مجھے دکھتا ہے پس دیوار بھی کچھ
سرِ آئینہ ، سرِ محفل ،سرِ بازار بھی کچھ
فقس توڑ کے نکلا ہے تیرا مئےخوار ابھی
یہ بے لوث ارادوں کے ہیں شاہکار بھی کچھ
ائے شوخیِ بیکار تیری فرصت پہ نثار
کسی کام کا نکلا میرا انتظار بھی کچھ
ہم کو تسلیم مگر حرمت محفل جاناں؟
ہم نےدیکھے تیری بزم میں سیاہ کار بھی کچھ
تخلیق:
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔