کراماتِ فرنگی نان

0 comments
29 رمضان 1437 ہجری کی رات ہے آسمان ستاروں سے بھرا پڑا ہے صباشب درختوں سے اٹھکھیلیاں کر رہی ہے اور ایک وسیع سبزہ زار کے سامنے دو منزلہ خوبصورت قلعہ نما مسجد کے برقی قمقموں سے مزین صحن کے اندر امت مسلمہ کا با شرح جوان سر جھکائے، سراپا فکر و تدبر قرآن مجید کی آیات مبارکہ کی دھیمی مگر پرسوز آواز میں تلاوت کر رہا ہے. 
کچھ ہی دیر میں ایک صاحب ہاتھ میں  سبزیوں اور مرغ کے ٹکڑوں سے مزین فرنگی نان جسے اہل شہر پیزا کہتے ہیں تھامے ہوئے اس جوان کے قریب سے گزرتا ہے اور بغیر دعوت طعام دیے وہیں پہلو میں بیٹھ کر عین فرنگی ناز و انداز سے اس پکوان کی تمام لسانی و زہنی لذتوں سے شناسائی کی ابتدا کر دیتا ہے.....اب دوسری جانب کا منظر ملاحظہ 
فرمائیے...!
(تخیلِ اضافی) 
تلاوت کرتے ہوئے جوان کے لب سل جاتے ہیں، آنکھیں پھیل جاتیں ہیں اور آنکھوں کے ساحلوں پہ آنسوؤں کی لہریں آ دھمکتی ہیں، دل درد مند میں آہوں اور سسکیوں کی جھڑی لگ جاتی ہے. دل کے نہاں خانوں سے پیزا.... پیزا کی پر سوز صدائیں بلند ہوتی ہیں. 
مگر..... انسانیت تو شاید کب کی دم توڑ چکی اور خون سفید ہو چکے.....! 
اس پیزا کھاتے ہوئے آدمی کو رتی برابر بھی ترس نہیں آتا مگر اس جوان کو کیا معلوم تھا کہ یہی تو قبولیت کا وقت تھا اور اس کی دعا آسمانوں سے ہوتے ہوئے عرش تلک پہنچ چکی تھی. 
وہ جوان "ان الله مع الصابرین"  کا ورد کرتے ہوئے اور اپنے آنسو پونجھتے ہوئے دو نفل قضائے حاجت ادا کرتا ہے اور شدت غم سے نڈھال ہو کر مسجد کے ایے سی زدہ سرد  ہال میں لگے ہوئے اپنے بستر پہ لیٹ جاتا ہے مگر اس کی نگاہیں مسلسل کسی چیز کی جستجو میں مگن تھیں. 
(چند گھنٹے بعد) 
ایک نور کا ہالہ مسجد کے داخلی دروازے پہ نمودار ہوتا ہے، جوان کی بانچھین کھِل اٹھتیں ہیں، روں روں میں سرشاری پھیل جاتی ہے، چہرہ خوشی سے دمکتے لگتا ہے وہ بستر کو تیزی سے چھوڑتے ہوئے دیوانہ وار مسجد کے دروازے کی جانب دوڑتا ہے اور فرط جذبات میں اس فرشتہ صفت انسان سے بغل گیر ہو جاتا ہے جن کا نام باسط ہے اور وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے سابق ناظم مقام رہے ہیں. 
یہ دیوانگی، یہ سرشاری، یہ محبت، یہ الفت، یہ خلوص اس لیے ہے کہ ان کے دست مبارک میں کچھ اور نہیں بلکہ ایک عدد لارج سائز "پیزا" ہے......! 
احباب خاص کو بلایا جاتا ہے راقم الحروف کو بھی دوران استراحت اطلاع دی جاتی ہے  اور دعوت دی جاتی ہے جسے وہ خندہ پیشانی سے قبول فرماتے ہیں اور عین موقع پہ اس جوان کی کرامات کا اعتراف کرتے ہیں، یاد رہے ان کرامات کا سلسلہ صبح سحری تک جاری رہا اور سنت اعتکاف 2016 کے دوران پہلی بار اسی جوان کی دعا کی بدولت بوقت سحری  لسی شریف کا دیدار نصیب ہوا. 
یہ جوان بلکہ عظیم جوان کوئی اور نہیں فیصل اقبال گوپے راء تھے. یہ سارا واقعہ اس بطل عظیم کی کرامات تھیں یا اس مکمل روحانی ماحول کا اثر بہر حال جو بھی تھا انتہائی غیر معمولی تھا.
تحریر 
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔