اٹک سے شیخوپورہ تک

0 comments
گزشتہ کل بمطابق 12 رمضان وہ دوسرا دن تھا جب میں نے خود اپنے دست مبارک سے اپنی افطاری تیار کی وگرنہ احباب کی محبت ہمیں ایسا کرنے سے روک دیتی تھی۔ افطاری کے بعد تک ہم فہد بھائی کے  ساتھ کھانا اور مشروب نوش فرمانے  کے بعد  اٹک کی سڑکیں ناپتے رہے اور ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ​ (میاں جی پلازہ   ہاسٹل) پہنچے جبکہ لاہور جانے والی بس کا ٹائم 11 بجے تھا چناچہ ہنگامی صورت حال میں بندہ فقیر نے اپنے تمام کپڑے ایک بڑے بیگ میں اور مچھر دانی بطور زادِراہ سنبھال لی اور ہانپتے ہانپتے اٹک اڈے پہنچے جہاں بس فقط ہمارے ہی انتظار میں رکی ہوئی تھی۔عین وقت پر بس روانہ ہو گئی ،خاتون خدمت گار نے اٹک کے روایتی لہجے میں اٹک اٹک دعائے سفر پڑھوائی ۔پھر ہم نے دو تین عربی ترانے ہیڈ فون لگا کر سنے لیکن میرے ساتھ بیٹھے ہوئے بابا جی بڑی تنقیدی نگاہ سے میری جانب دیکھنے لگا چناچہ ہید فون اتار کر رکھ دیے ۔ اللہ اللہ کرکے بس کلر کہار سروس  ایریا میں پہنچی تو سحری کا وقت ہوا چاہتا تھا تو بس پھر کیا تھا ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤراجہ شاہ رُخ​ بھائی کی بیکری سے خریدے ہوئے انگریزی سیڈوچز  کے ساتھ سحری کی اور دوبارہ عزم سفر باندھا۔ایک اور سروس ایریا میں رک نماز فجر ادا کی تو وہاں داخل ہوتے ہی دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کو مسجد کے دروازے پر صرف اسی کام کے لئے رکھا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو جوتی مسجد میں نہ رکھنے دیں ۔ ایک بابا جی اور اوپر سے پٹھان (الحمداللہ) آگے بڑھے تو اس ملازم نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔بڑے میاں نےمذہبی جوش و خروش سے اس سے لڑنا شروع کردیا ، بس پھر باقی رستے ہم ان بابا جی کا غصہ ٹھنڈا کرتے رہے وگرنہ وہ تو اپنا شجرہ چنگیز خان سے جوڑ رہے تھے۔اس وقت راقم الحروف اپنے گھر میں بیٹھا سکون کی سانسیں لے رہا ہے۔۔

راقم الحروف 
ملک انس اعوان

تصویریں بولتی ہیں

6 comments

تصویر کشی بھی تو ایک تحریر لکھنے جیسی ہے جس میں آپ مناسب رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ہر رنگ ایک علیحدہ تاثیر جو کہ دوسرے سے مختلف اور جدا ہوتی ہے، کو من مرضی و منشا کے مطابق کاغذ کے اس کونے سے دوسرے کونے تک خاص ترتیب سے پھیلا دیا جاتا ہے ،اور جب سب رنگ اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے ہیں تو شاہ پارے جنم لیتے ہیں۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک چیز ایسی بھی ہوتی ہے کہ جس میں نہ رنگ ہوتا ہے اور نہ کوئی خاص ترتیب ، وہ لکیروں کا ایک ایسا مرکب ہوتا ہے جو ذہن کو سوچنے پر اور کچھ تخلیق کرنے پر اکسا دیتا ہے۔وہ کتاب ہے۔وہ کتاب جو چند لمحوں میں ماضی سے مستقبل تک عکس کی ترتیب بنا دیتی ہے،جو ہاتھ میں پکڑے ہوئے برش کے رنگ آلود ریشوں کو کینوس کے باریک باریک ریشوں سے الجھنے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ ریشے آپس میں رنگوں کا تبادلہ کرتے چلے جاتے ہیں ، بیل بوٹے،پہاڑ، خزاں ، بہار، مکان ،بادل اور وہ سب کچھ جو ایک آنکھ دیکھ سکتی ہے کنوس پر اپنا وجود بناتے چلے جاتے ہیں ۔وہی سفید سا کینوس اب بنانے والے کے خیال کے مطابق تمام تر باریکیوں کو سموئے ہوئے آنکھوں کو خیزہ کرتا چلا جاتا ہے۔انہی رنگوں کی سرخی میں کہیں مصور کی جوانی،سیاہی میں غم چھپے ہوتے ہیں ۔ہم سوچتے ہیں کہ ایک ہی تخلیق ہر بار دیکھنے پر ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے یہ بس آپکوآئینہ دکھا رہی ہوتی ہے ،رنگوں ،لکیروں ،دائروں کو مطلب تو آپ بذات خود عنایت کرتے ہیں ۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان


Pic by:Matia Sierra
http://matiassierra.net
The original picture http://matus76.deviantart.com/art/Self-Taught-411149744

احساس اور دوستی

0 comments
سوال :آپ ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں لیکن آپ اس کا انکار بھی کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے دوم آپ کے نزدیک دوستی سے کیا مراد ہے اور "احساس" کا اس میں کتنا کردار ہے؟
جواب : میرے بارے میں زیادہ لوگ یہ قیاس کرتے ہیں کہ جناب کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے لیکن در اصل حقیقت کچھ اور ہے۔میرے نزدیک دوستی صرف وقت گزاری اور کوئی قلیل وقتی مشروط رشتہ نہیں ہے بلکہ آخری سانس تک احساس کے انتہائی باریک باریک نقطوں کو سمجھنے کا نام دوستی ہے۔اور میرے ذہن میں ایک دوست کا جو تصور موجود ہے اس کا حقیقت میں تمام جملہ خصوصیات کے ساتھ ہونا قریباً نا ممکن سی بات ہے۔لیکن میری تلاش کبھی ختم نہیں ہوئی، ویسے بھی اس چند سالہ زندگی میں اتنا کچھ کر پانا  یا ہو جانا کچھ غیر معمولی سا لگتا ہے، یا یوں کہیے کہ نا ممکن۔ایک بات جو ہم نے محسوس کی ہے کہ کوئی بھی رشتہ احساس کے ایندھن کے بغیر زندگی کی  سڑک پر زیادہ دیر چل نہیں پاتا ۔ اور اس ضمن میں سب سے اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ "احساس" ان چند انسانی محسوسات میں سے ایک شے ہے جو کبھی بھی مصنوعی طور پر پیدا نہیں کی جا سکتی ۔اس کا پہلے سے ہونا ہی اس کے ہونے کی دلیل ہے، با امر مجبوری جو احساس جان بوچھ کر دلایا جائے اسے میں ذاتی طور پر احساس نہیں گردانتا۔ اسے آپ دوسرے فرد کی مہربانی ،عنایت یا رحم تو کہہ سکتے ہیں لیکن احساس نہیں۔دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عمومیً حساسیت کا جو پیمانہ رکھا جاتا ہے وہ سرے سے ہی غلط ہے۔میرے کچھ احباب کا اور قدرے میرا بھی یہ ماننا ہے کہ احساس کی ایک مناسب مقدار ہر انسان میں موجود ہوتی ہے جو انسان کی ترجیحات کے مطابق اثر انداز ہوتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترجیحات کس طرح طے کی جاتیں ہیں اس کا سب سے مناسب اور قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ آپ جس فرد کی ترجیحات معلوم کرنا چاہیں تو اس کی مصروفیت کا باریکی سے مطالعہ کیجئے جن چیزوں پر وہ شخص زیادہ وقت صرف کرے وہی اس کی ترجیح شمار کی جائے گی۔
اب جبکہ آپ کے پاس ترجیحات  موجود ہوں تو آپ خود محسوس کرنے لگیں گے کہ احساس کی مقدار ترجیحات میں زیادہ ہے۔اور یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کی ترجیحات وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔

تحریر
ملک انس اعوان

میرے لکھنے سے

2 comments
مجھے لگتا   ہے میرے   لکھنے سے
میرے دل    کو  شاید قرار  ملتا    ہے
سر شام میری    فرصت  ناکارہ     کو
روز کوئی موضوع   سخن    ملتا ہے
سانس   حرف  حرف پہ    آ اٹکتی ہے
جب  کوئی  محو    داستاں     ملتا ہے
ایک   میں   اور   اک   میرے     سوا
سارا   عالم    بے   زباں   ملتا    ہے
ایک  شکوہ مجھے بھی ہے خود سے
ائے مصروف تو مجھے کہاں ملتا ہے
بھینچ        لیتا    ہوں  مٹھیاں    اپنی
کوئی تجھ     سا     جہاں   ملتا    ہے
اختلاف   ہے   مجھے   ہر اُس   سے
مجھے جو     زیر آسماں   ملتا   ہے
یوں مجھے جملہ احباب کی صورت
اپنی  ہستی    کا     ضیاں  ملتا   ہے
------

ملک انس اعوان
------

دوستو

0 comments
سنو! درد ہے بے زباں دوستو
اور میں ہوں نبرد آزما دوستو
نہ کہو اگر چپ ہیں تو کچھ بھی نہیں 
ضبط میرا ہے آہ و فغاں دوستو
بادلوں کے مزاج بدل رہے ہیں یہاں
میرے صبر کا ہے کچا مکاں دوستو
جان لو مان لو بات یہ کام کی
تم ہی ہو میرا نصف جہاں دوستو

ملک انس اعوان


شرمندگی

0 comments
جمعے کا دن تھا اور جامعہ میں کوئی بھی لیکچر طے نہیں تھا چناچہ میں ہاسٹل میں اپنے پلنگ کے ساتھ ٹیک لگا کر اخبار پڑھ رہا تھا اتنے میں  صفائی والے صاحب آن وارد ہوئے۔یہ صاحب عیسائی ہیں اور طبعیت کے حساب سے بہت شوخ واقع ہوئے ہیں کام کرنے کے دوران ہمیشہ کوئی نہ کوئی گانا گنگناتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔لیکن آج عجیب بات تھی کہ اتنہائی خاموشی سے فرش پر وائپر پھیرے جا رہے تھے۔میں نے اونچی آواز میں دریافت کیا کہ جناب خیریت تو ہے آج اتنی خاموشی کیوں ہے؟ انہوں نے میری جانب دیکھا اور کہا کہ "انس بھائی آج جمعہ ہے اس لئے احترام میں خاموش ہوں"۔اتنے میں ہمارے ہاسٹل کا ایک مسلمان طالب علم پاس سے گزرا جس کے موبائل فون پر ایک ہندی  گانے کی دھن چل رہی تھی۔
اور میریں نظریں زمین میں گڑ گئیں۔۔۔۔!!!

تحریر 
انس اعوان 


کہاں حد نظر رکھتا

0 comments
ہزاروں مضمون ایسے ہیں
 جن کا عنواں نہیں لکھا
کبھی خود ہی نہیں لکھا
کبھی لکھا نہیں جاتا
کہاں سے ابتدا کرتا
کہاں پہ انتہا ہوتی
کہاں پہ مدعا رکھتا 
کہاں پہ ذکر کر جاتا
کہاں  پہلو بچا لیتا
کہاں معنی چھپا رکھتا
کہاں الفاظ کے مابین
تصور کو جمع رکھتا
کہاں کاغذ کی کشتی کو
سخن پر میں رواں رکھتا
کہاں حد طلب ہو تی
کہاں حد نظر رکھتا

انس اعوان







خلش دل

0 comments

خلش دل یہ بھی کوئی صورت ہے
 صنم خانے میں کوئی مورت ہے
مر مر کر پا رہے ہو حیات
اس تکلف کی کیا ضرورت ہے
آپ آئے تو بہت دیر سے آئے
اب مجھے آپ سے شکایت ہے
یہ رہا پیکر ہستی کا جواز
میرے واسطے یہی غنیمت ہے
یہ تماشا جو زمانے نے بنا رکھا ہے
اب مجھے حادثوں سے نفرت ہے
---
انس اعوان
----

8جون 2015
اٹک










سنو میں مرگیا شاید

2 comments

مبارک ہوں تمہیں یہ ساعتیں خوشیاں مبارک ہوں
وجود وصل کی چاہ میں یہ چند صدیاں مبارک ہوں

مبارک ہوں تمہیں پھر خواب کی ٹوٹی ہوئی کلیاں 
کہیں بکھری ہوئی الجھی ہوئی بے زار سی گلیا ں 
ہمیں ہے حوصلہ کہ اب تمہیں گرنے نہیں دیں گے
تمہارے نئے سہارے اب تمہیں بکھرنے نہیں دیں گے
وہاں پھر شوخیاں ہوں گی جہاں پر ہم نہیں ہوں گے
صرف تم ہی ہو گے اور تمہاری دوستیاں ہوں گی
سنو ! ممکن نہیں ہے پھر کبھی ویسے ہی ہو جاؤ
مکمل تو نہیں پر چند لمحے میرے ہی جاؤ
چلو چھوڑو تمہیں تمہید سے اتنی ہی نفرت ہے
مجھے معلوم ہے اُتنی تمہیں مجھسے ہی نفرت ہے
یہاں میری خواہش تھی یہاں میں مرثیہ لکھتا
کہیں لکھتا میں اپنی ذات پھر ناکامیاں لکھتا
یہاں لکھتا صرف ایام وہ جن میں اذیت تھی
جہاں میرے ہی بس میں نہیں میری طبیعت تھی
کبھی یوں بھی ہوا شاید کبھی یوں بھی ہوا شاید
سنو میں مرگیا شاید ،سنو مین مر گیا شاید

-----
ملک انس اعوا ن
8 جون 2015
12:32am


بے جان الفاظ

0 comments
(ایک دوست کے لئے)
وقت کی رفتار بالکل اتنی ہی ہے جتنی پہلے تھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ ہمیں خوشی کا وقت غم کی با نسبت زیادہ کم لگتا ہے۔اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ دھرے وقت کو گزرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ایک چیز جو کہ قدرت میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ کوئی بھی چیز کبھی ایک جیسی نہیں رہی ہے چاہے پھر وہ وقت ہو یا ساحل پہ پڑا ہوا کوئی پتھر، دریا سے آنے والی چھوٹی سے چھوٹی لہر بھی ساحل پہ پڑے ہوئے پتھر پر اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ انسان کی طرح ہی جب اس پرسے پانی بار بار گزرتا ہے تو اس کے اند ر موجود لوہے کے ذرات کو زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے اور دھیرے دھیرے وہ زنگ پھراس  کی سطح پر آ جاتا ہے ،اسی زنگ کی وجہ سے اس کی سطح پر نقش و نگار ابھر آتے ہیں اور پتھر کو خوبصورتی بخشتے ہیں۔وہ پتھر پھر اپنی اس خوبصورتی پر اتراتا ہے اور غرور کرتا ہے لیکن وہ نادان یہ نہیں جانتا کہ  یہ خوبصورتی نہیں بلکہ اس کے اندر کا زنگ ہے جو اس کو کھوکلا کیے جا رہا ہے اور ایک روز وہ کسی بڑی لہر کی پلیٹ میں آ کر ٹوٹ جاتا ہے اور پانی کے بہاؤ میں بکھر جاتا ہے۔ لیکن لہریں اسی طرح چلتی رہتی ہیں ،پٹھر اسی طرح اپنی خوبصورتی پر اتراتے رہتے ہیں اور بال آخر ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔
وقت کے ساتھ ساتھ پسند ،نا پسند ،رشتے اور رشتوں کے مابین اخلاص سب کچھ تبدیل ہوجاتا ہے۔انسان ہمیشہ اس چیز سے تنگ آجاتا ہے اور اکتا جاتا ہے جس سے اس کی دلچسپی قائم نہیں رہتی۔اور ہر انسان ہر وقت ہر صورتحال میں آپکی دلچسپی پوری نہیں کر سکتا ،لیکن خاموشی ضرور اختیار کر سکتا ہے ایسی خاموشی جو شاید آپ کے لیے تسکین کا باعث ہو لیکن در حقیقت وہ آپ کے رویے اور آپکی ذات کا ماتم ہوتی ہے۔
اس دنیا میں جس نے اپنے آپ کو اور اپنی ذات کو چھُپا کر رکھا ہے اور سنبھال کر رکھا ہے وہ خوش رہا ہے۔ جب آپ کسی کو اپنی راز کی بات بتا رہے ہوتے ہیں تو آپ اپنی عزت نفس کا سودا کر رہے ہوتے ہیں وہ عزت جو عزتوں میں ہم سے بلند مقام رکھتی ہے۔یہ وہ عزت ہے جو سب سے زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے جو ایک بار چلی جانے سے کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔اور بے شک راز دار رکھنے والے لوگ رسوا ہی ہوئے ہیں ۔
احساس وہ چیز ہے کہ جو کبھی بھی پیدا نہیں کی جاسکتی یہ اللہ رب العزت کی جانب سے ودیعت شدہ ہوتی ہے بس ہم کسی فرد کے لئے اس میں اضافہ یا کمی کر سکتے ہیں۔ اور حد سے زیادہ حساسیت بھی عذاب ہوتی ہے خاص طور پہ ایسے لوگوں کے لئے کہ جن کا واسطہ دنیا کے چند غیر حساس ترین لوگوں سے پڑے۔یہاں دنیا کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا کیونکہ ہر شخص کی دنیا مختلف ہوتی ہے۔ہو سکتا ہے کسی شخص کی دنیا فقط چند لوگوں پر مشتمل ہو اس لئے اپنی دنیا کو جلدی طے کر لیجئے ورنہ رویوں اور سلوک سے لوگ اندازہ لگا لیتے ہیں۔اور جو لوگ اپنے آپ کو آپ کی دلچسپیوں اور توجہ مین نہین پاتے یقینی طور پر وہ بات کو محسوس کر لیتے ہیں کہ شاید اب آپکی دنیا میں اب انکی کوئی جگہ نہیں ہے۔اور ویسے بھی مالک مکان کی مرضی کے بغیر کسی مکان میں آخر کوئی کیسے رہ سکتا ہے۔
انسان کو اللہ نے احساسات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لئے  جو چیزیں عطا کی ہیں ان میں سے 3 نہایت اہم ہیں 
  1. بولنا
  2. لکھنا
  3. خاموش رہنا
آپ کسی بھی شخص کو بول کر سمجھا سکتے ہیں جب آپ سمجھیں کہ اب الفاظ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں تو تحریر سے قائل کرنے کی کوشش کریں اور جب آپ سمجھیں کہ تحریر بھی اثر نہیں کر رہی تو خاموش ہو جائیے کیونکہ یہ رب کا فیصلہ ہے اور شاید اسی میں اللہ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ 

لوگ آپ سے توجہ ، احساس کو وقت مانگتے ہیں۔بدلے میں آپ اگر انہیں کچھ بھی دینے سے قاصر ہیں تو یاد رکھیے کہ غلطی مانگنے والے کی  بلکہ دینے والے کی ہے۔مانگنے والا تب تک نہیں مانگتا جب تب تک اسے وصولی کا یقین نہ ہو جائے۔آپ منہ سے ہزار میٹھی باتیں کر لیں لیکن لیکن آپکا عمل کسی بھی انسان کو اسکی اوقات یاد دلا دینے کے لئے کافی ہوتا ہے۔
ہر دن کی ایک شام اور ہرشام کی ایک صبح لازمی ہوتی ہے۔لیکن ان میں سے ایک شام ایسی بھی ہوتی ہے جس کی صبح نہیں ہو پاتی۔ہم میں سے کئی آئے اور چلے گئے۔لیکن کچھ غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے لئے ہم خود کو بھی معاف نہیں کر پاتے اور یقینً معاف کرنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ صرف اور صرف ہمارا اپنا قصور ہوتے ہیں اور ہمیں اس کی مکمل سزا ملنی چاہئے ۔آخر میں 
سالگرہ مبارک!
 اللہ آپ کو ہزاروں بہاریں دیکھنا  نصیب فرماے۔ہر خوشی اور کامیابی آپکا مقدر بنے۔اللہ آپکی زندگی کو غیر ضروری اور غیر اہم لوگوں سے پاک فرمائے۔آپ جو چاہیں پا لیں ۔آپکی ہر جائز خوہش کو پورا اور خواب کو حقیقت بخشے۔
ہزاروں دعاؤں کے ساتھ صدق دل سے ایک دعا یا بدعا یہ بھی ہے کہ۔۔۔
اللہ آپکو مجھ سے ڈھیر زیادہ عمر عطا فرمائے، اور اپنی غلطیوں کو جاننے ،پہچاننے اور احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے لیکن تب جب بہت دیر ہو چکی ہو اور ازالہ کرنا بھی ممکن نہ رہے۔
وسلام
انس اعوان



غیر خارجی

0 comments

بنیادی طور پر میں دینی جماعتوں اور انکے سربراہان کا بہت احترام کرتا ہوں  اور شعار اسلام کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس وضاحت کے بعد مین کچھ گستاخیوں کا مرتکب ہونے جارہا ہوں ،ہو سکتا ہے اس سے کسی کی دل آزاری ہو چناچہ میں پیشگی ہی معذرت اور وضاحت پیش کر چکا ہوں۔
بنیادی طور پر دنیا اسلام میں علما ء کی دو اقسام ہیں ، ایک وہ جو حکومت وقت کی ہاں میں ہاں ملانے والے اور دربار اکبر (مغل بادشاہ) کی یاد تازہ کرنے والے علما کہ جن کا دین حکومتی ادارے  وسیع معنوں میں اسٹبلشمنٹ ترتیب دیتے ہیں ۔ ان کا جینا مرنا اور غیرت میں آ جانا سب پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اس حوالے سے مسلک اہلحدیث نمایاں مقام رکھتا ہے چاہے وہ پاکستان کی جماعت الدعوہ ، سنی اتحاد کونسل ،ہویا مصر کی النور پارٹی ،ان کا مرکز و محور صرف اور صرف حکومت وقت کا تحفظ  اور بقا ہے۔ ایسے گروہ حکومتوں سے بھاری مالی امداد لیتے ہیں اور بھر چڑھ کر اپنی تدویج کرتے پائے جاتے ہیں۔دراصل کچھ مخصوص ادارے بذات خود ہی پہلے چند لوگوں کو ہائیلائٹ کرتے ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرتے ہیں ۔ان سے ڈٹ کر کام لیتے ہیں اور پھر پاکستان میں مولانا مسعود اظہر کی طرح کام لینے کے بعد  بھول جاتے ہیں۔ان کے پاس کسی کو بھی خارجی قرار دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہوتا ہے اور یہ میڈیا کو بھر پور طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔بر صغیر میں کیونکہ مذہب ایک حساس مسئلہ ہے اس لئے حکومتوں کے لئے مذہب کو استعمال کرنا مجبوری بھی ہے ، اس مجبوری کو وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پورا کرتے ہیں ۔ اور دنیا یں اسلام کے ٹھیکیدار صرف اور صرف یہی طبقہ ہوتا ہے۔یہی طبقہ آپکو میڈیا پر بے ہودہ پروگرام کرتا بھی نظر آئے گا اور کبھی پان  کے نشے میں دھت ہو کر مختلف اہم موضوعات پر اپنی رائے کا ظہار کرتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ایک بڑی مثال : مصر کی اخوان المسلیمون کو مصر کے انگریز نواز ملا (مفتی علی جمعہ) نے خارجی قرار دے دیا۔ انہوں نے مرسی کی سزا کی حمایت کا اعلان کیا ہے انہیں یہ فتوی حکومت وقت کے خلاف کھڑے ہونے پر دیا گیا ہے 
" اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق حمایت و مدد کرے وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گر پڑے اور پھر اس کی دم پکڑ کر اس کو کھینچا جائے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی اونٹ کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاتا ہے اسی طرح وہ شخص کنویں میں گر کر روحانی طور پر تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور اس میں سے نکالے جانے کی کوئی سبیل نہیں پاتا جو کسی ناحق معاملہ میں یا کسی ایسے معاملہ میں کہ اس کا حق ہونا مشتبہ ہو اپنی قوم و جماعت کی حمایت و مدد کے ذریعہ اپنے آپ کو اونچا اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ قوم و جماعت کو تو ہلاک ہو جانے والے اونٹ کے مشابہ قرار دیا ہے کیونکہ جو طبقہ و گروہ حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرتا ہے وہ گویا ہلاک ہو جانے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص اس قوم و جماعت کی حمایت کرتا ہے اس کو اس اونٹ کی دم کے ساتھ تشبیہ دی ہے چنانچہ جو اونٹ کنویں میں گر جائے اس کو اس کی دم پکڑ کر کھینچنا اس کو ہلاک ہونے سے نہیں بچا سکتا اس طرح جو قوم و جماعت باطل ہونے کی وجہ سے ہلاکت کی کھائی میں گر پڑی اس کو وہ حمایتی اور مددگار ہلاکت کی کھائی سے نجات نہیں دلا سکتا۔
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 834 مکررات 0 متفق علیہ 0

دوسرے گروہ کا نام ہے "خارجی"
چھوڑیں جی وہ تو ہوتے ہی خارجی ہیں۔۔۔۔۔۔

تحریر:

ملک  انس اعوان
twitter:AnasInqilabi




تعلیمی کال

0 comments



ہیلو!
جی آپ کون ؟
جی میں ایک محب وطن پاکستانی ہوں!
اچھا جی تو فون کیوں کیا جناب نے؟
جی یہ پوچھنے کے لئے کہ تعلیم کو اتنا کم بجٹ کیوں دیا گیا؟
بس جو تھا دے دیا اب اور کتنا چاہتے ہو
کم از کم 5 فیصد تو ہونا چاہیے تھا نا؟
کیون پانچ فیصد کس وجہ سے کیا تم چاہتے ہیں کہ تماری گلی کی برسوں سے توڑ پھوڑ کا شکار گندے پانی والی نالی کی مرمت ہو جائے،گاؤں سے شہر تک ایک نئی سڑک بن جائے اور تمارے گاؤں کے قبرستان کی چار دیواری مکمل ہو جائے۔۔؟
لیکن سر وہ تعلیم؟؟؟
کیا تعلیم تعلیم تعلیم لگا رکھی ہے۔۔۔۔۔!!
ٹوں ٹوں ٹوں۔۔۔۔۔
(انس اعوان)

ایک وضاحت

0 comments
میرے اکثر دوست مجھسے شکوہ کرتے ہیں کہ آپ لوگوں کو استعمال کرتے ہیں۔
خیر میں انکے اس نقطہ نظر سے اختلاف نہیں رکھتا بلکہ کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا کہ لوگوں کو انکے خول سے باہر نکالنا، جو مجھے آتا ہے  وہ لوگوں کو بتانا اور سمجھانا اور انکو اپنی جگہ کھڑا کرنا کوئی معیوب بات نہیں ہے۔معیوب بات تو یہ ہے کہ آپ نہ خود آگے بڑھیں اور نہ دوسروں کو آگے بڑھنے دیں۔ یہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر کوئی اپنے مفادات کی خاطر لڑتا اور مرتا ہے یہاں عزت ،شہرت اور پیسے کی دوڑ ہے۔ ہر کوئی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت  لے جانے کی جستجو میں مگن ہے ایسے میں جب آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپکو لوگوں کی ایک طویل قطار نظر آئے گی جو ٹکٹکی باندھے آپکی جانب دیکھ رہے ہوں گے اور انکی سینکڑوں خواہشات آپ کی ذات سے منسوب ہوں گی۔دوسری جانب آپ کی اپنی خواہشات کا انبار ہو گا تمام لوگوں کی برعکسآپ کی یہ خواہشات ایک علیحدہ حیثیت کی مالک ہوں گی۔۔ اب آپ دیکھیے کہ آپ کے گرد وہ کونسے لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ زیادہ دیر تک چل پائیں گے۔ یاد رکھیے ضدی، انا پرست اور کم ضرف کبھی بھی طویل رشتے قائم نہیں رکھ پاتے۔اسی لئے اپنے سے کم قابلیت والے افراد کا چناؤ کریں اور ان کے سامنے اپنی حیثیت اور ان کے لیے اپنی ذات کی ضرورت کی وضاحت اوائل میں ہی کر دیجئے۔ پھر دوسرے مرحلے میں ان لوگوں کے ساتھ مضبوط رشتے قائم کریں اور انکو  وہ سب سِکھا دیں جو آپ میں موجود ہے، لیکن رازدار صرف ان کو بنائیں جو اپنے غصے پر قابو اور جذبات کو سنبھالنا جانتے ہوں۔جو آپکے مزاج کو سمجھتے اور آپ کی رائے کو اہمیت دیتے ہوں۔اپنے گرد اپنے احباب کا ایک دائرہ بنا کر رکھیں اس طرح سے کہ باہر کے لوگ آپکی شخصیت کو پرکھ نہ سکیں اور آپ کے قریب نہ آ سکیں ۔ یاد رکھیے جب تک آپ خود پسند نہیں ہوں گے تب تک لوگ بھی آپسے متاثر نہیں ہوں گے۔اپنے اندر اعتماد ،فخر اور جائز حد تک غرور پیدا کرنا ایک اچھے ارہنما کی نشانیوں میں سے ہیں۔آپ کو اپنی ذات کو لوگوں کے سامنے منوانا ہواتا ہے بتانا ہوتا ہے۔
ایک چیز جو اس میں سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ کبھی بھی سیدھے کھڑے ہوئے درخت پر پھل نہیں لگتا، ہمیشہ جس ٹہنی پر پھل لگتا ہے وہ جھک جاتی ہے۔ہمیں ہر انسان کی عزت کرنا پڑتی ہے اس لئے کہ ہمین اپنی عزت کروانہ ہوتی ہے۔کسی کو بڑا تسلیم کر لینے سے خود کی شخصیت کبھی بھی شکست کا شکار نہین ہوتی بلکہ چالاک لوگ اس کا موقع اٹھا کر اپنی شخصیت  کو مزید نکھارتے اور بناتے سنوارتے ہیں۔ اور ایسے مواقع سر جھکائے بغیرکبھی دستیاب نہیں ہو پاتے۔اب آپ چاہے اسے منافقت ہی کیوں نہ کہہ ڈالیں لیکن یہ ایک شعر یاد رکھیے گا۔کیوں کہ ہم نے یہ سبق کر کے سیکھے ہیں۔۔۔۔!

جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھُک کے ملتے ہیں
صراحی سر نگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
تحریر
ملک انس اعوان


حمد

0 comments
تو ہی تو ہے
مجھسے مخاطب تو ہے
بندہ پرور بندہ نواز تو ہے
میرا داتا میرا مالک تو ہے
نہیں قابل تقلید دنیا کے معبود
رب تو ہے رب اکبر تو ہے
میں تو ہوں آوارہ سا ایک عدنی سا بندہ
جس کے پِلے نہیں کچھ بھی
کچھ بھی نہیں میرے گماں میں موجود
جو نہیں ہے اسکا بھی بادشاہ تو ہے
شہر و در ودیوار نے کیا مجھکو قید
قابل سجدہ بس اک بارگاہ تو ہے

ملک انس اعوان
3جون2015

قبر کے دوست

0 comments
جب ہم نہم جماعت میں پڑھ رہے تھے تو اکثر و بیشتر ہمارا معمول رہتا کہ شام کے وقت آبادی زرا باہر گاؤں کی طرف چلے جاتے اور کچھ دیر ٹہلتے ۔آبادی اور ویرانے کے درمیان چند چھوٹے چھوٹے مکانات تھے اور ایک ہاؤسنگ سکیم کا آغاز ہو چکا تھا اور روز ہی ایک نئی گلی کا وجود دیکھنے کو ملتا۔ ہم اپنے معمول کے مطابق ایک طرف سے چلنا شروع کرتے اور کھیتوں سے ہوتے ہوئے قبرستان کے آغاز میں بنی ہوئی چھوٹی سی بغیر چھت کے مسجد میں بیٹھ جاتے جس کے سامنے ہی ایک نلکا لگا ہوا تھا تو تھوڑی جدو جہد کے بعد روانی سے پانی نکالتا اور ہماری پیاس بجھانے کا وسیلہ بنتا۔روز کے معمول کے باعث اس ماحول سے خوب انسیت قائم ہو چکی تھی۔اور روایتی خوف جو ایک قبرستان سے محسوس کیا جاتا ہے میرے ذہن سے جاتا رہا۔پرانی سے نئی قبروں کی پہچان ہونے لگی اور میں ان کو بخوبی پہچاننے لگا۔ ایک روز میں یوں ہی تھک کر مسجد کے اندر آ بیٹھا تو دیکھتا ہوں کے ڈھلان کی جانب ایک ادھیڑ عمر بابا جی ایک قبر کے ساتھ بہت دیر سے بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں سے ایسا لگتا کہ جیسے وہ کسی زندہ آدمی سے مخاطب ہوں اور اس کو کچھ سمجھا  رہے ہوں۔ میں نے ان پر زیادہ غور نہیں دیا اور یہ سلسلہ کچھ دن تک جاری رہا۔اور پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد ہ سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ایک روز میں نے ہمت بندھائی اور ان کے پاس جا پہنچا سلام کیا اور بیٹھ گیا۔ انہوں نے میری جانب دیکھا اور قدرے سخت پوچھا کہ یہاں کیوں آئے ہو مجھے بات کرنے دو۔ مین نے فوراً  ہی رد عمل کے طور پر مسکرا کی جواب دیا بابا جی یہ تو ایک قبر ہے اور یہاں کوئی نہیں ہے آپ کس سے بات کر رہے ہیں ۔وہ خاموشی سے اٹھے اور چلے گئے۔کئی دن تک میری انسے ملاقات نہ ہوسکی اور میں تجسس کے مارے بے تاب رہتا کہ اس کے پیچھے کی کہانی کب منظر عام پر آئے گی۔خیر کچھ دن بعد پھر سے بابا جی آئے اور بیٹھ گئے۔میں بھی پاس بیٹھ گیا اور وہی سوال دہرا دیا انہوں نے گہری سانس لی اور کہا کہ چلو آؤ مسجد میں بیٹھتے ہیں ۔ہم مسجد میں صفوں پر بیٹھ گئے بابا جی کہنے لگے کہ بیٹا میں 4 بیٹوں کا باپ ہوں ایک زمیندار گھرانے سے تعلق ہے ۔بیٹوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ایک کے علاوہ سب شہر میں ہوتے ہیں اور اچھے اداروں میں نوکریاں کر رہے ہیں۔اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ اسی ساتھ والے گاؤں میں رہتا ہوں۔ بیوی کی وفات ہو چکی ہے اور جس قبر کے پاس میں آ کر بیٹھتا ہوں وہ میرے ایک دوست کی قبر ہے جو آج سے کچھ سال پہلے ایک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔
بس جب پریشان ہوتا ہوں اور گھر میں میری بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا تو اپنے دوست کی قبر پہ آ بیٹھتا ہوں اور دل کی ساری باتیں کر گزرتا ہوں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ کچھ عرصے بعد ہم اپنے امتحانات میں مصروف ہو گئے اور ہم اس واقعے کو بھول گئے۔ امتحانات کی تیاری اور پیپرز کے بعد جب معمولات معمول پر آئے تو دوبارہ سے شام کی چہل قدمی کا آغاز کر دیا ۔پہلے ہی روز میں ان باباجی کا انتظار کرنے لگا لیکن وہ نہیں آئے میں اٹھ کر اُس مقررہ قبر کے پاس گیا تو اسی قبر سے ساتھ ایک اور قبر بن چکی تھی جس پر انکا نام ایک پتھر کی سِل پر درج تھا۔ چند لمحے کو پورا قبرستان میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا اور میرے ذہن میں ان بابا جی کی آوازیں گونجنے لگیں۔  زرا فاصلے پر گورکن موجود  تھا اس کو آواز دے کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ یہ قبر کب بنی ہے تو اس نے بتایا کہ آ ج اس کو بنے ہوئے دس دن ہو چکے ہیں ۔انتا سن کر میں نے اسے جانے کا اشارہ کیا اور ان دونوں قبروں کے درمیان بیٹھ گیا اور فاتحہ خوانی کی گھر واپس آ گیا۔اس کے بعد میں نے اس جانب جانا ہی چھوڑ دیا ۔بہت عرصے بعد قبرستان جانا ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قبرستان  کی چار دیواری بنانے کی خاطر میری اس چھوٹی سی مسجد کو گرا دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ لگے ہوئے برگد کے بڑے پیڑ کو بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ وہ پانی کا نلکا اب خراب ہوچکا ہے اور ان دونوں دوستوں کی قبر کے ساتھ ان کے اور بہت سے دوستوں کی قبریں بن چکی تھیں لیکن خاص بات یہ تھی کہ ان سب قبر کے دوستوں میں میں اکیلا کھڑا ہوا تھا،بالکل اکیلا۔۔۔۔۔۔۔۔میرے اندر تنہائی کاا حساس شدت اختیار کرتا جا رہا تھا۔میں فوراً وہاں سے واپس پلٹ آیا لیکن اب بھی جب بھی موقع ملتا ہے ان دو دوستوں کے پاس لازمیً چکر لگاتا ہوں۔اور ہر بار اس کہانی کو بھولنے کی ناکام کو شش کرتا ہوں۔

راقم الحروف
ملک انس اعوان
Twitter:AnasInqilabi