتھ ٹیک لگا کر موچی کو دیکھ رہا تھا جو میرے دوسری یا تیسری بار ٹوٹ جانے والے سینڈل کو انہماک سے سی رہا تھا۔وہ جس رفتار سے کام کر رہا تھا لگ رہا تا کہ مزید 20 منٹ اسی کام میں صرف ہوں گے چناچہ میں وقت گزارنے کے لئے ارد گرد دیکھنے  لگتا ہوں ،پہلی نظر اپنی  کلائی والی  گھڑی پر پڑتی ہے جو نیا سیل نہ ڈلوانے کی وجہ سے بند ہو چکی تھی اور اس کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا، یہ سوچ کر کلائی جھٹک کر گھڑی  کے ڈائل کو دوسری جانب گھما دیا کہ جب وقت ملا تو اسے بھی صحیح کروادوں گا۔ نظریں اٹھاتا ہوں تو سامنے چند برقعہ پوش خواتین کو دیکھتا ہوں جو اپنے بچوں کے ساتھ سبزی کی خریداری میں مشغول تھیں تو مجھے ناجانے کیوں گھر کا خیال آتا ہے۔اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل موبائل نکالتا ہوں مگر پھر کچھ سوچ کر موبائل واپس جیب میں رکھ دیتا ہوں ۔اپنی عینک اتارتا ہوں اور اس کے پرانے اور بھدے شیشوں کو قمیض کے گھیرے سے صاف کرنے لگتا ہوں ۔ صاف کرنے کے بعد آنکھوں پر ٹکاتا ہوں اور آسمان کی جانب دیکھتا ہوں  کہ ہلے بادلوں کےدرمیان سے سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے اور اسی لمحے مجھے  دھوپ کی شدت کا احساس مزید زیادہ ہو جاتا ہے  اور میں وہاں سے اٹھ کر مسجد کے دروازے کے پاس چھاؤں میں بیٹھ جاتا ہوں ۔مسجد کی سیڑھیوں کے ساتھ ہی ایک افغانی مہاجر بچہ چھوٹے چھوٹے چوزوں  کے ساتھ کھیل رہا تھا میں اس بچے سے نہایت ہی پیار سے  پوچھتا ہوں کہ بچے کیا کر رہے ہو تو وہ میری جانب دیکھتا ہے اپنی بڑی بڑی گول آنکھوں کو مجھ پر ٹکاتا ہے اور ایسے تاثرات دکھاتا ہے  کہ گویا وہ میری زبان سمجھ نہیں پایا لیکن دوسرے کی لمحے اس کی زبان حرکت میں آتی ہے  اور وہ فارسی زدہ لہجے میں کہتا ہے کہ  یہ چوز اکتنے کا خریدو  گے؟

یہ سننا شاید میرے بس  کا کام نہیں تھا، ہائے یہ غربت جو بچوں سے معصومیت تک چھین لیتی ہے  اور محبت اور الفت تک کی قیمت  لگا دیتی ہے ۔اس بچے کی عمر مشکل سے 5 سال کی ہوگی لیکن وہ مجھ جیسے یونیورسٹی کے طالب علم سے  اس پیار کی قیمت طے کر رہا تھا جو ایک چوزے کی صورت میں اس کے ننھے ہاتھوں میں موجود تھا۔ میں جھرجھری لیتا ہوں ، موچی سے سینڈل لے کر اپنے دوست کی موٹر سائیکل  پر جلدی جلدی اس جگہ سے نکل جاتا ہوں ۔ہاں اگر  میں پیدل ہوتا تو اس مادہ پرست جگہ سے بھاگ جاتا کیونکہ مجھے اس کی نیلی آنکھوں سے وحشت ہونے لگی تھی ۔ نیلی سفاک وحشت

ملک انس اعوان


2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔