ہمارے ملک کے نو جوانوں کی ایک خاص تعداد سیاسی طور اس وقت اس صورت حال کا شکار ہےوہ کچھ اس طرح ہے۔۔!
نہ ماضی کا علمنہ آنے والے حالات کا ادراک بس شخصی فریب میں پھنسے ہوئے شُطر بے مہار جو ذہن کو استعمال کرنے کی بجائے ننگ تہزیب و تمدن کے علم برداروں کے علَم کے نیچے اپنے عمل و کردار کا قتل عام کر رہے ہیں ۔اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی نہیں ہو پا رہا۔غلطی سے بڑی غلطی ،غلطی کا احساس نہ ہونا ہے مگر ہمارا ایک عام طالب علم جس نظام تعلیم کا شکار ہے وہاں تعلیم صرف نوکریاں حاصل کرنے اور ڈگری کے نام کی پہچان رکھنے والے ایک لفافے کے اضافے کے لیے دی جاتی ہے۔ یہاں اخلاقی اقدار اور تربیت کا اس قدر فقدان ہے کہ اب ان اداروں سے نکلنے والا انسان اپنی تہذیب و تمدن پر شرمندہ اور ،مغربی افکار کا دلدادہ نظر آ تا ہے۔ اور وہ نظریہ جو یہ بتلائے کہ دین اور دنیا دو الگ معاملات ہیں اب اس قوم کے معماروں میں راسخ ہو چکا ہے۔ اب ایک طالب علم دین کو معاشرت،معیشت،اقتصادیت و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے علیحدہ ایک اور چیز کے طور پہ جانتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ دین شاید مسجد کی پہلی سیڑی پہ قدم رکھنے سے شروع ہوتا اور واپسی والے آخری قدم تک ختم ہو جاتا ہے جبکہ اصل اسلام تو شروع ہی تب ہوتا ہے جب آپ مسجد کی حدود سے نکل کر معاشرے کی حدود میں آ جاتے ہیں ،جہاں آپکی کوئی بھی چیز پرسنل نہیں ہے ،سب چیزیں ایک دوسرے پر ،محسوس کن اور غیر محسوس کن طریقے سے اثر انداز ہو رہی ہیں ۔جہاں آپ کا بولنا چالنا، اٹھنا ،بیٹھا گویا تمام اعمال کسی نہ کسی صورت میں کسی دوسرے پہ اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ٹھیک یہیں سے تو اسلام شروع ہو رہا ہوتا ہے۔پھر یہی دین ِ اسلام انہیں تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے اور ان چھوٹے بڑے شہروں کی تنگ و کشادہ گلیوں کے بیچ سے سیاست کے اکھاڑے تلک جا پہنچتا ہے اور پھر اس کا مظہر پارلیمنٹ کی پر کشش عمارت کے ماتھے پہ جھومر کی طرح سجے ہوئے کلمہ طیبہ کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے۔پھر میں دیکھتا ہوں کے اسی پارلیمنٹ میں میں اکثریت رائے کے ساتھ حدود اللہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جاتی ہے، سیاہ کو سفید اور سفیدکو سیاہ قرار دیا جاتا ہے اسی پالیمنٹ میں سے سود ی بنکاری کو فروغ اور معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ کبھی سوچا کہ اس کے ماتھے پہ لکھا ہوا "لا الہ الااللہ" پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے ان عوامی نمائدگان کے دلوں پر اثر کیوں نہیں کرتا ؟ اس لیے کہ ہم نے مذہب کا "ٹریڈ مارک" فقط اپنی دکان اور کاروبار چمکانے کے لئے رکھا ہوا ہے۔ہم بنیادی طور پر غیرمحسوس کُن" سیکیولرازم " کا شکار ہو چکےہیں۔ دور مت جائے چند دن پہلے ہی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی قائد کے آفیشل پیج سے کچھ اس طرح کا بیان جاری کیا گیا تھا کہ"ریاست کا کوئی مذہب نہیں"،یعنی وہ بات جو سراسر نظریہ پاکستان کے خلاف ہے اسکو اس عوامی جمہوریہ پاکستان کی باغیرت قوم نے سنا بھی اور اس کی تائید کا بھی اظہار کیا لیکن سلام ہے ان چند نظریاتی محافظوں کا کہ جن کی کاوشوں سے وہ "جناب" اپنا بیان پیج سے ہٹا نے پر مجبور ہو گئے۔شاید یہ دشمنان پاکستان کی جانب سے پاکستانی قوم کے لئے ایک ٹیسٹ کیس تھا ۔وہ دیکھنا چاہتے تھے پاکستان کے نوجوان نظریہ پاکستان سے کس قدر واقفیت اور محبت رکھتے ہیں؟ بالکل اسی طرح جس طرح پوری امت مسلمہ کو توہین رسالت کے معاملے پہ آزمایا جاتا رہا ہے۔ پہلے میڈیا کے نام پر فحاشی متعارف کروائی گئی ، پھر این جی اوز کے نام پر ایک پورا ایجنڈا ملک میں نافذ کر دیا گیا اور اب ہم ان کے ثمرات سے پوری طرح لطف اندوز ہونے ہو تیار بیٹھیں ہیں ۔جس نسل سے میرا تعلق ہے یہ نسل شاید تاریخ میں تیز ترین تبدیلی کا سبب بنےاسی 1990'کی دہائی کی نسل نے فتنوں کو بہت قریب سے دیکھا اور بس دیکھتی ہی رہی۔۔۔۔۔۔
تاریخ نے قوموں کے وہ دور بھی دیکھے ہیں
لمحوں نے خطا کی ہے صدیوں نے سزا پائی ہے
تحریر
ملک محمد انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com










bht khoob (Y)