یادداشتیں

0 comments

نانا جان بوجہ علالت بستر پہ لیٹے ہوئے تھے انکا دیہان بٹانے کے لیے ان کے پاؤں کی قریب بیٹھ گیا اور پوچھا کہ ناناجان آپ جماعت اسلامی سے کب متعارف ہوئے؟
ہلکا سا مسکرائے اور کہنے لگے کہ آپ کے جب میں جوان ہوتا تھا تو آپ کے دادا ابو اور ان کے چند دوست جن کا مختلف چکوں سے تعلق تھا اکٹھے رہا کرتے تھے، آہستہ آہستہ میری انسے شناسائی بڑھی اور یہ شناسائی جلد ہی دوستی میں بدل گئی،  یوں چند جماعتیوں کے اندر ایک اور جماعتی کا اضافہ ہو گیا. وہ دن اور آج کا دن کہ برادری اور گاؤں مختلف ہونے کے باوجود یہ شناسائی دوستی اور پھر تیزی سے دوستی سے رشتہ داری میں بدل گئی.
میں سوچنے لگا کہ
یہاں قابل غور بات تحریک اسلامی کے کارکنان کی وہ متاثر کرنے کی صلاحیت ہے جو کہ سید ابوالاعلی مودودی رح کے بقول ایک ایک کارکن میں بدرجہ اتم مطلوب ہے. اور یہی خاصیت تحریک اسلامی کی اندرونی اور بیرونی طاقت اور تعداد کو جِلا بخشتی ہے.
16 /6/2016
چیمہ ہارٹ کمپلیکس گجرانوالہ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔