مجھے لگتا ہے میرے لکھنے سے
میرے دل کو شاید قرار ملتا ہے
سر شام میری فرصت ناکارہ کو
روز کوئی موضوع سخن ملتا ہے
سانس حرف حرف پہ آ اٹکتی ہے
جب کوئی محو داستاں ملتا ہے
ایک میں اور اک میرے سوا
سارا عالم بے زباں ملتا ہے
ایک شکوہ مجھے بھی ہے خود سے
ائے مصروف تو مجھے کہاں ملتا ہے
بھینچ لیتا ہوں مٹھیاں اپنی
کوئی تجھ سا جہاں ملتا ہے
اختلاف ہے مجھے ہر اُس سے
مجھے جو زیر آسماں ملتا ہے
یوں مجھے جملہ احباب کی صورت
اپنی ہستی کا ضیاں ملتا ہے
------
ملک انس اعوان
------











بہت عمدہ۔ لا جواب.
زرہ نوازی ہے آپکی