تصویریں بولتی ہیں

6 comments

تصویر کشی بھی تو ایک تحریر لکھنے جیسی ہے جس میں آپ مناسب رنگوں کا انتخاب کرتے ہیں ۔ہر رنگ ایک علیحدہ تاثیر جو کہ دوسرے سے مختلف اور جدا ہوتی ہے، کو من مرضی و منشا کے مطابق کاغذ کے اس کونے سے دوسرے کونے تک خاص ترتیب سے پھیلا دیا جاتا ہے ،اور جب سب رنگ اپنی اپنی جگہ بیٹھ جاتے ہیں تو شاہ پارے جنم لیتے ہیں۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر ایک چیز ایسی بھی ہوتی ہے کہ جس میں نہ رنگ ہوتا ہے اور نہ کوئی خاص ترتیب ، وہ لکیروں کا ایک ایسا مرکب ہوتا ہے جو ذہن کو سوچنے پر اور کچھ تخلیق کرنے پر اکسا دیتا ہے۔وہ کتاب ہے۔وہ کتاب جو چند لمحوں میں ماضی سے مستقبل تک عکس کی ترتیب بنا دیتی ہے،جو ہاتھ میں پکڑے ہوئے برش کے رنگ آلود ریشوں کو کینوس کے باریک باریک ریشوں سے الجھنے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ ریشے آپس میں رنگوں کا تبادلہ کرتے چلے جاتے ہیں ، بیل بوٹے،پہاڑ، خزاں ، بہار، مکان ،بادل اور وہ سب کچھ جو ایک آنکھ دیکھ سکتی ہے کنوس پر اپنا وجود بناتے چلے جاتے ہیں ۔وہی سفید سا کینوس اب بنانے والے کے خیال کے مطابق تمام تر باریکیوں کو سموئے ہوئے آنکھوں کو خیزہ کرتا چلا جاتا ہے۔انہی رنگوں کی سرخی میں کہیں مصور کی جوانی،سیاہی میں غم چھپے ہوتے ہیں ۔ہم سوچتے ہیں کہ ایک ہی تخلیق ہر بار دیکھنے پر ایک الگ کہانی سنا رہی ہوتی نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے یہ بس آپکوآئینہ دکھا رہی ہوتی ہے ،رنگوں ،لکیروں ،دائروں کو مطلب تو آپ بذات خود عنایت کرتے ہیں ۔۔!
تحریر
ملک انس اعوان


Pic by:Matia Sierra
http://matiassierra.net
The original picture http://matus76.deviantart.com/art/Self-Taught-411149744

6 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔