راہ حق کے ساتھی

0 comments
ائے رکے ہوئے راہ حق کے ساتھی 
چلو کہ رستوں کی اجنبیت
بڑھیں گے آگے توہی مٹے گی 
چلیں گے باہم تو ہی کٹے گی
سنو میں تم سے ہی کہہ رہا ہوں 
ابھی مسافت طویل تر ہے
ابھی تو رستہ شروع ہوا ہے 
ابھی سے  ہی دم  اکھڑ رہا ہے
ابھی تو میداں گزر رہے ہیں 
ابھی تو پتھر پڑے نہیں ہیں
ابھی تو آہوں اور سسکیوں نے 
ہمارے اپنے ڈسے نہیں ہیں 
ابھی تو آغاز گفتگو ہے 
ابھی تو لہجے تھکے نہیں ہیں 
ابھی دلیلیں بھی کارگر ہیں 
ابھی محبت اٹھی نہیں ہے
ابھی تو شہر بھر کی محفلوں میں 
ہماری خوشبو بسی ہوئی ہے 
ابھی فقط دل کو مات دو تم 
اور میرے ہاتھوں میں ہاتھ دو تم 
جو تم چلو تو  میں دکھاؤں
کہ سحر کی کرنیں مچل رہی ہیں
دریائے الفت کے ساحلوں پر
خوشی سے لہریں پلٹ رہی ہیں
جو لہلہا کے اور بل کھا کر 
ہم اور تم سے یہ کہہ رہی ہیں 
اٹھو کہ رستے تھکے نہیں ہے 
چلو کہ منزل ملی نہیں ہے


ملک انس اعوان



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔