گزشتہ کل بمطابق 12 رمضان وہ دوسرا دن تھا جب میں نے خود اپنے دست مبارک سے اپنی افطاری تیار کی وگرنہ احباب کی محبت ہمیں ایسا کرنے سے روک دیتی تھی۔ افطاری کے بعد تک ہم فہد بھائی کے ساتھ کھانا اور مشروب نوش فرمانے کے بعد اٹک کی سڑکیں ناپتے رہے اور ٹھیک 10 بج کر 15 منٹ پر آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ (میاں جی پلازہ ہاسٹل) پہنچے جبکہ لاہور جانے والی بس کا ٹائم 11 بجے تھا چناچہ ہنگامی صورت حال میں بندہ فقیر نے اپنے تمام کپڑے ایک بڑے بیگ میں اور مچھر دانی بطور زادِراہ سنبھال لی اور ہانپتے ہانپتے اٹک اڈے پہنچے جہاں بس فقط ہمارے ہی انتظار میں رکی ہوئی تھی۔عین وقت پر بس روانہ ہو گئی ،خاتون خدمت گار نے اٹک کے روایتی لہجے میں اٹک اٹک دعائے سفر پڑھوائی ۔پھر ہم نے دو تین عربی ترانے ہیڈ فون لگا کر سنے لیکن میرے ساتھ بیٹھے ہوئے بابا جی بڑی تنقیدی نگاہ سے میری جانب دیکھنے لگا چناچہ ہید فون اتار کر رکھ دیے ۔ اللہ اللہ کرکے بس کلر کہار سروس ایریا میں پہنچی تو سحری کا وقت ہوا چاہتا تھا تو بس پھر کیا تھا ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤراجہ شاہ رُخ بھائی کی بیکری سے خریدے ہوئے انگریزی سیڈوچز کے ساتھ سحری کی اور دوبارہ عزم سفر باندھا۔ایک اور سروس ایریا میں رک نماز فجر ادا کی تو وہاں داخل ہوتے ہی دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کو مسجد کے دروازے پر صرف اسی کام کے لئے رکھا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو جوتی مسجد میں نہ رکھنے دیں ۔ ایک بابا جی اور اوپر سے پٹھان (الحمداللہ) آگے بڑھے تو اس ملازم نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔بڑے میاں نےمذہبی جوش و خروش سے اس سے لڑنا شروع کردیا ، بس پھر باقی رستے ہم ان بابا جی کا غصہ ٹھنڈا کرتے رہے وگرنہ وہ تو اپنا شجرہ چنگیز خان سے جوڑ رہے تھے۔اس وقت راقم الحروف اپنے گھر میں بیٹھا سکون کی سانسیں لے رہا ہے۔۔
راقم الحروف
ملک انس اعوان













