روشنی ابھرتی ہے

0 comments

روشنی ابھرتی ہے
روشنی لپکتی ہے
صبح کے ستاروں میں
علم و فکر کے دھاروں میں
روشنی مچلتی ہے
روشنی کا مسکن تو
روشنی ہی ہوتی ہے
روشنی کی راہوں میں
جو جسم و جاں جلاتے ہیں
دست و قلم چلاتے ہیں
اہل ہوس کے تیروں سے
جسم و بدن کے زخموں سے
روشنی ہی پاتے ہیں
کہ روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی بکتی ہے
روشنی ہی ملتی ہے
روشنی ہی ڈھلتی ہے
آبلہ پا سے مسلسل
روشنی پگھلتی ہے
روشنی کی راہوں میں
روشنی ہی مرکز ہے
روشنی ہی محور ہے
روشنی ہی حاصل ہے
روشنی ہی مقدر ہے

ملک انس اعوان

(مصر کے اس بطل عظیم اور روشنی کے مسافر کے نام کہ جن کا دیا ہوا نظریہ اسلام عرب و عجم کے نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن چکا ہے
امام حسن البناء شہید رح )

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔