داد

0 comments
میرے مشغول تماشا تیرے شوق کو داد
تیرے سحر میں ڈوبے ہوئے محسور کو داد
کتنی سندر میرے بگڑے ہوئے قدموں کی چاپ
آتش عشق میں کودے ہوئے مجبور کو داد
داماں میرا پارہ ہےکہ پارہ میرا داماں 
اس کردار میں اترے ہوئے مشہور کو داد

ملک انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔