ایک شہر میں عجیب و غریب بیماری کی وبا پھوٹ پڑی، لوگ سینکڑوں کی تعداد میں بیمار پڑنے لگے، ہسپتال مریضوں سے بھرنے لگے، دوائیوں کی قلت ہو گئی، لوگوں کی خلوص نیت جوش میں آئی اور وہ ایک ایک فرد کی اصلاح اور بیماری کا علاج کرنے میں جٹ گئے، آہستہ آہستہ علاج کرنے والے بھی بیمار پڑنے لگے، کیونکہ اس بیماری کا اثر پورے ماحول پہ طاری ہو چکا تھا.
لیکن اسی دوران ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا کہ الله کے بندو پہلے پتہ تو کرو کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے، پتہ چلا کہ امیر شہر کے گھر سے ترسیل ہونے والے پانی میں مسئلہ ہے کیونکہ اختیارات کا کنواں صرف امیر شہر کے گھر میں ہی موجود تھا.
یہ سن کر ڈرپوک لوگ پیچھے ہٹ گئے اور طرح طرح تاویلیں گھڑنے لگے حلانکہ وہ جانتے تھے کہ خرابی کہاں ہے.کیونکہ اجتماعیت میں ان افراد کی شناخت مٹنے کا خدشہ تھا اور وہ چاہتے تھے کہ اس مشکل کام کی بجائے آسان کام کیا جائے تاکہ بعد میں یاد رکھا جائے کہ فلاں آدمی نے اتنے مریضوں کی خدمت کی اور فلاں کے زیر اثر اتنے مریض علاج پا رہے ہیں.
مجھے مولانا مودودی رح کا قول یاد آگیا
" یہ شریعت بزدلوں اور نامردوں کے لیے نہیں اتری ہے،
نفس کے بندوں اور دنیا کے غلاموں کے لیے نہیں اتری ہے،
ہوا کے رخ پر اڑنے والے خس و خاشاک اور پانی کے بہاؤ پر بہنے والے حشرات الارض اور ہر رنگ میں رنگ جانے والے بے رنگوں کے لیے نہیں اتری ہے۔
یہ ان بہادر شیروں کے لیے اتری ہے جو ہوا کا رخ بدل دینے کا عزم رکھتے ہوں۔
جو دریا کی روانی سے لڑنے اور اس کے بہاؤ کو پھیر دینے کی ہمت رکھتے ہوں۔
جو صبغتہ اللہ کو دنیا کے ہر رنگ سے محبوب رکھتے ہوں۔
اور اسی رنگ میں تمام دنیا کو رنگ دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔"
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔