نہیں ہوں میں

0 comments
اے خودی تیری زبان سے آشنا نہیں ہوں میں 
اب بھی ترے رنگ میں رنگا نہیں ہوں میں 
 آتا ہوں اسکی زبان  پر اب کے میں   بار بار 
پر اب بھی کسی کے دل پر ٹھہرا نہیں ہوں میں 
مانا کہ عرصہ حیات میں ہیں مقام مرگ صد ہزار 
پر یہ کیا کسی مقام پر ٹھہرا نہیں ہوں میں
اپنی ہوں ضد پہ قائم بن کر وفا شعار
سانسیں رواں ہیں لیکن زندہ نہیں ہوں میں
بج رہی ہے میرے پاس دھن بے خودی مگر
مجرم ہوں میں کسی کا رقصاں نہیں ہوں میں
کرگیا جو تھا بس میں اور بس کر دیا انس
اپنے ہر کیے پر شرمندہ نہیں ہوں میں
::::تخلیق :::::
(ملک انس اعوان  )



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔