سیاہ

0 comments

عجیب ماضی کی وحشتیں تھیں
عجیب حالات پھر رہے ہیں
ہم اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے
اندھیر کرنوں کو گن رہے ہیں
سفیدیوں سے سیاہیوں کی
سیاہ لکیروں کو چن رہے ہیں
عجیب تصویر بن رہی ہے
عجیب انداز ڈھل رہے ہیں
سیاہ مائل سے کینوس پہ
خزاں کے دلدل ابل رہے ہیں
وہاں پہ سنسان راستوں پر
وہ شور وحشت مچا ہوا ہے
کہ ذات و ہستی الجھ رہی ہے
کوئی باب ذلت پلٹ رہا ہے 

Empty Bottles

0 comments
Brothers we are not the "Empty Bottles" to be thrown away in the Dustbin of History. We have to know who we are. From where we Belong and where we have to go. You have to understand that,we are losing our culture our traditions and our dearest religion Islam. Being a Muslim we consider our religion as above all the things that matters or even they does not matter. 
But today When we see ourselves in the mirror who we are?, we have lost our identity. We are no more ourselves.Our mind our thoughts got captured. You have to see from where the things are coming. We have to realize the "change" the change in everything. 
We have to return back to our foundation our Muslim identity. Our Muslim culture our Muslim tradition. We are different and we are important. You have to be careful about everything. We cannot lose ourselves for the sake of entertainment. We should not get inspired by the false ideologies and false doings. 
We have to create our own selves and our very own identity our own philosophy of everything. No one can decide how to eat how to wear and how to celebrate something. We are the one to decide what we have to do what we have not to do and how we have to do. Yes we are important. And we will reclaim our identity in a greatfull way by putting out ourselves from comfort zone and excell in every field by  using every possible knowledge available with  our intellect, courage and help from Allah Almighty.

Malik Anas Awan

Photo courtesy :
https://freephotoindia.blogspot.com/2016/04/close-up-of-empty-water-bottle-thrown.html?m=1

تسخیر

0 comments

صبح ہونا نہ ہونا ضروری نہیں، بس اٹھتے ہی آنکھیں ملنے سے زیادہ فکر پلکیں سیدھی کرنے کی ہوتی ہے، حالانکہ دیکھنے کے حوالے سے کچھ خاص ذوق نہیں پایا جاتا ہے مگر اس اہتمام کو قائم رکھا جاتا ہے، کیونکہ سیدھی روشنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل کے اسیر خانے کے اندر کسی تاریک، تعفن زدہ سنسان کمرے  کی چھت سے دھار بناتے ہوئے امید نام کے لاشے پہ پڑتی ہے، جو کارِ دنیا کی فکر میں لاحق ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور مجھے بھی  اٹھنے پہ مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اس بیداری کاحاصل آوارگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک تو ہم نے کچھ کیا نہیں ہے اور بقول ہمارے نہ ہم سے کچھ سرزد ہونے کا امکان باقی ہے.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنے ہر سوال کا جواب خود دینا عجیب عادت ہے. یہ مکالمہ ہماری شعوری بیداری سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے، کبھی کبھی اسکا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ لا شعور میں بھی قدم جمانے لگتا ہے.خوابوں کے کئی قافلے بھی اس کی زد میں آتے پائے گئے ہیں. اس عادت کی طرح نجانے کیوں ہر شے اپنے آپ میں ایک تسخیری وصف پیدا کرنا چاہتی ہے.
آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ کیسے میت کے چہرے پہ سے کپڑا اتار اتار کر دیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے آگے ہی بڑھ جانا ہے. دنیا ہے ہوتا ہے اور چلتا ہے. لیکن یہ تسخیری صفت کہ بس دیکھ لیا جائے وحشت انگیز ہے . ارے کیا ہے اگر کوئی مر گیا ہے بات ختم اپنے احساسات کی تسخیری قوت کو روکیے، ہر لمحہ، ہر احساس، ہر منظر ہر شے فتح کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے. دوسرا دیکھنے والوں نے بنیادی طور پہ کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا ہے. جوکہ کسی قدر دیکھنے کی توہین بھی ہے.
اب کہ ذوق دید کہاں بس ذوق تماشا کا رواج ہے، ہم یہ سوچتے ہیں اور سنا ہے کہ انسانی معاشروں میں جانوروں کو لڑا کر ذوق تماشا کو تسکین پہنچانے پہ پابندی ہے، چنانچہ یہ کام اب انسانوں کو باہم دست و گریباں کر کے پورا کیا جا رہا ہے. اور جدید انسان کے لیے ان تماشوں کا منعقد کرنا مزید سہل ٹھہر گیا ہے. اب تو ہم اسے جدید انسان کی بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں. کبھی کبھی تو چائے کی پیالی میں دیکھتے ہوئے پوری دنیا کا شور اضافی اور غیر اہم محسوس ہوتا ہے اور ایک موہوم سی خواہش انگرائی لیتی ہے کہ کاش اس پیالی میں دنیا و ما فیہا کو گھول کر پی جاؤں. مگر پھر کہیں دور پار سے یہ بھی خیال  آتا ہے کہ کہیں باہر کا دوزخ میرے اندر کے دوزخ سے نہ مل جائے وگرنہ "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" حالانکہ سمجھ سے تو یہ پہلے ہی سے باہر ہے.
یہ دو دوزخوں کا معاملہ بھی کیا دلچسپ ہے کہ ان کے مابین کبھی کبھی تو اپنی ذات ایک پردہ معلوم ہوتی ہے، جس کا واحد کام ان دونوں کی شناخت کو قائم رکھنا ہے. اور اس وجود کے ہونے میں سے اگر "یقین" کی قوت نکال دی جائے تو، واقعتاً وجود کہیں بھی موجود نہیں ہے.
بقول جون "وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں" کے مصداق ہم ایک خلا میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا وجود محض سوچتے رہنے کی حد تک موجود ہے جہاں آپ سوچنا بند کریں گے آپ موجود سے لا موجود میں ڈھل جائیں گے، آخر اس کمتر سی ہئیتی موجودگی کا مذاق بھی کیوں، یہ تو عجب  بدمذاقی ہوئی. اچھا ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، وگرنہ یہاں وہ وہ تماشے برپا ہوتے کہ خدا کی پناہ. صد شکر کہ ہم اب بھی اسی کی پناہ میں ہیں. 

ملک انس اعوان 

سید طفیل الرحمان شہید

0 comments
میں اس سید زادے سے سےآج تک نہیں ملا تھا،ہمارے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ تھا، مگر جب اس قیامت کی گھڑیوں کی خبر ملی تو میرا دل استنبول میں بھی پمز اسلام آباد کی گیلری میں دوڑتے ہوئے خون آلود اسٹریچر پہ لیٹے ہوئے اس خوبصورت نیک سیرت جوان کے دل کی طرح ڈوب رہا تھا. گویا  کوئی ایسی رسی کھینچی جا رہی ہو جس کے سرے ہمارے دلوں سے بندھے ہوئے ہیں، اذیت کی ایک عجب لہر رگوں سے نچوڑی جا رہی تھی.  دل و زباں سے ایک ہی دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ یہ خبر غلط ہو، غلط فہمی ہوئی ہو، ایسا کیسے ہو سکتا ہے، یہ نہیں ہو گا. 
مگر ہم تقدیر الہی کے آگے بے بس ہیں. جب خبر ملی تو میرے  پاس کوئی جمعیت کا ساتھی بھی موجود نہیں تھا کہ جس کے کندھے پر سر رکھ کر چار آنسو ہی بہا سکوں. غریب الوطنی کا شاید اس سے بڑا دکھ اور کوئی نہیں ہے. 
وہ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی تو تھا ہی لیکن میری پیاری جمعیت  میری بہت پیاری جمعیت کا امید وار رکن تھا. اس نے ہزاروں جوانوں کی طرح رنگ رلیاں منانے کی بجائے کتنے ہی دروس قرآن کا اہتمام کیا ہو گا، عین جوانی میں کتنی ہی دینی محافل کے انعقاد کا ایندھن بنا ہو گا، وہ بھی راتوں میں امت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہو گا.
سوچتا ہو گا یہ آج میں نے فلاں کو دعوت دی ہے، کل فلاں کو دعوت دینی ہے، آج اس کی مدد کی ہے کل اُس کی مدد کرنی ہے، کسی کا ہاسٹل، کسی کی تعلیم کسی کی ذاتی زندگی میں معاون و مددگار بنا ہو گا.
ان خوبصورت فکروں اور خوابوں کو اپنی پاکیزہ جوانی کا خون دینے  والا اور اپنی خوشبو سے دیگر طلبہ کو بھی معطر دینے والا پھول ظالموں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے آنگن میں سفاکیت کے ساتھ کچل دیا ہے. 
وہ میرا ایک پھول 🌸 ظالموں کے ہزاروں سروں سے زیادہ قیمتی تھا. اور جب یہ پھول جنت کے باغوں میں سجے گا تو کتنا بھلا لگے گا. جمعیت کے پہلے شہید عبدالمالک سے لے کر سید طفیل الرحمان ہاشمی تک کا یہ گلدستہ آج جنت میں جلوہ خیز ہو گا. اس نے اپنے عمل سے اپنی فکر کی شہادت دی ہے. 

فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ قَضٰى نَحۡبَهٗ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّنۡتَظِرُ‌ 
ان میں سے کوئی اپنی نظر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔(الاحزاب :23)

ظالم سمجھتے ہیں کہ ایسا کر دینے سے ہمیں روک پائیں گے، تو وہ انکی بھول ہے، ہم اور مضبوط ہوتے ہیں، یہ شہداء ہمارے عزم کو توانا اور قدموں کو مستحکم کرتے ہیں،یہ لہو جمعیت کے پرچم پہ موجود سرخی کو اور بھڑکا دیتا ہے ،جو شمعیں خون سے جلائی جائیں، انہیں ظلم کی آندھیاں بجھا نہیں سکتیں ہیں، اس آندھی نے چنگاری کو اگ بنا دیا ہے. 
ہم سابقین جمعیت دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی ہوں، ہمارے.
دل آج بھی جمعیت کے ساتھ دھڑکتے ہیں.کس طرح دھڑکتے ہیں یہ احساس بیان کرنے لائق ہنر اور الفاظ میرے بس میں نہیں ہیں.

انس

OIC World Halal Summit

0 comments

Yesterday there was a beautiful event named as  "World Halal Summit 2019" arranged by #OIC - SIMIT in the historical city of Istanbul. Being a student of MBA it was a great experience to observe the B2B meetings .it was an opertunity to know about Halal food market, its advantages and its scope in future. I met many people from all over the Muslim world and they discussed their business  models and their collaboration with other nations and how they are expanding their businesses across the world.I was amazed to know about Indonesian  entrepreneurship model by providing the basic capital and business assistance to the Madrasas (Religious) schools by the Provincial Government to launch their own businesses using the same students as human resource and to provide quality goods and services to  community to earn profits which are then distributed for paying the loan back to Government in parts, to pay the wages and to provide money for development of Madrasas and Mosques, so by doing this at the same time they are empowering and training young blood and making the religious institutions a profit able entities who are not dependent on Zakat.There were some presentations of detailed scientific research on Halal meat and   scientific discussion about the methods to know "weather the meat is halal or not? " even its  still not possible to know it. But scientists described its different dimensions and the framework of their future research work. In this event there was a "Startup" corner in which the students shown up their ideas and business proposals to  get investments, and no doubt these ideas were amazingly useful and profitable at the same time. Luckily, I got  people from some IT and software companies and shall visit Istanbul Tech Park soon because there is a lot of space between Pakistan and Turkey for  IT industry, Turkey have the advantage of European market and Pakistan have low cost human resources. So if we can manage it, it would be a good thing for our local software houses in Pakistan who are relying on outsourcing from other countries. We can fill the gap and we will fill it. 

ان شاء اللہ

~Anas


محبت کی اک لازوال داستان

1 comments

محمد كمال الدين السنانيري اور آمنہ قطب

كمال الدين اخوان المسلیمون مصر کے 1941 میں سرکردہ کارکن تھے۔آپ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر رسوخ کو دیکھتے ہوئے 1954 میں حکومت مصر نے آپکو عمر قید کی سزا سنائی ، جس کو بعد میں 25 سال کی سزا میں بدل دیا گیا ،پہلے 5 سال میں آپ پہ ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ آپ کی ظاہری شناخت بدل کر رہ گئی اور آپ عدالت میں دوران سماعت عام انسان کی طرح بولنے سے بھی قاصر ہو گئے ۔قرب مرگ چھانے لگا تو آپکو ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں آپ کی ملاقات اکسیوی صدی کے عظیم اسلامی مفکر سید قطب شہید رح سے ہوئی ،جن سے آپ نے انکی بہن کے رشتے کی بات کی، سید قطب شہید رح نے یہ بات آمنہ قطب کے سامنے رکھی، آمنہ قطب نے کمال الدین کے علم تقوی اور جدوجہد کو دیکھتے ہوئے اور ان تمام عوامل کو سمجھتے ہوئے کہ انکی زندگی کن مشکلات میں ہے اور ابھی انکی سزا کو ختم ہونے میں 20 سال پڑے ہوئے ہیں ، اللہ پہ ایمان رکھتے ہوئے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور کچھ ہی عرصے میں آپ کا نکاح کر دیا گیا ۔
کمال الدیں کی قید کے دوران آمنہ قطب بار بار انسے ملنے قاہرہ سے بذریعہ ٹرین جیل جاتی رہیں اور کے درمیان خط و کتابت ہوتی رہی ۔ دونوں کے مابین اللہ کے کے لیے محبت کا پُر خلوص جزبہ پروان چڑھتا رہا ۔
کچھ سال بعد کمال الدین نے طویل انتظار کو مد نظر رکھتے ہوئے آمنہ قطب سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپکو اپنے نکاح سے آزاد کر سکتا ہوں ،لیکن آمنہ قطب نے انکار کیا اور کمال الدیں کو ایک نظم کی صورت میں جواب دیا کہ اگر میرے ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں تو میں نہ جھکوں گی نہ آپ کو جھکنے دوں گی ،جنت تک آپ کا ساتھ دوں گی ۔

کمال الدین نے 17 سال مزید قید کاٹی اور 1973 میں رہائی حاصل کی اور آمنہ قطب کے ساتھ ایمان، محبت ، خلوص اور نیکیوں والی زندگی کے چند پرمسرت سال گزارے۔

اسی دوران سمبر 1981 میں مصر کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے اور مخالفت کے خوف سے کمال الدین کو دوبارہ گرفتار کرتی ہے اور مہنے بعد انکی کٹی پھٹی تشدد زدہ لاش آمنہ قطب کو لوٹا دی جاتی ہے ۔آمنہ قطب اس صدمے کو اللہ کی رضا مجھ کر سہہ جاتی ہیں اور اس کے بعد آخری سانس تک شادی نہیں کرتی ہیں ،اور کمال دین کی شہادت پہ اپنی روح اور ذہن کو قلم کے دوش پہ رکھ ایک نظم لکھتی ہیں ۔

هل ترانا نلتقي ام انها … كانت اللقيا على أرض السرابِ
“Do you envisage us meeting again, or has it already…Taken place in the land of mirages;
ثم ولت و تلاشى ظلها … و استحالت ذكريات للعذاب
Then it withdrew and its shadow vanished…And turned into torturous memories;
هكذا يسأل قلبي كلما … طالت الايام من بعد غيابِ
This is what I ask my heart whenever…The days grow longer from the day of your departure;
فإذا طيفك يرنو بلسمـًا… و كأني في استماع للجوابِ
But then your memory stares at me, cheerfully…And so it is as if I am listening to the response;
أولم نمضي على الحقِ معـًا … كي يعود الخير للأرض اليبابِ
Did we not tread the path of truth together?…So that good can return to the barren land;
فمضينا في طريق شائك … نتخلى فيه عن كل الرغابِ
So we walked along a thorny path…Abandoning all of our other ambitions;
و دفنا الشوق في اعماقنا … و مضينا في رضاء و احتسابِ
We buried our love deep within ourselves…And we strove on in contentment, hoping in the reward of Allah;
قد تعاهدنا على السيرِ معـًـا … ثم اعجلتَ مجيبـًا للذهابِ
We had made an agreement to walk together…Then you hurried, responding to the call of departure;
حين ناداني رب منعم … لحياة في جنان ورحاب
When the generous Lord called me…Inviting me to a life amidst gardens and vastness;
و لقاء في نعيم دائم … بجنود الله مرحب الصحاب
To a sublime meeting in perpetual happiness…With the Soldiers of Allah, joyful in their companionship;
قدموا الأرواح و العمر فدا … مستجيبين على غير ارتياب
They presented their souls and lives, as sacrifice…Having responded without the slightest hesitation;
فليعد قلبك من غفلاته … فلقاء الخلد في تلك الرحاب
So let your heart awaken from its sleep…For the ever-lasting meeting is in such a land;
أيها الراحل عُذرًا في شِكاتي … فإلى طيفِك أنات عتابِ
Oh you who has left, pardon me for my complaining…For my heart aches at your remembrance;
قد تركت القلب يـدمي مثقلاا … تائها في الليل في عمق الضباب
You have left my heart to bleed heavily…Lost in the night, in the depths of fog;
و اذا اطوي وحيدا حائرا … اقطع الدرب طويلاً في اكتئابِ
My evenings have become ones of confusion and loneliness…As I tread the long path of life in anguish;
و اذا الليل خضم موحش … تتلاقى فيه امواج العذاب
My night has become a gloomy sea…Encountering within it waves of pain;
لم يعد يبَرق في ليلي سَنااهُ … قد توارت كل انوار الشهاب
No longer does light radiate from my nights…The brightness of stars have disappeared;
غير اني سوف امضي مثلما … كنت تلقاني في وجه الصعاب
Despite this, I shall march on just as…You used to find me, in the face of adversity;
سوف يمضي الرأس مرفوعا فلاا … يرتضى ضعفـًا بقولِ او جوابِ
My head shall remain raised, and never…Will it accept weakness in speech, nor in my replies;
سوف تحدوني دمااء عابقات … قد انارت كل فج للذهاب
I shall be spurred on by the sweet-scented blood…Blood that has illuminated the roads of ahead.”
نظم کا لنک : https://www.youtube.com/watch?v=hzjHgfSVP_g



تصاویر :


تحریر
ملک انس اعوان

بھڑ

0 comments

آج نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جوں ہی اپنے غریب خانے کے آہنی دروازے پہ دستک دی، پاس ہی لگے برقی بورڈ کے اندر موجود بھڑوں کے چھتے کے ایک متحرک کارکن نے فرط جذبات میں آگے بڑھ کر لب بوسی کرنے کی کوشش کی جس سے بچنے کے لیے  کی گئی دفاعی کاروائی بھی بے سود ثابت ہوئی اور دشمن جاں کی جانب سے  نچلے ہونٹ کی اندرونی جانب ڈنگ شریف ثبت کر دیا گیا.
اب پچھتائے کا ہوت... البتہ فوراً  جوابی کارروائی اس طرح سے کی گئی کہ پہلے دشمن کا محاصرہ کیا گیا پھر ایک عدد اعلی کوالٹی کے insecticide سپرے کی آدھی مقدار دشمن کے علاقے میں اتار دی گئی. لاشیں عبرت کے لیے چھوڑ دی گئیں ہیں...!
تاہم مستقبل قریب کی ساری ملاقاتیں کینسل کر دی گئی ہیں...... 😜

ملک انس اعوان

طوطا سیاست

0 comments

ہمارے غریب خانے میں دو مادہ طوطے ہیں، جن میں سے ایک نسلی اور گھر کی پلی ہوئی ہے جبکہ دوسری کا بچپن کسی اور کے آنگن میں گزرا ہے اور نسلاً بھی کوئی خاص نسب کی حامل نہیں ہے ، جب دوسرے والی گھر لائی گئی تو زیادہ باتونی اور بے ضرر ہونے کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ٹھہر گئی، یہ قربت بڑھتی گئی اور اس قدر کہ اسٹیبلشمنٹ کی طوطا چشمی کو پہلے والی طوطی نے شدت سے محسوس کیا اور برا مانا.... پہلے وہ چپ رہ کر احتجاج درج کرواتی رہی.. مگر کہاں اسٹیبلشمنٹ کی بے حسی...  جب اسے احساس ہوا کہ اس طرح تو اسٹیبلشمنٹ پگھلنے والی نہیں تو اس نے ایک نیا ہتھیار آزمایا، اس نے دوسری طوطی کی آوازوں کی نقالی شروع کر دی...... اب جب وہ نسلی طوطی دوسرے والی طوطی کی آنکھیں گھما گھما کر نقالی کرتی ہے تو بہت ترس آتا ہے اور پیار بھی...!
خیر یہ تو معصوم پرندے کی محبت ہے کہ وہ ہر دم اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے ....!
خیر چھوڑیے اس کا سیاست سے کیا لینا دینا. 😂
انس

مدرس اور مونچھیں

0 comments

فیمنسٹ حضرات کی باتیں ایک جانب آج تو سورۃ النساء کی مختصر تفسیر کے دوران مدرس محترم نے مرد حضرات کو اچھا خاصہ پنجابی والا "دبلّا" ہے اور یہ تک کہہ دیا ہے کہ "ان مونچھوں والے بدمعاشوں کو کیوں خوشی سے جائداد دیتے ہو یہ کونسا بعد از مرگ دعائیں دیتے ہیں، اپنی بیٹیوں لاڈو رانیوں کو ضرور حصہ دو یہی تو دعائیں کرتی ہیں خیال رکھتی ہیں"
اس دوران سارے مونچھوں والے بدمعاش ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے، سب نے اپنی مونچھیں چھپا لیں 😂.

ملک انس اعوان

وادی سون

0 comments

وادی سون
ایک ایسی وادی جس کے متعلق عمومی طور پر سوچنا شاید ہمارے لیے ممکن نہیں ہے. یہاں کی فضاایک مہیب خاموشی میں اٹی رہتی ہے جس کا کوئی سرا عقل کے ہاتھ نہیں آتا.سوائے اس کے کہ بادل اپنے صبر کا دامن چھوڑ دیں اور پہاڑوں کے کندھوں پر سر رکھ کر روئیں، جس سے موسمی ندی نالے جنم لیتے ہیں اور چیختے چنگھاڑتے وادی کے نشیبی علاقوں کی جانب کود جاتے ہیں، پانی اپنے ساتھ صدیوں سے  آج بھی پتھروں کو اکھیڑ اکھیڑ کر اپنے سفر میں شریک کرتا ہے، یہ پتھر پانی کے ساتھ نشیب کی جانب اس طرح دوڑتے چلے جاتے ہیں گویا ایک ایک پتھر پر ایک ایک کوڑے مارنے والا مسلط کر دیا گیا ہے جو ایک کے بعد ایک کوڑے رسید کرتا ہے اور پتھر چیختے چلّاتے ہوئے مزید رفتار پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں. یہی نسبتاً گول پتھر ہمارے آباء کے گھروں کی دیواروں میں چن دیے جاتے رہے ہیں اور آج بھی یہ پتھر اس ان جانے والوں کی یاد میں ماتم کر رہے ہیں جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے.
ارے ہاں... "پنج پیر" کے سامنے ایک اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر لہراتی ہوا کا لمس اس لیے بھی اچھا لگ رہا تھا کہ اگر یہ ہوا بھی نہ ہو تو یہ غیر مرئی سکوت کانوں کے پردے پھاڑ کر رکھ دے. یہاں کے باسیوں کے سپاٹ چہرے اور بھوری آنکھیں ہرگز ہرگز حیرت میں مبتلا نہیں کرتیں واضح پتہ چلتا ہے کہ اصلاً یہ لوگ یہاں کے نہیں ہیں لیکن یہاں قدرت کے ساتھ ایسا تال میل بٹھا چکے ہیں کہ شاید یہاں انسے پہلے صرف سمندر ہی سمندر تھا جس کے سینے میں چھوٹی چھوٹی سیپیوں کی طرح لاکھوں راز چھپے بیٹھے ہیں.
ان خاموش طبع لمبے لبادوں، بھوری آنکھوں، کشادہ سینوں والے صحرائی قافلے کی تھکن آج بھی وادی کے پہاڑوں، جھرنوں، چشموں اور انکی آل اولاد میں دیکھی جا سکتی ہے. آج بھی ایسے ہی محسوس ہوتا ہے گویا وہ پر وقار بھوری آنکھوں والوں جن کی ارواح روز ان ندی نالوں، پہاڑی چوٹیوں پہ آکر خاموشی سے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جاتی ہیں. اور ایک ایسا اسم پڑھتی ہیں جس سے وادی خاموشی کے وجد میں آ جاتی ہے.
سورج کے ڈوبتے ہی ایک لطیف خنک ہوا وادی کے در و بام کو چھوتی ہوئی آسماں کی جانب روانہ ہو جاتی ہے گویا ان لمبے لبادوں والوں نے اپنی اولاد پہ اچٹتی سی نگاہ ڈالی ہو اور بلندی کی جانب سفر شروع کر دیا ہو.....!
ملک انس اعوان

دو کھجوریں

0 comments

کوٹ رنجیت، شیخوپورہ کی ایک مسجد میں، نماز مغرب کے بعد مسجد کے دروازے پہ ایک پختون بچہ ہر نمازی کو دو کھجوریں دیتا جا رہا تھا ، حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے اصحاب حرمین میں اہل عرب کے ایسے اعمال کے حوالے سے بتاتے رہتے ہیں، دوم مولانا عثمان خالد شیخوپوری نے پچھلے جمعہ میں اس سے وابستہ صحابہ کرام رض کا ایک واقعہ سنایا تھا وہ بھی ذہن میں آ گیا.

___
ہمارے یہاں ایک عورت تھی جو نالوں پر اپنے ایک کھیت میں چقندر بوتی۔ جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر اکھاڑ لاتیں اور اسے ایک ہانڈی میں پکاتیں پھر اوپر سے ایک مٹھی جو کا آٹا چھڑک دیتیں۔ اس طرح یہ چقندر گوشت کی طرح ہو جاتے۔ جمعہ سے واپسی میں ہم انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو یہی پکوان ہمارے آگے کر دیتیں اور ہم اسے چاٹ جاتے۔ ہم لوگ ہر جمعہ کو ان کے اس کھانے کے آرزومند رہا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث 938

ملک انس اعوان

استقبال مسرت

0 comments

اس سے پہلے کہ قدرت آپکو اپنے کیے کی سزا دے، خود کو اپنی ذات تسکین کے واسطے  سزا میں مبتلا رکھنا چاہیے ، اس کا مقصود تقدیر کے امر کو ٹالنا نہیں بلکہ اس کا مقصور خالصتاً اپنے ضمیر کی تسکین (satisfaction) ہونا چاہیے. شاید کچھ لوگ اسے شکست تسلیم کرنے سے تشبیہ دیتے ہیں،ہو سکتا ہے وہ درست بھی ہوں مگر یہ عمل قدرت کی چال سے پہلے اپنی چال چلنے کے مترادف ہے. گویا تاش کے کھیل میں کسی دوسرے کی چال کے چلنے سے پہلے ہی اس کا توڑ نکال کر اپنی چال چل جانا ہے. جو خوشیوں کا رزق آپ کے مقدر میں ہے اسے بالآخر مل کر ہی رہنا ہے، وہ سب حاصل کا حصہ ہیں اس لیے حاصل کے حصول کی کیا کوشش کرنا؟ اسی مقدر کی خوشیاں جو اوپر سے آپکی جانب  روانہ کر دی گئی ہیں انکا زمین پہ استقبال پرتپاک انداز میں کیا جانا چاہیے، وہ بھی یوں کہ سوز کی کیفیت کو بحال رکھا جائے، غم کو تازہ اور ذہن کو آلام سے مسلسل استفادہ کرواتے رہنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے روشنی کے استقبال کے لیے قدرت رات کی چادر پھیلا دیتی ہے. جتنا اندھیرا زیادہ ہو گا، روشنی کی ایک ننھی سی کرن اتنی ہی نمایاں ہو گی اور نمو پائے گی.
اسی طرح اپنی زندگی میں بھی سوز کی خوشبو کو قائم رکھنا چاہتے تاکہ ہر خوشی ہر لمحہ مسرت زمین دل پہ بھرپور طریقے سے پھل پھول سکے.

ملک انس اعوان
20 جنوری 2018