مزاح نگاری کے حوالے سے میرا موقف عام اکثریت سے
زرا مختلف ہے۔آج کل ہمارے ٹی وی چینلز پر مزاح کی جو صورت دکھائی جا رہی ہے اسے
مزاح نگاری نہیں بلکہ نقالی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ چونکہ مزاح نگاری ایک پیچیدہ
اور انتہائی دقیق قسم کا فن ہے اس لیے لوگوں نے اس کے سب سے کمزور پہلو یعنی نقالی
کو پکڑ رکھا ہے۔ کچھ سال پہلے نقالی برائے مزاح کی جاتی تھے اور اب مزاح برائے
نقالی کیا جاتا ہے۔اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کا ہے کیونکہ
پاکستانی میڈیا میں یہ ٹرینڈ لانے کا سہرا انہی کو جاتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ
ٹی وی سکرین سے لے کر کسی یونیورسٹی کے عمومی فنگشن (تقریب) تک مزاح بہت سمٹ کر رہ
گیا ہے ،تخلیقی اور با مقصد مزاح نگاری قریباً معدوم ہو چلی ہے۔ہمارے سامنے سب سے
بہترین مثال اکبر الہ آبادی کی ہے کہ جنھوں نے برطانوی دور میں حساس ترین موضوعات
کو انتہای نفاست اور باریکی کے ساتھ اس طرح اپنی شاعری کے زریعے عوام تک پہنچایا
کہ فرنگی سرکار کو خبر تک نہ ہوئی۔ اور رہی بات آج کل کے مزاحیہ شعراء اکرام کی تو
انکی شاعری لڑکا ،لڑکی، ساس ،بہو اور ہمسائی کے تصور سے ہی باہر نہیں نکل سکی لیکن
چند لوگ ایسے بھی ہیں کہ جواس حوالے سے مثبت کام کر رہے ہیں ۔ اب آ جائیے فنون
لطیفہ کے ایک اور اہم شعبے "اداکاری" کی طرف کہ اس میں فحاشی اور عریانی
نے اسے فقط ایک مخصوص طبقے تک محدود کر دیا ہے۔
جبکہ ماضی میں ہمارے سامنے اندھیرا اجالہ، ففٹی ففٹی اور دیگر میعاری
مزاحیہ ڈرامے پاکستان کی پہچان رہے ہیں۔ معین اختر جیسے بہترین اداکار رہے ہیں کہ
جو اپنے فرضی کردار میں حیقیت سے زیادہ اتر جایا کرتے تھے ۔ایک روز ہمارے جامعہ (
یونیورسٹی) میں مقابلہ تقریر منعقد کیا گیا۔اب جو مزاحیہ تقریر کا مرحلہ شروع ہوا
تو میعار دیکھتے ہوئے ہمارے ایک نہایت ہی شفیق استاد پروفیسر مفتی عبدالواحد نے
بطور جج اپنے اختیارات ہمارے محترم پروفیسر ریاض دانش کے حوالے کر دیے کیونکہ وہ
ایسی مزاح نگاری کی تاب نہ لا سکتے تھے۔ پھر جو حال ہمارے طالب علم دوستوں نے مزاحیہ فن تقریر کے ساتھ کیا بس اللہ کی
پناہ۔اسی دوران ہمارے وہ استاد محترم جو دوسرے جج کو طور پر اپنے فرائض سر انجام
دے رہے تھے بڑی پر معنی آنکھون سے میری جانب دیکھ رہے تھے۔ اس دوران دونوں جانب سے
داد و تحسین کا ایک شور اٹھ رہا تھا۔ایسا شور کہ جو ہمارے معاشرے کی اخلاقی قدروں
کو پامال کیے جا رہا تھا اور مشرقی تہذیب کے منہ پر طمانچے رسید کر رہا تھا۔
تحریر
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔