کتاب ازیت

0 comments

یادوں کی لائبریری میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب "کتاب اذیت" ہے، جس کی ایک سطر پڑھنے سے نظر دوسری سطر پہ پہنچ جاتی ہے، سطر در سطر، ورق در ورق، باب در باب، اور جلد سے جلد کھلتی چلی جاتی ہے اور احساس بھی نہیں ہوتا ہے کہ امید کا سورج کب اُگا اور کب کرب کی پستیوں میں غروب ہو چکا. ایسا  لطف انگیز کرب جو اندھے نشے کی طرح تن بدن میں زہر کی طرح پھیل جائے. جب آنکھوں اور حلق میں موجود لاوے کی طرح  ابلتا طوفان رستہ نہ پاکر دل کے  اندر بہنا شروع کر دے تو چہرے اس سکون سے روشناس ہوتے ہیں جو کتابوں، تجزیوں، تحریروں کا نچوڑ نہیں ہوتا بلکے آپ کے اپنے زاتی نفس کُش تجربات کا حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ میں کامل اور بے قیمت شے ہے.

ملک انس اعوان

دین کی راکٹ سائینس

1 comments
بالخصوص" دین "اسلام کوئی Super Natural چیز نہیں ہے کہ جس کو سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے آپکوکوئی مخصوص قسم کا چُغہ یا دستار پہننی پڑے گی(اس اعتبار سے کہ یہ فرض نہیں ہیں )،دور دور کا سفر کرنا پڑے،کہیں مجاور بن کر بیٹھنا پڑے گا یا کئی خفیہ راز ہیں جن کو حاصل کرنا پڑے گا، دین توچلتے پھرتے کاروبار دنیا کے بیچ رہتے ہوئے احکام الہی اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اسوۃ کی پاسداری کا نام ہے۔دین میں کوئی بھی چیز خفیہ یا پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس میں کوئی جادو منتر یا Spell نہیں ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
وقد ترکت فیکم ما لن تضلوا بعده إن اعتصتم به: کتاب الله، وأنتم تُسألون عني، فما أنتم قائلون؟ قالوا: نشهد أنك قد بلغت وأدّیت ونصحت،فقال بإصبعه السبابة، یرفعها إلى السماء وینکتها إلى الناس: اللهم! اشهد، اللهم! اشهد ثلاث مرات
(صحیح مسلم :۲۹۴۱، صحیح سنن ابی داود للالبانی :۱۹۰۵، ابن ماجہ :۱۸۵۰، الفتح الربانی :۲۱؍۵۸۸)
اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جارہا ہوں کہ اگر تم نے اسے مضبوطی سے پکڑے رکھا تو اس کے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے اور وہ ہے اللہ کی کتاب اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے تو تم لوگ کیا کہو گے؟ صحابہ نے کہا: ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کردی، پیغام پہنچا دیا اور خیرخواہی کا حق ادا کردیا۔
یہ سن کر آپﷺ نے انگشت شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: اے اللہ گواہ رہ۔‘‘ (الرحیق المختوم: ص ۷۳۳)
قابل غور بات یہی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کا کوئی پہلو بھی عمل سے خالی نہیں چھوڑا ہے ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس گواہی کے بعد اور اس گواہی میں اللہ تعالی ذوالجلال کو شامل کر لینے کے بعد میرا نہیں خیال کہ کوئی "اسم اعظم" ایسا رہ گیا ہو جس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچا دیا گیا ہو ، شریعت کے مسائل اور تعلیمات میں تو کہیں شرم رکھی ہی نہیں گئی ، ناخن کاٹنے سے سے کر کفن تک کے تمام مراحل میں مفصل اور مدلل احکامات ہمارے پاس اسلاف کی محنت اور کوشش سے موجود ہیں اور وہ احکامات ہر صورت حال میں تا قیامت "قابل عمل " ہیں ۔ اس دوران جدید مجتہدین اور صوفیاء اکرام کی جانب سے جو بھی Rocket Science ایجاد ہو گی اس کا موازنہ اس صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے Model سے کیا جائے گا یاد رہے اگر کوئی عمل حرام اور حلال کے درمیان قائم Gray Area میں موجود ہوا تو اس میں اس عمل کو فوقیت دی جائے گی جو بالترتیب حلال کی جانب زیادہ مائل ہوگا۔


تحریر
ملک انس اعوان


بڑھتی عمر اور شعور

6 comments
بڑھتی عمر اور شعور  رفتہ رفتہ دنیا کی  رنگینیت کو زائل کر دیتے ہیں ۔دلچسپیاں متواتر  بدلتی اور پھر اختتام کی جانب بڑھتی چلی جاتی ہیں ،بالخصوص وہ لوگ  جو وقت سے پہلے بوڑھےہو جائیں وہ  تو   پانی کے ایک منہ زور  اور بے لگام دھارے پہ سوار ہوتے  ہیں ،اتنا ہیبت ناک کہ  اس  کا شور کانوں کے پردے پھاڑ دے ، جس کی سفیدی آنکھوں سے انکا نور چھین لے اوراس قدر سفاک کہ پانی جیسی بے رنگ چیز کو بھی سفید کر دے   تو اس کے سامنے جسم میں بہتا لہو کیا شے ہے؟
اتنا سب کچھ چھین لینے کے بعد جب وہ جگہ پائے تو اٹھا کر پتھریلے ساحل کے فرش پہ پٹخ ڈالے اور  اس قدر ٹھہراؤ اختیار کر لے کہ گمان ٹھہرنے لگے کہ یہ پانی تو کبھی یہاں سےکہیں گیا ہی نہیں تھا۔تو ایسی اضطراب انگیز کیفیت میں ہمت جواب دے دیتی ہے،خود کو بچانے کا اوراپنی بقا کا  خیال ذہن سے کوچ کر جاتا ہے  اور بالآخر  حواس اس سکون اور ٹھہراؤ کے واقعی موجود ہونے سے انکار کر دیتے ہیں ۔وہی بے حس جسم جو ساحل کے پتھریلے  فرش پہ پڑا تھا ایک اور طوفان کی تلاش میں خود کو گھسیٹنے لگتا ہے ۔ایسا طوفان جو شدت میں گزشتہ طوفان سے بڑا اور ہیبت ناک ہو جو اس قدر طاقت رکھتا ہو کہ حواس کے باقی ماندہ اجزاء کو بھی کچل ڈالے۔جب انحصار انسانوں پر ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ آپکا  اللہ آپکا منتظر ہوتا ہے، آپ چل کر آتے ہیں تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔۔۔۔۔! آخر ہم اسکی مخلوق جو ہیں، ایسی مخلوق جس سے وہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ۔اسی لیے کہتے ہیں کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے اور بے شک ہوتا ہے۔

ملک انس اعوان

پھر کوئی موم سا پگھل لیجیے

0 comments

پھر کوئی موم سا پگھل لیجیے
جدھر سے آئے ادھر کو چل لیجیے
بات کیوں حالت دل کی کیجیئے
آپ یہ موضوع ہی بدل لیجیے
ایک باقی ہیں آپ ہی صاف گو گویا
آپ بھی کوئی بات بدل لیجیے
ائے فتنہ پرور ائے فتنہ طراز
خموش... گفتگو میں خلل کیجیئے

ملک انس اعوان

میں پہلے اپنی اصلاح کروں گا

0 comments

پہلی وحی اترتی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  غار حرا سے اتر کر  معاشرے میں آ کر اسلام کی دعوت دیتے ہیں، یہ بھی الله کی حکمت تھی کہ قرآن مجید کا نزول بھی میدان عمل میں مکمل ہوا، حضور اکرم ص نے قرآن مجید کے مکمل نازل ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا بلکہ دعوت دنیا کے آگے پیش کر دی، یہاں تک کہ غزہ بدر میں حضور خود ان جگہوں کی نشاندہی فرماتے رہے اور بتاتے رہے کہ کس جگہ کس کافر کو موت آئے گی ، اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے جب اقامت دین کی جدوجہد صرف اس بنیاد پہ چھوڑتے ہیں کہ ابھی ہم اپنی اصلاح کر لیں باقی بعد میں دیکھیں گے، تو میں حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہوں. حلانکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ادھر اسلام قبول کیا اور اگلے ہی دن اپنی  اصلاح کا بہانہ بنانے کی بجائے  اور نماز روزہ  سیکھے بغیر خود کو میدان کارزار میں رب کے حضور پیش کر دیا.... یہی معیار صحابہ رض ہے یہی طریق طریق صحابہ رض ہے.......!
ملک انس اعوان

انسانیت.. ایک یتیم نظریہ

0 comments

ہیومن ازم سے متاثرہ افراد کا مجموعی طرز عمل اس طرح سے ہے کہ اگر وہ مجبوراً مسلمان ہیں تو انہیں اس کے مذہبی طبقے سے اختلاف ، اگر مجبوراً عیسائی ہیں تو عیسائیت کے مزہبی طبقے سے اختلاف، اگر مجبوراً یہودی ہیں تو مزہبی یہودی طبقے سے اختلاف، الغرض ہر مزہب کو اپنے نفس کے مطابق تبدیل کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث اس مزہب کے محافظین سے عداوت انکا شیوہ ہے،  مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تمام الہامی مذاہب میں سے عیسائیت ہی میں اتنی گنجائش ہے جہاں یہ نظریہ پھل پھول سکے اسی باعث عیسائی ممالک میں ہیومن ازم کے پیرو کار زیادہ ہیں  اور مجموعی طور پر انہی عیسائیت زدہ  انسانیت پرستوں کی بہتات ہے. جبکہ یہودیت اور اسلام میں اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے اور دین کو سمجھنے اور سمجھانے والا طبقہ زیادہ  اور مؤثر ہے اسی لیے ان مذاہب کے ماننے والوں میں انسانیت نامی نظریے کے پیرو کار بہت کم ہیں.
اب آجائیے دوسری جانب کسی بھی ہیومنیسٹ 
 کو پکڑ کر بٹھا لیں اور اس سے پوچھ لیں کہ جناب یہ آپکے مذہب کا مصدر کیا ہے تو  ان سے جواب نہ بن پڑے گا کیونکہ مزہب اتنا ہی پرانا ہے جتنی یہ دنیا،انسانیت بذات خود مذہب کی ہی اختراع ہے کیونکہ دنیا کے کسی بھی کونے کی معلوم تاریخ مزہب کے باعث ہی معلوم بن پڑی ہے ، آپ ایک لمحے کے لیے تمام مذاہب کو دنیا سے مٹا دیجئے اور دیکھیے کہ پیچھے "انسانیت" نام کی کیا چیز باقی بچتی ہے. کونسا سا قانون، کونسا ضابطہ کونسا انصاف، کونسا اخلاق، کونسا احترام دنیا میں باقی رہتا ہے. 
رہی بات ہم جیسے مسلمانوں کی تو ہمارے نزدیک معیار، ہم سے پہلے آنے والے تمام مذاہب کا احترام کے ساتھ  ہمارا اپنا مذہب جو کہ پچھلے تمام الہامی مذاہب کا سردار ہے. اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت، رحمت اللعالمین ہیں، لہذا ان کی تعلیمات سے متصادم ہر نظریہ چاہے وہ کسی مخصوص وقت یا دور میں کتنا ہی پر اثر اور فائدہ مند کیوں نہ ہو ہمارے نزدیک نا قابل قبول تھا، ہے اور رہے گا.
تحریر
ملک انس اعوان

کراماتِ فرنگی نان

0 comments
29 رمضان 1437 ہجری کی رات ہے آسمان ستاروں سے بھرا پڑا ہے صباشب درختوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی ہے اور ایک وسیع سبزہ زار کے سامنے دو منزلہ خوبصورت قلعہ نما مسجد کے برقی قمقموں سے مزین صحن کے اندر امت مسلمہ کا با شرح جوان سر جھکائے، سراپا فکر و تدبر قرآن مجید کی آیات مبارکہ کی دھیمی مگر پرسوز آواز میں تلاوت کر رہا ہے. 
کچھ ہی دیر میں ایک صاحب ہاتھ میں  سبزیوں اور مرغ کے ٹکڑوں سے مزین فرنگی نان جسے اہل شہر پیزا کہتے ہیں تھامے ہوئے اس جوان کے قریب سے گزرتا ہے اور بغیر دعوت طعام دیے وہیں پہلو میں بیٹھ کر عین فرنگی ناز و انداز سے اس پکوان کی تمام لسانی و زہنی لذتوں سے شناسائی کی ابتدا کر دیتا ہے.....اب دوسری جانب کا منظر ملاحظہ 
فرمائیے...!
(تخیلِ اضافی) 
تلاوت کرتے ہوئے جوان کے لب سل جاتے ہیں، آنکھیں پھیل جاتیں ہیں اور آنکھوں کے ساحلوں پہ آنسوؤں کی لہریں آ دھمکتی ہیں، دل درد مند میں آہوں اور سسکیوں کی جھڑی لگ جاتی ہے. دل کے نہاں خانوں سے پیزا.... پیزا کی پر سوز صدائیں بلند ہوتی ہیں. 
مگر..... انسانیت تو شاید کب کی دم توڑ چکی اور خون سفید ہو چکے.....! 
اس پیزا کھاتے ہوئے آدمی کو رتی برابر بھی ترس نہیں آتا مگر اس جوان کو کیا معلوم تھا کہ یہی تو قبولیت کا وقت تھا اور اس کی دعا آسمانوں سے ہوتے ہوئے عرش تلک پہنچ چکی تھی. 
وہ جوان "ان الله مع الصابرین"  کا ورد کرتے ہوئے اور اپنے آنسو پونجھتے ہوئے دو نفل قضائے حاجت ادا کرتا ہے اور شدت غم سے نڈھال ہو کر مسجد کے ایے سی زدہ سرد  ہال میں لگے ہوئے اپنے بستر پہ لیٹ جاتا ہے مگر اس کی نگاہیں مسلسل کسی چیز کی جستجو میں مگن تھیں. 
(چند گھنٹے بعد) 
ایک نور کا ہالہ مسجد کے داخلی دروازے پہ نمودار ہوتا ہے، جوان کی بانچھین کھِل اٹھتیں ہیں، روں روں میں سرشاری پھیل جاتی ہے، چہرہ خوشی سے دمکتے لگتا ہے وہ بستر کو تیزی سے چھوڑتے ہوئے دیوانہ وار مسجد کے دروازے کی جانب دوڑتا ہے اور فرط جذبات میں اس فرشتہ صفت انسان سے بغل گیر ہو جاتا ہے جن کا نام باسط ہے اور وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے سابق ناظم مقام رہے ہیں. 
یہ دیوانگی، یہ سرشاری، یہ محبت، یہ الفت، یہ خلوص اس لیے ہے کہ ان کے دست مبارک میں کچھ اور نہیں بلکہ ایک عدد لارج سائز "پیزا" ہے......! 
احباب خاص کو بلایا جاتا ہے راقم الحروف کو بھی دوران استراحت اطلاع دی جاتی ہے  اور دعوت دی جاتی ہے جسے وہ خندہ پیشانی سے قبول فرماتے ہیں اور عین موقع پہ اس جوان کی کرامات کا اعتراف کرتے ہیں، یاد رہے ان کرامات کا سلسلہ صبح سحری تک جاری رہا اور سنت اعتکاف 2016 کے دوران پہلی بار اسی جوان کی دعا کی بدولت بوقت سحری  لسی شریف کا دیدار نصیب ہوا. 
یہ جوان بلکہ عظیم جوان کوئی اور نہیں فیصل اقبال گوپے راء تھے. یہ سارا واقعہ اس بطل عظیم کی کرامات تھیں یا اس مکمل روحانی ماحول کا اثر بہر حال جو بھی تھا انتہائی غیر معمولی تھا.
تحریر 
ملک انس اعوان