میں ہار گیا

0 comments
اس نے مجھسے کہا کہ تم ہار جاؤ گے واپس آ جاؤ لیکن میں نے کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ہار مان لینے سے انکار کیا اور مقابلہ کرنے کی ٹھان لی۔ میں ایک لمحے کو رکا اور گرد آلود قدموں کی جانب دیکھا کچھ سوچا اور قدم بڑھا دیا،پیچھے سےایک اورمانوس آواز نے مجھے متوجہ کرنا چاہا لیکن میں نے نظر انداز کر دیا۔ ناجانے مجھے اپنے قدم اتنے بھاری کیوں محسوس ہو رہے تھے۔میں نے تیز چلنا چاہا تو دونوں جانب کھڑے لوگوں کی کاٹ دار آوازوں نے میری سماعت کو چیر کر رکھ دیا۔میں ہار مان لینے والوں میں سے نہیں تھا ۔مجھے تو کچھ کر دکھانا تھا۔ مجھے تو ان ہزاروں بے نام پتھروں  کو نام دینے تھے اور انسے آپنی پہچان ثابت کرنی تھی۔میں تو وہ تھا کہ جو ڈٹ جانے والا تھا۔آخری دم تک لڑ جانے والا تھا۔اپنی ضد کا پکا تھا۔لیکن میری ہمت جواب دے گئی میں گر پڑا اور ایک طویل نیند کے بعد جب آبکھ کھلی تو خود کو ایک اور جگہ پایا ۔
میں نے پایا کہ میں شکست تسلیم کر چکا تھا۔ہاں" انس اعوان"  تم ہار چکے تھے۔ہار چکے تھے ان ہزاروں لوگوں سے جو تمہارے مقابل تو تھے لیکن تمہارے مقابلے کے نہیں تھے۔تم نے شور کو آوازوں پر ترجیع دی۔تم نے کھو دیا وہ سب کچھ جو صرف تمہارا تھا وہی جو اور کسی کا ہو ہی نہیں سکتا۔اور پھر  شور اٹھا
تم ہار گئے!
تم ہار گئے!
تم ہار گئے!

اور میں مصلحت کا شکار ہو گیا۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔