اے خودی تیری زبان سے آشنا نہیں ہوں میں
اب بھی ترے رنگ میں رنگا نہیں ہوں میں
آتا ہوں اسکی زبان پر اب کے میں بار بار
پر اب بھی کسی کے دل پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
مانا کہ عرصہ حیات میں ہیں مقام مرگ صد ہزار
پر یہ کیا کسی مقام پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
اپنی ہوں ضد پہ قائم بن کر وفا شعار
سانسیں رواں ہیں لیکن زندہ نہیں ہوں میں
بج رہی ہے میرے پاس دھن بے خودی مگر
مجرم ہوں میں کسی کا رقصاں نہیں ہوں میں
کرگیا جو تھا بس میں اور بس کر دیا انس
اپنے ہر کیے پر شرمندہ نہیں ہوں میں
::::تخلیق :::::
(ملک انس اعوان )
اب بھی ترے رنگ میں رنگا نہیں ہوں میں
آتا ہوں اسکی زبان پر اب کے میں بار بار
پر اب بھی کسی کے دل پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
مانا کہ عرصہ حیات میں ہیں مقام مرگ صد ہزار
پر یہ کیا کسی مقام پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
اپنی ہوں ضد پہ قائم بن کر وفا شعار
سانسیں رواں ہیں لیکن زندہ نہیں ہوں میں
بج رہی ہے میرے پاس دھن بے خودی مگر
مجرم ہوں میں کسی کا رقصاں نہیں ہوں میں
کرگیا جو تھا بس میں اور بس کر دیا انس
اپنے ہر کیے پر شرمندہ نہیں ہوں میں
::::تخلیق :::::
(ملک انس اعوان )










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔