میں بیڈ روم میں بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔ناشتہ
کر چکنے کے بعد بوریت مٹانے کی خاطر ٹی وی کا ریموٹ پکڑا اور چینل تبدیل کرنے
لگا۔اسی دوران ایک معروف نجی چینل پر ایک انتہائی معروف عسکری تجزیہ نگار کی تصویر
دیکھی تو رک گیا اور آواز بلند کر کے انکے ارشادات سے لطف اندوز ہونے لگا۔قریباً
10 منٹ تک وہ موجودہ صورت حال اور ملک کے دیگر علاقوں میں جاری آپریشن کے حوالے سے
عوام کو آگاہ کر رہے تھے (اور اللہ بہتر جانتا ہے)۔خیر انکی گفتگو مکمل ہوئی اور
منظر نامہ بدل گیا اور ایک موبائل کمپنی کا اشتہار (ڈانس شو) چل پڑا۔ٹی وی کو بند
کیا اور بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔اتنے میں چائے بھی آ گئی اور میں کم عقم
و بے منتق آدمی اس سوچ میں کھو گیا کہ کتنا آسان ہے کسی دوسرے پر الزام لگانا۔
ہمارے ہاں ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کا سب سے
آسان طریقہ یہی ہے کہ کسی دوسرے بالخصوص بیرونی خفیہ ایجنسیوں پر ہر واقعے کی ذمہ
داری ڈال دی جائے۔میں کنویں کا مینڈک ہر گز نہیں بن سکتا۔ میں اس خود ساختہ کنویں
سے باہر نکل کر سوچتا ہوں ۔میں سوچتا ہوں
کہ "وار آن ٹیرر" کا حصہ بننے ، ڈالرز کے بدلے اپنی قوم کے بچوں
اور بہنوں(مثال :عافیہ صدیقی) کو امریکہ کے ہاتھوں بیچنے،اپنے ملک میں لسانیت کو
فروغ دینے، روشن خیالی اور فحاشی کو اس سرزمین پر قدم رکھنے،امریکہ کے ہاتھوں اپنی
ملکی حدود کی ڈرون اٹیک کے نام پر پامالی،شمسی ائیر بیس جیسے دیگر اہم عسکری
تنصیبات کو امریکہ کے حوالے کرنے،مساجد کو ڈھا دینے ،بے گناہ قبائلی عوام کو رسوا
کرنے،امن لشکر کے نام پر بلوچ اور فاٹا کے چند معروف قبائل کو مخصوص مقاصد کے لیے
مسلحہ کرنے،مسلحہ جتھوں کے خلاف عام عوام کو مسلحہ کرنے،چند مذہبی جماعتوں کو بی
ٹیم کے طور پر استعمال کرنے،عوام میں آئین کے خلاف بغاوت کو ابھارنے میں شاید کوئی
بیرونی ہاتھ ملوث ہوتا۔
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں ؟
احتساب کسی بھی معاشرے کا وہ خوبصورت پہلو ہوتا
ہے جو غلطیوں سے سبق سیکھنے اور مستقبل کو تابناک بنانے میں سب سے معاون ہتھیار
ثابت ہوتا ہے۔اسلامی تاریخ اٹھا لیجئے "خلفہ راشدیں رض" نے سب سے پہلے
اپنی ذات کو احتساب کے لیے پیش کیا جبکہ ہمارے معاشرے کا حال یوں ہے کہ ہم مخصوص
طبقے کا احتساب کرنے کو ملک سے غداری تصور کرتے ہیں تو یاد رکھیے جب تک ہم ایسی
غداریاں نہیں کریں گے اور پالیسیوں کو زیر
بحث نہیں لائیں گے ،ہم اپنا مستقبل نہیں بچا سکتے۔ اور تاریخ ایسے واقعات اور
قوموں سے بھری پڑی ہے اور آخر میں اوریا مقبول جان کا دل چھولینے والا فقرہ:
"اور اللہ اس چیز پر قادر ہے کہ وہ کسی قوم
کو تباہ و برباد کردے اور اس کہ جگہ کسی دوسری قوم کو پیدا کرے اور وہ کام کر گزرے
جو وہ اُس قوم سے لینا چاہتا ہے"
تحریر










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔