ہم نے ایک چیز محسوس کی ہے کہ ہمارے دائیں بائیں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کہ جو پہلے تو ذہنی طور پہ درست ،اور اپنے روز مرا کے کام احسن طریقے سے سرانجام دے رہے ہوتے ہیں لیکن کچھ عرصے بعد وہ اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں ۔
اس حوالے سے دلچسپی ہونے کے باعث جب ایسے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو کچھ نے تو بات کرنے سے ہی انکار کر دیا اور کچھ کی حالت ایسی بگڑ چکی تھی کہ وہ کچھ بھی بیان کرنے سے قاصر تھے۔چند ایسے تھے جو کچھ نا کچھ بتانے پر راضی ہوئے اور نکلا کیا۔۔۔۔۔!!!
گھر ،بچوں اور رشتہ داروں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات یا گہرے صدمات۔۔
لیکن ایک چیز جس پر ہمیں سوچنا چاہیئے وہ یہ ہے کہ معاشرے میں برداشت کا رویہ پیدا کرنا۔ہم بحیثیت قوم بہت جلد ہی رد عمل دینے کے عادی ہیں اور یہی سوچ ایک عام فرد تک راسخ ہو چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ دین سے دوری بھی ہے۔ دین سے مراد صرف اسلام ہی نہیں کوئی مذہب ہو اس کا انسان پر ایک گہرا اثر ہوتا ہے۔کسی چیز پر یقین رکھنے سے انسان مضبوط ہو جاتا ہے اور اس میں برداشت کا حوصلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔
آخر میں ایسے افراد کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہی افراد نشہ فروخت کرنے والے مافیا کا شکار بن جاتے ہیں ۔اور پھر ایسے ہی کسی روز ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر کی لاش چوک کی نکڑ پر پڑی ملتی ہے اور دائیں بائیں انکے پڑھائے ہوئے گاڑیوں والے انکے طالب علم چند لمحے کو رکتے ہیں حقارت بھری نگاہوں سے لاش کو دیکھتے ہیں اور چل دیتے ہیں۔۔۔۔
تحریر











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔