بنام

0 comments
تم میرے وہم ،میرے گمان میں ڈھل جاتے  ہو
تم ہر لحظہ میرے دیہان میں ڈھل جاتےہو
روشنی دیتے ہو  مگر ہاتھ جلا دیتے ہو
مثل شاہکار ہر رنگ میں ڈھل جاتے ہو
تمہارا ہونا ہی ہے میرے لیے باعث تسکین
تم سر شام میرے جام میں ڈھل جاتے ہو
میں جو کرتا ہوں اکثر نہیں ہوتا مجھسے
تم میرے ذہن کے ہر کام میں ڈھل جاتے ہو
اک تم ہی سے تو ہے پیدا میرے یقیں کی صورت
تم کڑے وقت میرے نام میں ڈھل جاتے ہو
پوچھتے ہو کہ بھلا خاص کیا ہے تم میں؟
تم بہت خاص مگر خام میں ڈھل جاتے ہو


ملک انس اعوان


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔