آج ان گلیوں سے گزر ہوا جس کے چپے چپے سے میری سبز رنگ کی بی ایم ایکس سائیکل کی دیرینہ شناسائی تھی، بام و در ہلکے پھلکے تغیر کے ساتھ اپنی جگہ موجود مگر گئے دنوں کے تعاقب میں نظر آئے ۔ اساتذہ کے گھروں کے باہر سے گزرتے ہوئے انکے مخصوص الفاظ و القابات بے اختیار زباں پہ جاری ہو گئے۔ ہاتھوں میں چھڑی کی جلن کے خیال نے جنم لیا اور ایک جھرجھری سی آئی ۔ سرکاری پارک کی جنگلے سے اکھڑی ہوئی بیرونی پست دیوار کی وہ اینٹیں جنہیں ہم آتے جاتے اپنے تئیں محض ثواب کی نیت سے ٹھوکریں لگایا کرتے تھے ،اب ایک بلند قامت دیوار کا روپ دھار چکی ہیں۔ گُلّو آج بھی اپنی دکان میں بیٹھا بازوؤں پہ ٹھوڑی ٹکائے کسی خیال میں گم تھا۔ ناجانے کتنے ہی فوت شدگان کے چہرے پردہ ذہن پہ ابھر ابھر کر مٹتے چلے گئے۔ گلیاں انجان چہروں سے بھر چکی ہیں ، مگر کہیں اکا دکا کوئی شناسا چہرہ پل بھر کو نظر بھی آیا تو آنکھوں کی اجنبیت نے ہمارے دل کے قدم روک لیے۔ یہ لمحہ بھر کی دل سوز کیفیات حقیقت کا ایک چھوٹا سا پہلو ہیں کہ یہاں کچھ بھی مستقل نہیں ہے ۔یہ سب کچھ جو نظر آ رہا ہے حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے ایک مہلت کے جو ہم میں سے بلکہ ہم جیسے چلتے پھرتے کھاتے پیتے کئی انسانوں کے پاس نہیں رہی ہے۔اور ہمارے پاس بھی رہنے والی نہیں ہے۔
انس