یہ بچے سب کے سانجھے ہیں

0 comments

 کہے جاؤ ،سنے جاؤ
تکلف میں نہیں آنا
برابر خون بہتا ہے
سربازار بکتا ہے
خریدارو بتاؤ تو
کوئی میزان رکھا ہے؟
یہ بچے سب کے سانجھے ہیں
لہو کا ایک سا ایک سا رنگ ہے
مقرر کر دیے تم نے
الگ اپنے سے پیمانے
کسے تم ظلم کہتے ہو
کسے  تم جرم کہتے ہو
کبھی پوچھا خدا سے بھی
کبھی اس کے صحیفے سے
کسے اسلام کہتے ہیں؟
کسے ایمان کہتے ہیں؟
مفقل سوچ کی ندیا
کھڑا ہے حوش کا پانی
فکر سے ہر ذہن عاری
محبت کی جہانگیری
انا سے چوٹ کھاتی ہے
مجھے کہسار کی بیٹی
بڑی غمگین لگتی ہے
کہ جس کے گھر قیامت ہو
نہ در کا جس کا سلامت ہو
جو دونوں طرف سے یک دم
بڑی انجان ٹھہری ہو
وہ اکثر سوچتی ہوگی
وہاں بھی تو بہاروں کا گزر ہوگا
وہاں بھی ساتھ کے گھر میں بڑا کوئی شجر ہوگا
وہاں بھی شام کو بچے گلی میں کھیلتے ہوں گے
اٹھا کر سرخ سی وہ گیند گھروں میں دوڑتے ہوں گے
سنا ہے مائیں تو سب کا درد محسوس کرتیں ہیں
ظلم سے روکتی ہیں انصاف پہ مجبور کرتیں ہیں
سنو! لوگوں یہاں بھی کئی گھر آبار رہتے ہیں
یہاں بھی کھیل میں اکثر وہ بچے چوٹ کھاتے ہیں
یہاں تو صبح شام ان پر بڑے شعلے برستے ہیں
یہاں تو آگ میں اکثر یہ بچے غسل کرتے ہیں
سجا کر کفن مین اکثر ہم ان کو دفن کرتے ہیں
مگر اتنا فرق ہے کہ ہماری خبر نہیں آتی
کوئی اینکر یہاں لایئو کوریج دینے نہیں آتی
وہ اینکر جو زرا سی بات پر ہے چیخنے لگتی
میرے بچوں کی لاشوں پر کبھی رونے نہیں آتی
مگر مجھکو یقیں ہے خدا کا چینل دیکھتا ہوگا
وہ اپنے نام لیواؤں کا حشر دیکھتا ہو گا
وہ اک دن صاف کردے گا فرق حق و باطل کا
وہ چہرے سے الٹ دے گا نقاب ہر ایک عادل کا
پھر اس دربار عالی میں کھلے گا راز مقتل کا
گھسیٹ کرلایا جائے گا جسم ہرایک عاقل کا
پھر میرے بچے خون میں ڈوبی ہوئی انگلیاں اٹھائیں گے
کون تھا قاتل یہ دنیا کو بتائیں گے
سنا ہے ظلم اپنے ظلم ہی کے ساتھ اٹھتا ہے
وہ جس کا ہو دینا میں اسی کے ساتھ اٹھتا ہے
تو سوچو۔۔۔۔!
کس طرف اپنا بسیرا ہو
کہیں ایسا نہ ہوں پھر قبر میں گہرا اندھیرا ہو

ملک انس اعوان












0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔