میں پہلے اپنی اصلاح کروں گا

0 comments

پہلی وحی اترتی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  غار حرا سے اتر کر  معاشرے میں آ کر اسلام کی دعوت دیتے ہیں، یہ بھی الله کی حکمت تھی کہ قرآن مجید کا نزول بھی میدان عمل میں مکمل ہوا، حضور اکرم ص نے قرآن مجید کے مکمل نازل ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا بلکہ دعوت دنیا کے آگے پیش کر دی، یہاں تک کہ غزہ بدر میں حضور خود ان جگہوں کی نشاندہی فرماتے رہے اور بتاتے رہے کہ کس جگہ کس کافر کو موت آئے گی ، اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے جب اقامت دین کی جدوجہد صرف اس بنیاد پہ چھوڑتے ہیں کہ ابھی ہم اپنی اصلاح کر لیں باقی بعد میں دیکھیں گے، تو میں حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہوں. حلانکہ ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ادھر اسلام قبول کیا اور اگلے ہی دن اپنی  اصلاح کا بہانہ بنانے کی بجائے  اور نماز روزہ  سیکھے بغیر خود کو میدان کارزار میں رب کے حضور پیش کر دیا.... یہی معیار صحابہ رض ہے یہی طریق طریق صحابہ رض ہے.......!
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔