بات سے بات چلی دور گئی

1 comments
ہمارے ملک کے نو جوانوں کی ایک خاص تعداد سیاسی طور اس وقت اس صورت حال کا شکار ہےوہ کچھ اس طرح ہے۔۔!

نہ ماضی کا علمنہ آنے والے حالات کا ادراک بس شخصی فریب میں پھنسے ہوئے شُطر بے مہار جو ذہن کو استعمال کرنے کی بجائے ننگ تہزیب و تمدن کے علم برداروں کے علَم کے نیچے اپنے عمل و کردار کا قتل عام کر رہے ہیں ۔اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی نہیں ہو پا رہا۔غلطی سے بڑی غلطی ،غلطی کا احساس نہ ہونا ہے مگر ہمارا ایک عام طالب علم جس نظام تعلیم کا شکار ہے وہاں تعلیم صرف نوکریاں حاصل کرنے اور ڈگری کے نام  کی پہچان رکھنے والے ایک لفافے کے اضافے کے لیے دی جاتی ہے۔ یہاں اخلاقی اقدار اور تربیت کا اس قدر فقدان ہے کہ اب ان اداروں سے نکلنے والا انسان اپنی تہذیب و تمدن پر شرمندہ اور ،مغربی افکار کا دلدادہ نظر آ تا ہے۔ اور وہ نظریہ جو یہ بتلائے کہ دین اور دنیا  دو الگ معاملات ہیں اب اس قوم کے معماروں میں راسخ  ہو چکا ہے۔ اب ایک طالب علم دین کو  معاشرت،معیشت،اقتصادیت و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے علیحدہ  ایک اور چیز کے طور پہ  جانتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دین شاید مسجد کی پہلی سیڑی پہ قدم رکھنے سے شروع ہوتا اور واپسی والے آخری قدم تک ختم ہو جاتا ہے جبکہ اصل اسلام تو شروع ہی تب ہوتا ہے جب آپ مسجد کی حدود سے نکل کر معاشرے کی حدود میں آ جاتے ہیں ،جہاں آپکی کوئی بھی چیز پرسنل نہیں ہے ،سب چیزیں ایک دوسرے پر ،محسوس کن اور غیر محسوس کن طریقے سے اثر انداز ہو رہی ہیں ۔جہاں آپ کا بولنا چالنا، اٹھنا ،بیٹھا گویا تمام اعمال کسی نہ کسی صورت میں کسی دوسرے پہ اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ٹھیک یہیں سے تو اسلام شروع ہو رہا ہوتا ہے۔پھر یہی دین ِ اسلام انہیں تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے اور ان چھوٹے بڑے شہروں کی تنگ و کشادہ گلیوں کے بیچ سے سیاست کے اکھاڑے تلک جا پہنچتا ہے  اور پھر اس کا مظہر پارلیمنٹ کی پر کشش عمارت کے ماتھے پہ جھومر کی طرح سجے ہوئے  کلمہ طیبہ کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کے اسی پارلیمنٹ میں میں اکثریت رائے کے ساتھ حدود اللہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے، سیاہ کو سفید اور سفیدکو سیاہ قرار دیا جاتا ہے اسی پالیمنٹ میں سے سود ی بنکاری کو فروغ اور معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ کبھی سوچا کہ اس کے ماتھے پہ لکھا ہوا "لا الہ الااللہ"  پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے ان عوامی نمائدگان  کے دلوں پر اثر کیوں نہیں کرتا  ؟ اس لیے کہ ہم نے مذہب کا "ٹریڈ مارک" فقط اپنی دکان اور کاروبار چمکانے کے لئے رکھا ہوا ہے۔ہم بنیادی طور پر غیرمحسوس کُن" سیکیولرازم "  کا شکار ہو چکےہیں۔ دور مت جائے چند دن پہلے ہی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی قائد کے آفیشل پیج سے کچھ اس طرح کا بیان جاری کیا گیا تھا کہ"ریاست کا کوئی مذہب نہیں"،یعنی وہ بات جو سراسر نظریہ پاکستان کے خلاف ہے اسکو اس  عوامی جمہوریہ پاکستان کی باغیرت قوم نے سنا بھی اور اس کی تائید کا بھی اظہار کیا لیکن سلام ہے ان چند نظریاتی محافظوں کا کہ جن کی کاوشوں سے وہ "جناب" اپنا بیان پیج سے ہٹا نے پر مجبور ہو گئے۔شاید یہ  دشمنان پاکستان کی جانب سے پاکستانی قوم کے لئے ایک ٹیسٹ کیس تھا ۔وہ دیکھنا چاہتے تھے پاکستان کے نوجوان نظریہ پاکستان سے کس قدر واقفیت اور محبت رکھتے ہیں؟ بالکل اسی طرح جس طرح  پوری امت مسلمہ کو توہین رسالت  کے معاملے پہ آزمایا جاتا رہا ہے۔ پہلے میڈیا کے نام پر  فحاشی متعارف کروائی گئی ، پھر این جی اوز کے نام پر ایک پورا ایجنڈا ملک میں نافذ کر دیا گیا اور اب ہم ان کے ثمرات سے پوری طرح لطف اندوز ہونے ہو تیار بیٹھیں ہیں ۔جس نسل سے میرا تعلق ہے یہ نسل شاید تاریخ میں تیز ترین تبدیلی کا سبب بنےاسی 1990'کی دہائی کی نسل نے فتنوں کو بہت قریب سے دیکھا اور بس دیکھتی ہی رہی۔۔۔۔۔۔
تاریخ نے قوموں کے وہ دور بھی دیکھے ہیں
لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی ہے


تحریر
ملک محمد انس اعوان

malikanasawan11@gmail.com

رودادِ کھیوڑہ و کلر کہار

4 comments

جب بھی کوئی سفر درپیش ہوتا ہے تو اس ذہن ناکارہ کو لکھنے کے لئے ایک عدد عنوان مل جاتا ہے،پہلے کی طرح اس بار بھی ایک عدد تفریحی دورے پر جانے کا اتفاق ہوا جو کہ ہماری یونیورسٹی کی جانب سے تھا،حسب معمول ہم نے واجبی سی تیاری کر رکھی تھی مثلاً ایک عدد سوٹ اور سینڈل جبکہ سرخی پاؤڈر سے ہمارا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ 
ہم حسب معمول مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے یونیورسٹی پہنچے تو حیران رہ گئے کہ ، ہمارے جونئر طالبعلم دوست مقررہ وقت سے پہلے ہی بس میں تابعدار بچوں کی طرح براجمان ہیں۔ہم نے انہی میں سے کچھ طلبہ کو سمجھایا بھی تھا کہ مقررہ وقت سے کم از کم بھی آدھا گھنٹہ لیٹ ہونا کوئی معیوب بات نہیں اور ویسے بھی 
"اقبال دیر سے آتا ہے"
ایک ساتھی سے رابطہ نہ ہو سکا، ہم  نے اس کو چھوڑتے ہوئے کچھ ہی دیر میں اللہ کے نام کے ساتھ سفر کا آغاز کر دیا۔کامرہ اور واہ کینٹ سے دیگر ساتھیوں کو بٹھاتے ہوئے ہم موٹر وے پر جا پہنچے۔موٹر وے آتے ہی باہر کی دنیا ایک حد تک رک ہی جاتی ہے ایک جیسی ہی سڑک اور اس کی دونون جانب کے مناظر آنکھوں کو تھکا دیتے ہیں ۔اسی اثنا میں بس کے اندر موجود طلبا نے اپنی صلاحتیوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا ۔جیسے ہی کلر کہار کا علاقہ شروع ہوا ہمارے ایک دوست محمد ذاہد الخراسانی جو کہ فطری طور ایک شکاری ہیں نے دور پہاڑوں میں ایک اُڑیال (پہاڑی بکرے کی ایک قسم) دیکھ لیا جس کے بعد وہ ایک ماہیِ بے آب کی مانند ہاتھ مسلنے لے اور کہنے لگے کہ اگر میرے پاس اس وقت بندوق موجود ہوتی تو سیدھی گولی اس اُڑیال کے سینے میں اتار دیتا۔
کلر کہار ریست ایریا میں وقفہ کیا ،اسی دوران ہماری بس کے ڈرائیور چچا کا میڑر طلبا کی تاخیر کے بائث حد برداشت سے باہر ہو گیا اور جو بھی سامنے آتا اسے ایک دو سُنا دیتے خیر شکر ہے سر ریحان کا جنہوں نے بس میں بیٹھتے ہیں چاچے کے حق میں نعرے لگوا کر ماحول میں قائم تلخی کو رفع دفع کر دیا۔
آخر کار ہم موٹر سے اترے اور کھیوڑہ کی جانب زیر تعمیر سڑک پہ آ گئے ، سورج بھی سوا نیزے پہ آ ٹکا تھا اور گرمی نے حال برا  کر رکھا تھا۔اللہ اللہ کرتے نمک کی کان پر پہنچ ہی گئے ، سر فرحان نے سر علی سے مجموعی کولیکشن سے پیسے لے کر  ٹکٹ خرید  لیے اور سارا کریڈٹ اپنے سر لے لیے جس پہ علی بھائی (اسٹنٹ HOD) سیخ پا ہو گئے لیکن سر فرحان نے انہیں چپ کروا دیا۔
ہم جیسے ہی کان میں داخل ہوئے سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا سارے سفر کی تھکان ایک ہی لمحے میں دور ہو گئی لیکن ہمارے ایک عزیز دوست فہد بھائی جو کہ پہلے سے ہی بیمار تھے اور بیمار ہو گئے لیکن ان کی ہمت کو سلام ہے کہ پھر بھی ہمارا ساتھ دینے کی خاطر چپ چاپ ہمارے ہمراہ چلتے رہے۔
سارے رستے حسب معمول سر ریحان چوہان اپنے مخصوص اور دلچسپ انداز بیاں کے ذریعے نوجوانوں کو نمک کی کان اور اس سے متعلق تاریخ سنا سنا کر گمراہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے بادشاہوں کا تعلق زبردستی اس کان کے ساتھ جوڑا گیا۔

کان کے اندر بنے ہوئے مینار پاکستان کے ماڈل پر سرریحان چوہان کے انتہائی جزباتی انداز میں تاریخ پاکستان پر ایسی تاریک روشی ڈالی کہ پوچھیے مت، یہاں تک کہہ ڈالا کہ اصل مینار پاکستان تو کھیوڑہ میں ہی ہے لاہور والا تو اس کا ماڈل ہے۔اور اصلی والی قرار داد پاکستان بھی یہیں لکھی گئی ہے ۔
(وللہ اعلم)
اس کے بعد ہم نے کان کے مختلف حصوں کی سیر کی اور تصاویر بنوائیں۔خوب گھومنے پھرنے کے بعد اگلی منزل یعنی کلر کہار جھیل کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔جھیل کنارے TDCPکے ہوٹل کے سامنے بس پارک کی اور میں اور چند ساتھی ہوٹل میں کھانے کا آڈر دینے چل پڑے۔ذاہد بھائی جوکہ TDCPکے ہوٹل کے آنگن میں لگے لوکاٹ کے درخت دیکھ کر رال ٹپکا رہے تھے،بڑی حکمت سے آگے بڑھے لیکن ہوٹل کے ملازمین میں سے ایک نے اونچی آواز میں کہا
"ہاں جی!!! ہیلو!!! کدھر؟؟؟؟ لوکاٹ توڑنا منع ہیں" اور یہ سنتے ہیں ذاہد الخراسانی پہلے کی طرح ہاتھ ملتے رہ گئے اور پلٹ آئے۔ کھانا بھوک کے مارے اتنا اچھا لگ رہا تھا گویا کہ "من و سلوی" ہو۔
کھانے کے بعد جھیل کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ،سب لوگ "طارق بن زیاد" کے جذبہ لیے پانی میں کشتیوں سمیت اتر گئے۔ہمارے ہمراہ زاہد الخراسانی بھائی تھے جن کے جذبے ایسے تھے کہ گویا کہ وہ کسی مسلمان ریاست کے بادشاہ ہوں اور ایک بحری جنگ میں اپنے اپنی سلطنت کی قیادت کر رہے ہوں ۔سر ریحان اور سر فرحان ایک ساتھ بیٹھ گئے۔ ترتیب بنائی گئی اور مقابلہ شروع ہو گیا۔ ہار جیت کا فیصلہ حسب معمول نہیں ہو سکا ۔
اس کے بعد جھیل کنارے لگے جھولوں پہ خوب جھولے لیے اور بچپن کے یادوں کو تازہ کیا ،شام ہونے سے پہلے ہی واپسی کا رستہ پکڑا اور دوران سفر خوب تقریری مقابلہ کیا اوربقول ذاہد بھائی "اگر گلہ خراب ہوتو بندہ بھٹو بن جاتا" کے فارمولے کو عملی جامہ پہنایا گیا ۔اور باقی کا سفر ایک دوسرے کے کندھوں پہ سر رکھ کر اور آنکھیں موند کر گزرا گیا۔قریباً 9:30پر ہم واپس اٹک پہنچ چکے تھے۔یہ میری زندگی کا ایک شاندار سفر تھا جو کہ شاندار لوگون کے ساتھ کیا گیا تھا۔اور قابل تعریف ہیں ہمارے جونئر جو اب ہمارے سینئر طلبا سے زیادہ سنجیدہ ،مہذب اور ادب کرنے والے ہیں۔کچھ لوگوں کی کمی محسوس کی گئی اگر وہ بھی ہوتے تو محفل مزید نکھر جاتی قصہ مختصر
اللہ سدا یہ مسکراہٹیں قائم رکھے۔!
آمین
رقام الحروف کو دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔


تحریر:
ملک انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com


شہری اور دیہاتی گائے

0 comments
ہمارے نذدیک گائے کی فقط 2 ہی اقسام ہیں اول شہری اور دوم دیہاتی۔دیہاتی گائے گاؤں والوں کی طرح سیدھی سادھی ،بھولی بھالی اور معصوم ہوتی ہے۔پرسکون اور مطمئن زندگی گزارتی ہے اور کراچی کی عوام کی طرح ظلم و ستم برداشت کرتی رہتی ہے۔اس کے علاوہ اس کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ انتہائی قدامت پسند بھی ہوتی ہے ،پینٹ شرٹ والے اور عجیب غریب فیشن والے حضرات کو دیکھنے کے بعد چشم زدن میں بِدک جاتی ہے اور دودھ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔اپنی فِگر کا بالکل خیال نہیں رکھتی اور سارا دن چارے سے منہ نہیں نکالتی ۔ جبکہ دوسری جانب ہے شہری گائے۔
دھیمی چال، بے نیازی،ضِد،جدیدت اور بے مروتی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں۔اڈے سے لے کر پوش علاقوں کے کوڑے دانوں تک شہر بھر میں دندناتی پھرتی ہیں۔شہر ان کی اتنی دہشت ہے کہ کوئی ٹریفک پولیس اہلکار ان کا چالان نہیں کر سکتا۔اور یہ جب چاہیں بیچ سڑک کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتی دیکھی جا سکتیں ہیں۔اکثر و بیشتر ہارن کی آواز سن کر غصہ کر جاتیں ہیں اور طویل المیعاد دھرنا دے دیتیں ہیں۔عمومیً گروہ کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتیں ہیں۔ زیادہ تر سبزیوں اور پھلوں کو کھانا پسند کرتی ہیں۔اگر موڈ اچھا اور کچھ اچھا کھانے کو چاہ رہا ہو تو شہر کا چکر لگا کر مختلف ہوٹلوں کی جانب سے پھینکے گئے کھانے کو بروئے کار لاتیں ہیں۔اپنی صحت اور فگر کا بہت خاص خیال رکھتیں ہیں۔جب یہ گروہ کی شکل میں چلتی ہیں تو ان کے آگے ان کی "انچارج" کسی سکول ہیڈ مسٹرس کی طرح گردن اکڑا کر رستہ طے کرتی ہیں جبکہ ان کے بعد عمر میں جونئیر اور آخر میں بچے ہوتے ہیں۔باقی ہماری تحقیق ابھی جاری ہے۔کچھ آپکے پاس بھی ہو توہمیں بھی آ گاہ کیجئے گا۔


تحریر
محمد انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi

زرا اس سے پہلے

0 comments
بے  کیف  طبعیت  کی  طریقت  پہ  نہ  جا
ہم نے مقدر کو اُجاڑا ہے زرا اِس سے پہلے
خوب رونق تھی تیرے شہر میں مجھ سے پہلے
ہم نے ہی غدر مچایا ہےزرا اس سے پہلے
ارے بادل جو برسنا ہے تو زرا کھُل کر برسو
ہم نے جی اپنا جلایا ہے زرا اس سے پہلے
ہم جہاں ہوں گے وہاں ہوں گے پیمانےاپنے
ہم نے ساقی کو تھکایا ہے زرا اس سے پہلے

---------
ملک انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi


اب وہ طبعیت نہیں رہی

0 comments
اب وہ طبعیت نہیں رہی
اب وہ شوق نہیں رہا
عادات اب تلک ہیں باقی
ان میں وہ تسلسل نہیں رہا
جب مِلیں گے رہیں گے تلخ
اب باہم تکلف نہیں رہا
چلتی سانسوں کے ساتھ تھے رشتے
مر گئے تو کوئی تعلق نہیں رہا
ٹھہر ٹھہر کر گزر ائے شامِ زرد

تیری سرخی سے کوئی تردد نہیں رہا

-------
ملک انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi

پھر ایک سوال حل ہوا

0 comments
میں ایک دوست کے انتظار میں ہاتھ باندھے فوارہ چوک اٹک میں کھڑا ہوا تھا۔وقت گزارنے کے لیے دائیں بائیں نظر دوڑانے لگا تو اٹک میڈیکل سٹور کے تھڑے پر ایک مفلوک الحال اور بے سروسامانی  میں موجود ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جس کی بغل میں اس کا بچہ بیٹھا ہوا تھا جو بار بار اپنے والد سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا۔وہ آدمی کچھ دیر میں جیب میں ہاتھ ڈالتا ہے اور ایک سگریٹ نکال کر منہ سے لگاتا ہے اور دوسری جیب سے ماچس کی ڈبی۔ وہ ماچس کی ڈبی سے ایک دیا سلائی  نکالتا ہے اور جلاتا ہے لیکن اس کا معصوم بیٹا پھونک مار کر اس کو بُجھا دیتا ہے۔والد کے چہرے پر خفیف سی مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے اور وہ ڈبی میں سے دوسری دیا سلائی نکال کر جلاتا ہے لیکن اگلے ہی لمحے اس کا بیٹا پھر آگ کو بجھا دیتا ہے۔اسی طرح دونوں باپ بیٹا اس کھیل کو تب تک جاری رکھتے ہیں جب تک کہ ماچس کی ڈبی خالی نہیں ہو جاتی۔آخر کار وہ آدمی خالی ماچس کو پھینک دیتا ہے اور سگریٹ کو واپس جیب میں رکھ لیتا ہے۔جس کے بعد وہ اپنے بچے کو اُٹھاتا ہے اس کے ماتھے کو چومتا ہے اور وہ دونوں پھر سے ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکیلیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں ہیں لیکن یہ دیکھنے کے بعد میں نے اپنا انظار ادھورا چھوڑتے ہوئے ہاسٹل کی راہ لی اور کچھ دیر سوچتا رہا ، شاید بہت سے سولات کے بہت سے جوابات مجھے مل چکے تھے۔اور میں قدرے مطمئن بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر
محمد انس اعوان