بنیادی طور پر میں دینی جماعتوں اور انکے سربراہان کا بہت احترام کرتا ہوں اور شعار اسلام کے خلاف ہر اٹھنے والی آواز کی مذمت کرتا ہوں لیکن اس وضاحت کے بعد مین کچھ گستاخیوں کا مرتکب ہونے جارہا ہوں ،ہو سکتا ہے اس سے کسی کی دل آزاری ہو چناچہ میں پیشگی ہی معذرت اور وضاحت پیش کر چکا ہوں۔
بنیادی طور پر دنیا اسلام میں علما ء کی دو اقسام ہیں ، ایک وہ جو حکومت وقت کی ہاں میں ہاں ملانے والے اور دربار اکبر (مغل بادشاہ) کی یاد تازہ کرنے والے علما کہ جن کا دین حکومتی ادارے وسیع معنوں میں اسٹبلشمنٹ ترتیب دیتے ہیں ۔ ان کا جینا مرنا اور غیرت میں آ جانا سب پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے اس حوالے سے مسلک اہلحدیث نمایاں مقام رکھتا ہے چاہے وہ پاکستان کی جماعت الدعوہ ، سنی اتحاد کونسل ،ہویا مصر کی النور پارٹی ،ان کا مرکز و محور صرف اور صرف حکومت وقت کا تحفظ اور بقا ہے۔ ایسے گروہ حکومتوں سے بھاری مالی امداد لیتے ہیں اور بھر چڑھ کر اپنی تدویج کرتے پائے جاتے ہیں۔دراصل کچھ مخصوص ادارے بذات خود ہی پہلے چند لوگوں کو ہائیلائٹ کرتے ہیں اور ان کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ کرتے ہیں ۔ان سے ڈٹ کر کام لیتے ہیں اور پھر پاکستان میں مولانا مسعود اظہر کی طرح کام لینے کے بعد بھول جاتے ہیں۔ان کے پاس کسی کو بھی خارجی قرار دینے کا خصوصی اختیار حاصل ہوتا ہے اور یہ میڈیا کو بھر پور طریقے سے استعمال کرتے ہیں ۔بر صغیر میں کیونکہ مذہب ایک حساس مسئلہ ہے اس لئے حکومتوں کے لئے مذہب کو استعمال کرنا مجبوری بھی ہے ، اس مجبوری کو وہ ایسے لوگوں کے ذریعے پورا کرتے ہیں ۔ اور دنیا یں اسلام کے ٹھیکیدار صرف اور صرف یہی طبقہ ہوتا ہے۔یہی طبقہ آپکو میڈیا پر بے ہودہ پروگرام کرتا بھی نظر آئے گا اور کبھی پان کے نشے میں دھت ہو کر مختلف اہم موضوعات پر اپنی رائے کا ظہار کرتا ہوا بھی نظر آئے گا۔ایک بڑی مثال : مصر کی اخوان المسلیمون کو مصر کے انگریز نواز ملا (مفتی علی جمعہ) نے خارجی قرار دے دیا۔ انہوں نے مرسی کی سزا کی حمایت کا اعلان کیا ہے انہیں یہ فتوی حکومت وقت کے خلاف کھڑے ہونے پر دیا گیا ہے
" اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق حمایت و مدد کرے وہ اس اونٹ کی مانند ہے جو کنویں میں گر پڑے اور پھر اس کی دم پکڑ کر اس کو کھینچا جائے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی اونٹ کنویں میں گر کر ہلاک ہو جاتا ہے اسی طرح وہ شخص کنویں میں گر کر روحانی طور پر تباہ و برباد ہو جاتا ہے اور اس میں سے نکالے جانے کی کوئی سبیل نہیں پاتا جو کسی ناحق معاملہ میں یا کسی ایسے معاملہ میں کہ اس کا حق ہونا مشتبہ ہو اپنی قوم و جماعت کی حمایت و مدد کے ذریعہ اپنے آپ کو اونچا اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ قوم و جماعت کو تو ہلاک ہو جانے والے اونٹ کے مشابہ قرار دیا ہے کیونکہ جو طبقہ و گروہ حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کرتا ہے وہ گویا ہلاک ہو جانے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص اس قوم و جماعت کی حمایت کرتا ہے اس کو اس اونٹ کی دم کے ساتھ تشبیہ دی ہے چنانچہ جو اونٹ کنویں میں گر جائے اس کو اس کی دم پکڑ کر کھینچنا اس کو ہلاک ہونے سے نہیں بچا سکتا اس طرح جو قوم و جماعت باطل ہونے کی وجہ سے ہلاکت کی کھائی میں گر پڑی اس کو وہ حمایتی اور مددگار ہلاکت کی کھائی سے نجات نہیں دلا سکتا۔
مشکوۃ شریف:جلد چہارم:حدیث نمبر 834 مکررات 0 متفق علیہ 0
دوسرے گروہ کا نام ہے "خارجی"
چھوڑیں جی وہ تو ہوتے ہی خارجی ہیں۔۔۔۔۔۔
تحریر:
ملک انس اعوان
twitter:AnasInqilabi











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔