ائے رکے ہوئے راہ حق کے ساتھی
چلو کہ رستوں کی اجنبیت
بڑھیں گے آگے توہی مٹے گی
چلیں گے باہم تو ہی کٹے گی
سنو میں تم سے ہی کہہ رہا ہوں
ابھی مسافت طویل تر ہے
ابھی تو رستہ شروع ہوا ہے
ابھی سے ہی دم اکھڑ رہا ہے
ابھی تو میداں گزر رہے ہیں
ابھی تو پتھر پڑے نہیں ہیں
ابھی تو آہوں اور سسکیوں نے
ہمارے اپنے ڈسے نہیں ہیں
ابھی تو آغاز گفتگو ہے
ابھی تو لہجے تھکے نہیں ہیں
ابھی دلیلیں بھی کارگر ہیں
ابھی محبت اٹھی نہیں ہے
ابھی تو شہر بھر کی محفلوں میں
ہماری خوشبو بسی ہوئی ہے
ابھی فقط دل کو مات دو تم
اور میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو تم
جو تم چلو تو میں دکھاؤں
کہ سحر کی کرنیں مچل رہی ہیں
دریائے الفت کے ساحلوں پر
خوشی سے لہریں پلٹ رہی ہیں
جو لہلہا کے اور بل کھا کر
ہم اور تم سے یہ کہہ رہی ہیں
اٹھو کہ رستے تھکے نہیں ہے
چلو کہ منزل ملی نہیں ہے
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔