تصوف کا وہ معنی جو میں نے اپنے ارد گرد دیکھا اود محسوس کیا وہ تو فقط بنیادی اسلامی فرائض خاص طور پر ایسے فرائض جن کا تعلق معاشرت و معیشت سے ہے بھاگنا ہے۔آپ اسے رہبانیت بھی قرار دے سکتے ہیں ۔حلانکہ اسلام میں 25 فیصد عبادات اور 75فیصد معاشرت ہے۔گو کہ اب تصوف اس 75فیصد سے جان چھڑانے کا سہل اور اس معاشرے میں قابل قبول ترین طریقہ ہے۔
یقین اور تصوف :
انسان کو اس طرح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس میں کسی ایک طاقت کے ہونے کا "یقین " موجود ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب میں بھی اسی طاقت کو مختلف نام دیے گیے ہیں۔گو انسان کی اصل طاقت تو یقین ہے کیونکہ ہم جس چیز کا یقین کر لیتے ہیں وہ ہماری نظروں اور دماغ کی نظروں میں ہوتا دکھائ دیتا ہے یا ہم اس کے وجود کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔یہاں تک کہ جدید طب نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے جب شفاء کا یقین مریض کو ہو جائے تو اس کی صحت جلدی درستی کی جانب بفھتی ہے ۔اب اسی بات کو تصوف سے ملاتے ہیں تصوف کا بھی پہلا قدم یقین ہی ہے کہ ہم کسی بھی ہیت کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔اسی تسلیم کرنے کے ساتھ ہی ہمیں وہ سب ہوتا دکھائ دینے لگتا ہے جو بظاہر نہیں ہوتا۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کا میعار کیا ہے؟
ہے ناں!!
اللہ کی کتاب۔۔
انسان کو اس طرح تخلیق کیا گیا ہے کہ اس میں کسی ایک طاقت کے ہونے کا "یقین " موجود ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب میں بھی اسی طاقت کو مختلف نام دیے گیے ہیں۔گو انسان کی اصل طاقت تو یقین ہے کیونکہ ہم جس چیز کا یقین کر لیتے ہیں وہ ہماری نظروں اور دماغ کی نظروں میں ہوتا دکھائ دیتا ہے یا ہم اس کے وجود کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔یہاں تک کہ جدید طب نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے جب شفاء کا یقین مریض کو ہو جائے تو اس کی صحت جلدی درستی کی جانب بفھتی ہے ۔اب اسی بات کو تصوف سے ملاتے ہیں تصوف کا بھی پہلا قدم یقین ہی ہے کہ ہم کسی بھی ہیت کو تسلیم کر لیتے ہیں ۔اسی تسلیم کرنے کے ساتھ ہی ہمیں وہ سب ہوتا دکھائ دینے لگتا ہے جو بظاہر نہیں ہوتا۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کا میعار کیا ہے؟
ہے ناں!!
اللہ کی کتاب۔۔
عشق کا کلیہ:
عشق کا متضاد نفس ہے اور نفس کا متضاد عشق۔
اسی کو ذہن نشین رکھا جائے تو جہاں آپکا نفس آپکے عشق میں داخل ہو تو ایک ہی بات ممکن ہے کہ آپ کا عشق درست نہیں ہے اور آپ بھٹک گئے ہیں۔
عشق تب تک ہی ہے جب تک وہ نفس کی ضد ہے۔
عشق کا متضاد نفس ہے اور نفس کا متضاد عشق۔
اسی کو ذہن نشین رکھا جائے تو جہاں آپکا نفس آپکے عشق میں داخل ہو تو ایک ہی بات ممکن ہے کہ آپ کا عشق درست نہیں ہے اور آپ بھٹک گئے ہیں۔
عشق تب تک ہی ہے جب تک وہ نفس کی ضد ہے۔
تحریر
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔