تو بھی تو نہیں رہا میرا

0 comments
اب کوئی شہر نہیں رہا میرا
کوئی بھی میرا نہیں رہا میرا
گھر میں بیٹھ گئے سبھی لوگ 
باہر تماشا نہیں رہا میرا
ممکنہ حد   تک  مجھےڈھونڈیے گا
کوئی تعلق نہیں مجھسے رہا میرا
کہہ تو سکتا ہوں کہہ بھی نہیں سکتا
بیاں مشکل نہیں  رہا میرا
آبلے اب کیوں نہیں پڑتے
کیا راستہ ،راستہ نہیں رہا میرا
اب وہ دیتا ہے ناپ ناپ کر مجھے
وہ ساقی،ساقی نہیں رہا میرا
اب کیا شکوہ کسی سے جب
تو بھی تو نہیں رہا میرا



انس اعوان








0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔