بڑھتی عمر اور شعور
رفتہ رفتہ دنیا کی رنگینیت کو زائل
کر دیتے ہیں ۔دلچسپیاں متواتر بدلتی اور
پھر اختتام کی جانب بڑھتی چلی جاتی ہیں ،بالخصوص وہ لوگ جو وقت سے پہلے بوڑھےہو جائیں وہ تو
پانی کے ایک منہ زور اور بے لگام
دھارے پہ سوار ہوتے ہیں ،اتنا ہیبت ناک
کہ اس
کا شور کانوں کے پردے پھاڑ دے ، جس کی سفیدی آنکھوں سے انکا نور چھین لے
اوراس قدر سفاک کہ پانی جیسی بے رنگ چیز کو بھی سفید کر دے تو اس کے سامنے جسم میں بہتا لہو کیا شے ہے؟
اتنا سب کچھ چھین لینے کے بعد جب وہ جگہ پائے تو اٹھا کر
پتھریلے ساحل کے فرش پہ پٹخ ڈالے اور اس
قدر ٹھہراؤ اختیار کر لے کہ گمان ٹھہرنے لگے کہ یہ پانی تو کبھی یہاں سےکہیں گیا
ہی نہیں تھا۔تو ایسی اضطراب انگیز کیفیت میں ہمت جواب دے دیتی ہے،خود کو بچانے کا
اوراپنی بقا کا خیال ذہن سے کوچ کر جاتا
ہے اور بالآخر حواس اس سکون اور ٹھہراؤ کے واقعی موجود ہونے سے
انکار کر دیتے ہیں ۔وہی بے حس جسم جو ساحل کے پتھریلے فرش پہ پڑا تھا ایک اور طوفان کی تلاش میں خود
کو گھسیٹنے لگتا ہے ۔ایسا طوفان جو شدت میں گزشتہ طوفان سے بڑا اور ہیبت ناک ہو جو
اس قدر طاقت رکھتا ہو کہ حواس کے باقی ماندہ اجزاء کو بھی کچل ڈالے۔جب انحصار
انسانوں پر ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے جبکہ آپکا
اللہ آپکا منتظر ہوتا ہے، آپ چل کر آتے ہیں تو وہ دوڑ کر آتا ہے۔۔۔۔۔! آخر
ہم اسکی مخلوق جو ہیں، ایسی مخلوق جس سے وہ 70 ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے
۔اسی لیے کہتے ہیں کہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اس کا اللہ ہوتا ہے اور بے شک ہوتا ہے۔
ملک انس اعوان











گڈ انس بھائی
زرہ نوازی ہے بھائی جان
زرہ نوازی ہے بھائی جان
خوبصورت
خوبصورت
خوبصورت