ہم زندگی سے زیادہ اس زندگی کے ساتھ آنے والی چیزوں سے ڈرتے ہیں اور عمومیً آخری حد تک ان سے بچنے کے تگ دو کرتے ہیں۔ہم سوچتے ہیں کہ شاید ابھی ہم اپنی آنکھوں کو بند کریں گے اور پریشانیوں کا سیلاب ہمارے پاس سے ہو کر گزر جائے گا اور جب ہم آپنی آنکھوں کو وا کریں گے سامنے وہی خوشنما منظر ہمارے منتظر ہوں گے جن کو آخری بار ہم اپنے آس پاس چھوڑ گئے تھے۔
لیکن حقیقت کچھ اور ہوتی ہے ۔منظر کچھ اور ہوتے ہیں اور ایک اور کہانی کا آغاز ہو چکا ہوتا ہے۔ایسی کہانی کہ جس کے سب کردار ہماری مرضی و منشاء اور ہماری متوقع کہانی کے الٹ کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں۔سب کچھ ہماری چاہت کے خلاف ہوتا ہے لیکن ہم پھر بھی اسی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں چاہتے ہوئے اور نا چاہتے ہوئے ۔تو شکوہ کیسا اور شکایت کیسی؟؟
جو بیت گیا سو بیت گیا،اب کیوں نہ اس موجودہ کہانی کے اس کردار میں کہ جو ہمارا ہمنام ہے رنگ بھرا جائے اور اسے زندہ کیا جائے۔اس کے وجود کو امید کی طاقت دی جائے اور اس کے ہاتھ میں شعور کی شمع تھما دی جائے ۔ایسا شعور جو حال میں رہنے کا گُر بتلائے جو ماضی سے سبق سیکھ کر ایک دلنشیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کا فن سکھلائے۔
---
انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔