میری ماں میری بہترین دوست

0 comments
مجھے یہ کہتے ہوئے کبھی شرم محسوس نہیں ہوتی کہ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے ۔کیونکہ رشتوں اور مجبوریوں کی جو کشمکش اس طبقے میں پیش آتی ہے وہ شاید ہی کہیں اور دیکھنے کو ملے۔اور ایسے گھرانوں میں والد کے بعد ایک ماں کو مرکزی کردار حاصل ہوتا ہے۔
میرے زبان سے نکنے والے اولین الفاظ سے لے کر آج تک میرے زبان سے ادا ہونے والےتمام تر الفاظ پر میری امی جی کی چھاپ ہے اور یہ انہی کی مرہون منت ہے۔بڑا بیٹا ہونے کے ناتے جو توجہ مجھے ملی وہ گھر میں میرے دوسرے بھائی کو نہ مل سکی۔میں بچپن میں گھر سے باہر نہیں جایا کرتا تھا چناچہ اپنی والدہ (امی جی) کے ساتھ کچن میں کام میں ہاتھ بٹواتا،ان سے لمبی لمبی بے تکی باتیں کیا کرتا اور خوب تنگ کیا کرتا لیکن امی بس مسکرا کر میری اگلی بات سننے کو تیار ہو جاتیں۔خاص طور پہ جب امی کھانا پکا رہی ہوتیں تو سب سے پہلے نمک مرچ کا معائینہ کرنے کے لیے مجھے بلاتیں اوریہ سلسلہ تب خاص اہمیت حاصل کرتا جب کوئی مہمان آ رہا ہوتا تب بھی ذائقہ کے معائینے کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈال دی جاتی۔میری خاہواہش ہوتی تھی کہ میں والدہ کے پاس بیٹھ کر باورچی خانہ میں ہی بیٹھ کر کھانا کھاؤں۔
مالی حالات کیسے بھی ہوں مجھے شہر کے بہترین سکول میں داخلہ دلوایا گیا اور فی زمانہ مجھے بہترین سہولیات فراہم کی گئیں۔میری امی جی سے میرا تعلق صرف ایک ماں بیٹے کا ہی نہیں بلکے ایک دوست کا بھی ہے ۔میں سکول میں دن بھر جو کیا کرتا واپس آ کر اپنی والدہ کو بتا دیا کرتا اور مختلف چیزوں کے حوالے سے رائے طلب کیا کرتا۔یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ جس روز میں والدہ کو سکول کی کارستای سے آگاہ نہ کیا کرتا وہ خود پوچھ لیتیں کہ"انس بیٹا!  آج آپ نے سکول میں کیاکیا؟" 
اپنے سب دوستوں سے متعلق والدہ کو آگاہ کرتا اور رائے لیتا۔ میری والدہ نے ابتدا سے ہی مجھے پر اعتماد کر کے مجھے قابل اعتماد اور ذمہ دار بننے میں مدد کی۔شروع ہی سے چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں مجھ پر ڈال دیتیں ۔بہت ہی چھوٹی عمر سے میں دکان سے گھر کا سودا سلف لے آیا کرتا جس پر دکان دار بھی حیران ہو جایا کرتے۔جب سکول ختم ہوا تو پھر شہر کے بہترین کالج میں داخلہ دلوایا دیا گیا اور میری ہر جائز ضرورت کو میرے بغیر کہے پورا کیا جاتا رہا، مجھے اپنے شہر سے باہر بھیجا جاتا اور گرمیوں میں والدہ کسی پر فضا مقام پر بھیج دیا کرتیں۔مجھے کھل کر میری صلاحیتیوں کو آزمانے کے مواقع فراہم کیے،میری خواہش کو اپنی خواہش پر ترجیع دی اور ہمیشہ ایک دوست کی طرح مجھے سمجھنے کی کوشش کی،آج CIIT ATTOCKمیں پڑھنے کے باوجودمجھے اپنی کسی بھی قسم کی ذاتی بات اپنی والدہ کو بتانے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔
میں کہیں بھی جاؤں تو اپنی والدہ کو ساری تصاویر دکھا لینے تک میری روح کو سکوں نہیں ملتا۔میں آج اپنی ماں سے بہت دور بیٹھا ہوں لیکن جیسے ہی آج صبح میں نے امی کو کال کی تو مجھسے بات کرتے ہوئے وہ دوسرے فقرے پر آب دیدہ ہو گئیں ۔اور زیادہ دیر بات نہ کر سکیں ۔
دنیا میں ایسا کوئی رشتہ نہیں جو ماں کا متبادل ہو۔ماں قسمت والوں کو ملا کرتی ہے ۔ اور ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ اپنے گھر میں موجود اس جنت کو بھلائے بیٹھے ہیں۔کیونکہ ہم بڑے ہو گئے ہیں۔کاش میں ماضی کے اوراق جن مِیں میں نے والدہ کی حکم عدولی کی ہے بدل سکتا۔۔کاش میں پھر سے بچپن میں لوٹ سکتا۔ اور اپنی والدہ  کی بازو پہ سر رکھ کے سو سکتا اور انکی آنکھوں میں جھانک کر کہہ سکتا کہ 
"امی آپکی آنکھوں میں میری تصویر نظر آ رہی ہے"
"I love you Ami Ji"

تحریر
ملک انس اعوان 
Twitter:AnasInqilabi

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔