تو ہی تو ہے
مجھسے مخاطب تو ہے
بندہ پرور بندہ نواز
تو ہے
میرا داتا میرا مالک
تو ہے
نہیں قابل تقلید دنیا
کے معبود
رب تو ہے رب اکبر تو
ہے
میں تو ہوں آوارہ سا
ایک عدنی سا بندہ
جس کے پِلے نہیں کچھ
بھی
کچھ بھی نہیں میرے
گماں میں موجود
جو نہیں ہے اسکا بھی
بادشاہ تو ہے
شہر و در ودیوار نے
کیا مجھکو قید
قابل سجدہ بس اک
بارگاہ تو ہے
ملک انس اعوان
3جون2015











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔