جب بھی کوئی سفر درپیش ہوتا ہے تو اس ذہن ناکارہ کو لکھنے کے لئے ایک عدد عنوان مل جاتا ہے،پہلے کی طرح اس بار بھی ایک عدد تفریحی دورے پر جانے کا اتفاق ہوا جو کہ ہماری یونیورسٹی کی جانب سے تھا،حسب معمول ہم نے واجبی سی تیاری کر رکھی تھی مثلاً ایک عدد سوٹ اور سینڈل جبکہ سرخی پاؤڈر سے ہمارا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔
ہم حسب معمول مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ تاخیر سے یونیورسٹی پہنچے تو حیران رہ گئے کہ ، ہمارے جونئر طالبعلم دوست مقررہ وقت سے پہلے ہی بس میں تابعدار بچوں کی طرح براجمان ہیں۔ہم نے انہی میں سے کچھ طلبہ کو سمجھایا بھی تھا کہ مقررہ وقت سے کم از کم بھی آدھا گھنٹہ لیٹ ہونا کوئی معیوب بات نہیں اور ویسے بھی
"اقبال دیر سے آتا ہے"
ایک ساتھی سے رابطہ نہ ہو سکا، ہم نے اس کو چھوڑتے ہوئے کچھ ہی دیر میں اللہ کے نام کے ساتھ سفر کا آغاز کر دیا۔کامرہ اور واہ کینٹ سے دیگر ساتھیوں کو بٹھاتے ہوئے ہم موٹر وے پر جا پہنچے۔موٹر وے آتے ہی باہر کی دنیا ایک حد تک رک ہی جاتی ہے ایک جیسی ہی سڑک اور اس کی دونون جانب کے مناظر آنکھوں کو تھکا دیتے ہیں ۔اسی اثنا میں بس کے اندر موجود طلبا نے اپنی صلاحتیوں کا اظہار کرنا شروع کر دیا ۔جیسے ہی کلر کہار کا علاقہ شروع ہوا ہمارے ایک دوست محمد ذاہد الخراسانی جو کہ فطری طور ایک شکاری ہیں نے دور پہاڑوں میں ایک اُڑیال (پہاڑی بکرے کی ایک قسم) دیکھ لیا جس کے بعد وہ ایک ماہیِ بے آب کی مانند ہاتھ مسلنے لے اور کہنے لگے کہ اگر میرے پاس اس وقت بندوق موجود ہوتی تو سیدھی گولی اس اُڑیال کے سینے میں اتار دیتا۔
کلر کہار ریست ایریا میں وقفہ کیا ،اسی دوران ہماری بس کے ڈرائیور چچا کا میڑر طلبا کی تاخیر کے بائث حد برداشت سے باہر ہو گیا اور جو بھی سامنے آتا اسے ایک دو سُنا دیتے خیر شکر ہے سر ریحان کا جنہوں نے بس میں بیٹھتے ہیں چاچے کے حق میں نعرے لگوا کر ماحول میں قائم تلخی کو رفع دفع کر دیا۔
آخر کار ہم موٹر سے اترے اور کھیوڑہ کی جانب زیر تعمیر سڑک پہ آ گئے ، سورج بھی سوا نیزے پہ آ ٹکا تھا اور گرمی نے حال برا کر رکھا تھا۔اللہ اللہ کرتے نمک کی کان پر پہنچ ہی گئے ، سر فرحان نے سر علی سے مجموعی کولیکشن سے پیسے لے کر ٹکٹ خرید لیے اور سارا کریڈٹ اپنے سر لے لیے جس پہ علی بھائی (اسٹنٹ HOD) سیخ پا ہو گئے لیکن سر فرحان نے انہیں چپ کروا دیا۔
ہم جیسے ہی کان میں داخل ہوئے سرد ہوا نے ہمارا استقبال کیا سارے سفر کی تھکان ایک ہی لمحے میں دور ہو گئی لیکن ہمارے ایک عزیز دوست فہد بھائی جو کہ پہلے سے ہی بیمار تھے اور بیمار ہو گئے لیکن ان کی ہمت کو سلام ہے کہ پھر بھی ہمارا ساتھ دینے کی خاطر چپ چاپ ہمارے ہمراہ چلتے رہے۔
سارے رستے حسب معمول سر ریحان چوہان اپنے مخصوص اور دلچسپ انداز بیاں کے ذریعے نوجوانوں کو نمک کی کان اور اس سے متعلق تاریخ سنا سنا کر گمراہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بڑے بڑے بادشاہوں کا تعلق زبردستی اس کان کے ساتھ جوڑا گیا۔
کان کے اندر بنے ہوئے مینار پاکستان کے ماڈل پر سرریحان چوہان کے انتہائی جزباتی انداز میں تاریخ پاکستان پر ایسی تاریک روشی ڈالی کہ پوچھیے مت، یہاں تک کہہ ڈالا کہ اصل مینار پاکستان تو کھیوڑہ میں ہی ہے لاہور والا تو اس کا ماڈل ہے۔اور اصلی والی قرار داد پاکستان بھی یہیں لکھی گئی ہے ۔
(وللہ اعلم)
اس کے بعد ہم نے کان کے مختلف حصوں کی سیر کی اور تصاویر بنوائیں۔خوب گھومنے پھرنے کے بعد اگلی منزل یعنی کلر کہار جھیل کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر دیا۔جھیل کنارے TDCPکے ہوٹل کے سامنے بس پارک کی اور میں اور چند ساتھی ہوٹل میں کھانے کا آڈر دینے چل پڑے۔ذاہد بھائی جوکہ TDCPکے ہوٹل کے آنگن میں لگے لوکاٹ کے درخت دیکھ کر رال ٹپکا رہے تھے،بڑی حکمت سے آگے بڑھے لیکن ہوٹل کے ملازمین میں سے ایک نے اونچی آواز میں کہا
"ہاں جی!!! ہیلو!!! کدھر؟؟؟؟ لوکاٹ توڑنا منع ہیں" اور یہ سنتے ہیں ذاہد الخراسانی پہلے کی طرح ہاتھ ملتے رہ گئے اور پلٹ آئے۔ کھانا بھوک کے مارے اتنا اچھا لگ رہا تھا گویا کہ "من و سلوی" ہو۔
کھانے کے بعد جھیل کو فتح کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ،سب لوگ "طارق بن زیاد" کے جذبہ لیے پانی میں کشتیوں سمیت اتر گئے۔ہمارے ہمراہ زاہد الخراسانی بھائی تھے جن کے جذبے ایسے تھے کہ گویا کہ وہ کسی مسلمان ریاست کے بادشاہ ہوں اور ایک بحری جنگ میں اپنے اپنی سلطنت کی قیادت کر رہے ہوں ۔سر ریحان اور سر فرحان ایک ساتھ بیٹھ گئے۔ ترتیب بنائی گئی اور مقابلہ شروع ہو گیا۔ ہار جیت کا فیصلہ حسب معمول نہیں ہو سکا ۔
اس کے بعد جھیل کنارے لگے جھولوں پہ خوب جھولے لیے اور بچپن کے یادوں کو تازہ کیا ،شام ہونے سے پہلے ہی واپسی کا رستہ پکڑا اور دوران سفر خوب تقریری مقابلہ کیا اوربقول ذاہد بھائی "اگر گلہ خراب ہوتو بندہ بھٹو بن جاتا" کے فارمولے کو عملی جامہ پہنایا گیا ۔اور باقی کا سفر ایک دوسرے کے کندھوں پہ سر رکھ کر اور آنکھیں موند کر گزرا گیا۔قریباً 9:30پر ہم واپس اٹک پہنچ چکے تھے۔یہ میری زندگی کا ایک شاندار سفر تھا جو کہ شاندار لوگون کے ساتھ کیا گیا تھا۔اور قابل تعریف ہیں ہمارے جونئر جو اب ہمارے سینئر طلبا سے زیادہ سنجیدہ ،مہذب اور ادب کرنے والے ہیں۔کچھ لوگوں کی کمی محسوس کی گئی اگر وہ بھی ہوتے تو محفل مزید نکھر جاتی قصہ مختصر
اللہ سدا یہ مسکراہٹیں قائم رکھے۔!
آمین
رقام الحروف کو دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
تحریر:
ملک انس اعوان
malikanasawan11@gmail.com
اللہ سدا یہ مسکراہٹیں قائم رکھے۔!
آمین
رقام الحروف کو دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
تحریر:
ملک انس اعوان










buhot khub
:)
agr kuch picture bhi shamil hoo jati toh.. .is tehreer ko chaar chand lag jatay....
aur sach kaha zahid shikari k baray ma....
ابھی لگائے دیتے ہیں