دورہ کشمیرمع تصویر

5 comments
 اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ ہماری جامعہ کو چند روز کے لئے سیکیورٹی کے نا مناسب انتظامات کی وجہ سے تعطیلات کرنا پڑیں .ادھر تعطیلات ہوئیں اور اُدھر ہمارے دل میں کھٹکا سا ہوا کہ کیوں نہ ان دنوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے یہی سوچتے سوچتے رات کو سونے لگا تو اچانک سے وقاص چغتائی ( ناظم اسلامی جمعیت طلبہ راولپنڈی ڈویژن ) کی بار بار کشمیر جانے کی دعوت دماغ میں گردش کرنے لگی ۔ انکو فون کیا اور حسب معمول وہ بھی جیسے پہلے سے تیار بیٹھے ہوں فوراً حامی بھرلی، کشمیر میں ضلع باغ اور اس سے ملحقہ علاقے طے پائے گئے ۔ موسم کا حال دیکھا گیا تو محکمہ موسمیات کے مطابق موسم بالکل صاف اور اجلی دھوپ کی پیش گوئی تھی۔ 
اگلے دن شام کو لاہور سے حسیب اکبر بھائی( یونیورسٹی آف سرگودھا کے طالب علم اور میرے کالج کے زمانے کے دوست) سے رابطہ کیا تو وہ فوراً سے مان گئے اور اسی رات شیخوپورہ سے راولپنڈی کی جانب روانہ ہو گئے ، منصوبہ عمل کے مطابق وقاص بھائی اور مجھے صبح 5:30 پر راولپنڈی پہنچنا تھا مگر چند وجوہات کی بنا پر ہم 3 گھنٹے دیر سے راولپنڈی پہنچے جہاں پچھلے تین گھنٹے سے حسیب اکبر بھائی ہمارے انتظار میں آدھے ہو چلے تھے۔
وقت کی قلت کو مد نظر رکھتے ہوئے ناشتہ کیا گیا اور ضلع باغ آزاد کشمیر کے لئے بس میں سوار ہو گئے۔
پہلے والپنڈی گزرا اور اسلام آباد کی حدود شروع ہو گئیں لیکن کچھ دیر ضلع راولپنڈی کی حدود کا آغاز ہوا جس کے ساتھ ہمارا ساتھ آزاد کشمیر تک رہا۔
رستے میں ایک پل آیا جس کےپار کشمیر کی حدود کا آغاز ہو رہا تھے۔ اس طرف پنجاب پولیس اور دوسری جانب کشمیر پولیس کے اہلکار کھڑے تھے جو ہر بس میں داخل ہو کر شناختی کارڈ دیکھتے۔
پل کی حالت نہایت خستہ تھی اوریہ پل سٹیل کو تاروں کے ساتھ سٹیل کی سلیں باندھ کی بنایا گیا تھا اس لئے جب کوئی بس یا گاڑی اس پر سے گزرتی تو عجیبسی آوازیں پیدا ہوتیں ۔
وہ پل جس کی دوسری جانب پاکستان ہے اور اس جانب ریاست کشمیر
قریباً 4 گھنٹے کی مسافت طے کرنے کے بعد ہم جماعت اسلامی باغ کے ضلعی دفتر اور مسجد و مدرسہ عمر (رض) پہنچ گئے جہاں ظہر کی نماز ادا کی اور اپنے میزبان حضرات کا انتظار کرنے لگے .
اتنے میں باغ جمعیت کے رکن ریحان بھائی بھی آن پہنچے جنہوں نےچھت پر جا کر ہمیں باغ اور اس کے قرب میں موجود چوٹیاں دکھائیں اور ان کے نام بتائے۔

دائیں سے بائیں حسین اکبر ، وقاص چغتائی اور ریحان بھائی


راقم الحروف(ملک انس اعوان) موبائل پر3جی چلانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے

یہاں سے آگے کیسے جانا تھا اور کہاں جانا تھا اس کی ہمیں کچھ خبر نا تھی ۔ ریحان بھائی نے ہمیں کھانا کھلایا اور کچھ ہی دیر میں ہمارے میزبان بھی آن پہنچے۔
دو موٹر سائیکلیں اور 5 لوگ اس لئے ضروری سامان کو ایک بیگ میں ڈالا گیا اور باقی کو ایک قریبی دکان میں رکھوا دیا گیا۔ دیکھتے دیکھتے موسم بگڑنے لگا اور اور ہمیں لینے آنے والے اظہر بھائی (سابق رکن جمعیت) اور فرخ خلیل ( سابق ناظم جمعیت باغ مقام ) کے چہرے متفکر ہونے لگے ۔
اظہر بھائی انتہائی خلوص اور محبت کی تصویر تھے ہمیں اپنے گاؤں کی جانب لے گئے ۔طے یہ پایا کہ ایک موٹر سائیکل پر میں اور وقاص بھائی جبکہ دوسری موڑت سائیکل پر باقی افرادسوار ہوں گے ۔
رستے میں ایک نہایت خوبصورت پل آتا ہے جو دل موہ لیتا ہے۔



ہم سمجھے تھے کہ اظہر بھائی کا گھر قریب ہی ہوگا مگر سفر طر ہوتا گیا چڑھائی اس قدر تھی کہ 125 سی سی موٹر سائیکل سے ایک ساتھی اتر جاتا اور دوسرے اگلی دھلوان آنے کا نتطار کرتا۔
سردار فرخ خلیل اپنی موٹر سائیکل کے ساتھ
جب ہم چکنڑی گاؤں پہنچے تو نماز مغرب کا وقت ہوا چاہتا تھا سو ہم نزدیکی مسجد جو اتنی بھی نزدیک نہیں تھی گئے اور نماز ادا کی۔

مسجد میں ہمارے علاوہ فقط ایک اور نمازی تھے، نماز کے بعد اظہر بھائی کے گھر پہنچے لیکن مسجد پر واپسی پر حسیب اکبر بھائی کے اس معصومانہ سوال پر سبھی لوگ کھلکھلا اٹھے کہ
 " کیا ہر نماز کے لئے اتنی دور مسجد آنا پڑے گا؟"


اظہر بھائی نے نہایت پر تکلف دعوت کا اہتمام کر رکھا تھا۔ کھانے کے بعد ہم سب بیٹھ گئے اور اپنی اپنی سنانے لگے ۔
خاص طور پر جب جماعتی افراد اکٹھے بیٹھے ہوں تو انکی گفتگو اور واقعات انتہائی دلچسپ ہوا کرتے ہیں جماعت اسلامی کی قیادت سے لے کر ضلع باغ کی علاقائی سیاست کو زیر بحث لایا گیا اور پرانی بھولی بسری یادوں کو تازہ کیا گیا۔
اگلے دن اٹھے تو بارش ہو رہی تھی جس نے ہمارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ چاروں طرف دھند سی چھا گئی۔


حسیب اکبر بھائی
دن 11 بجے تک یہی بارش جاری رہی لیکن جیسے ہی رکی ہم دوبارہ باغ شہر کی جانب روانہ ہو گئے کیونکہ اب ہمیں "چوکی" کی جانب جانا تھا جو باغ شہر سے دوسری جانب تھا، جبکہ نماز جمعہ کا وقت بھی قریب آتا رہا تھا۔
جمعے کی نماز مسجد عمر رض (قندیل چوک باغ شہر) میں ادا کی اور زرا سی دھوپ نکلتے ہی چوکیکے لئے روانہ ہو گئے جو کہ وقاص چغتائی بھائی کا آبائی گاؤں ہے۔
یہاں پہنچے تو رستے میں موٹر سائیک کھڑی کر دی کیونکہ اس سے اوپر صرف پیدل ہی جایا جا سکتا تھا۔ وقاص بھائی کا آبائی گھر بالکل مکمل ساز و سامان کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا تھا جس کے باہر ایک چھوٹا سا تالا لگا ہوا تھا، گھر کے اند چینی پتی سے لے کر آٹے چاول تک ہر چیز موجود تھی۔حلانکہ وہ یہاں کبھی کبھار گرمیوں میں ہی رہائش اختیار کرتے ہیں۔
وقاص بھائی اپنے آبائی گھر میں دھوپ کا مزہ لیتے ہوئے

یہاں ہمیں بتایا گیا کہ اب ہماری اگلی منزل فرخ چغتائی بھائی کا گھر جو کہ اس پہاڑی ڈھلوان کا آخری مکان ہے۔۔۔۔اللہ اکبر
چلتے چلتے سانس پھول گیا اور مسلسل چڑھائی سے ٹانگیں اور کندھے دکھنے لگے چناچہ زیارت نامی ایک جگہ پر قیام کیا، کچھ ہی لمحوں بعد بارش شروع ہو گئی اور شام کا اندھیرا پھیلنے لگا ۔
قریب ہی رہایش پزیر ایک آدمی نے ہمیں دیتھا اور کھانا کھانے کی زبردستی دعوت دے ڈالی مگر پر جلد از جلد اوپر پہنچنا چاہتے تھے اس لئے انکار کیا مگر وہ صاحب گھر گئے اور ایک چھتری اٹھالائے کہ کم از کم اس بارش سے تو بچ جائیں ۔ نظریں ٹھا کر نیچے دیکھا تو حیران رہ گیا کہ اب ہم ہلکے بادلوں سے بہت اوپر آ چکے ہیں ۔

چھتری تھام کر دوبارہ سفر شروع کیا اور اللہ اللہ کر کے فرخ بھائی کے گھر پہنچ گئے۔
وہاں پہنچتے ہی میں نڈھال ہو کر بستر پر گر گیا ۔کچھ ہی دیر میں کھانا لگا دیا گیا ۔







کھانے کے بعد فرخ بھائی کے والد محترم بھی ہمارے درمیاں موجود تھے جو کہ وقاص بھائی کے چچا جان بھی تھے۔ محترم پولیس کے محکمے میں ہیں اور نہایت خوش مزاج آدمی ہیں ۔
وقاص چغتائی ، فرخ خلیل بھائی کے والد محترم اور سردار اظہر بھائی
بس پھر خوب محفل جمی اور قہقہے بلند ہوئے فرخ بھائی کا بے نیازی بھرا انداز گفتگو سب کو بھا گیا تھا جس کے باعث محفت کشت زعفران بن چکی تھی۔

اس کے بعد فرخ بھائی نے EVOکے ذریعے انٹر نیٹ سروس فراہمی کو یقینی بنا ڈالا جس سے سب اپنے اپنے موبائل میں
کھو گئے۔۔۔۔۔



اگلی صبح حسیب بھائی کی فرائیش پر کہ انہوں نے برف دیکھنی ہے ہم اس سلسلے کے سب سے بلند مقام کی جانب عازم سفر ہوئے۔


گنگا کی چوٹی

موسم خزاں کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے چند پہاڑی پھول




بھاری برف باری سے متاثر ہونے والے مکانات جو کہ رستے میں 7 یا 8 کی تعداد میں موجود تھے جن کو مقامی زبان میں ڈھوک کہا جاتا ہے۔



   پیاس کی شدت کو برفیلےپانی سے بجھایا جس کی وجہ سے ہونٹ جل گئے اور بعد ازاں ہلکی سی مرچ لگنے سے بھی تکلیف دیتے رہے۔
     

یہ نیچے وہ چوٹی ہے جس کو سر کرنے کا ارادہ تھا۔ اس کی دائیں جانب موجود چوٹی پر  پاکستان آرمی کی چیک پوسٹ قائم ہے۔
 کشمیر کے مرغزار جو اپنی مثال آپ ہیں ۔





خزاں کی چاندی ، بادلوں کی ہمسائیگی ،دور چند خالی مکان ،بوڑھے درخت، اٹھلاتی ہوئی سرگوشیاں کرتی ہوئی سرد ہوا بس یہی تو ہے کشمیر!!!







راقم الحروف  اپنے ناظم صاحب سے راز و نیاز کرتے ہوئے ، وہ پوچھ رہے تھے کہ یہاں بیٹھ کر کیا کر رہے ہیں جبکہ اس سوال پر میرا جواب یہ تھا کہ اٹھکیلیاں کرتی ہوئی  سرد ہوا کی سنسناہٹ بار بار یہ کہہ رہی ہے کہ اب مجھے شادی کر ہی لینی چاہیے۔ 
:) 


فرخ بھائی حسب معمول جوش خطابت کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ وقاص بھائی ان قیمیتی لمحات کی عکس بندی میں مصروف عمل ہیں ۔



راقم الحروف اپنی تخلیقی صلاحتیوں کا  اظہار کر رہے ہیں ۔ 





کچھ وجوہات کی بنیاد پر ہم تو نیچے ہی رک گئے مگر باقی ساتھیوں نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا جن میں سب سے آگے یہ اوپر والی تصویر میں موجود حسیب اکبر بھائی تھے جو پہلے تو بہت جوشیلے انداز میں اوپر کی جانب چلتے رہے مگر جب چڑھائی بہت زیادہ مشکل ہوگئی تو ہمتہار گئے مگر پھر بھی مسلسل چلتے رہے اور چوٹی پر پہنچ گئے۔ 











رستے میں آنے والی خستہ حال قبریں جو مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے قریباً کھل چکیں تھیں اور ان کے اند آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔




نماز عشاء کے وقت ہماری "چوکی" گاؤں میں واپسی ہوئی وہاں پہنچ کر ہماری ضیافت کا اہتمام کیا گیا تھا۔







کشمیر کی مشہور سوغات کشمیری کلچے کی تیاریکی تصاویر  جس کو ہاتھ میں پکڑ کو توڑا جاتا ہے اور پھر چائے میں ڈال کر چمچ سے کھایا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ خطائی سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔






تحریر
ملک انس اعوان