عجیب ماضی کی وحشتیں تھیں
عجیب حالات پھر رہے ہیں
ہم اپنے کمرے کی کھڑکیوں سے
اندھیر کرنوں کو گن رہے ہیں
سفیدیوں سے سیاہیوں کی
سیاہ لکیروں کو چن رہے ہیں
عجیب تصویر بن رہی ہے
عجیب انداز ڈھل رہے ہیں
سیاہ مائل سے کینوس پہ
خزاں کے دلدل ابل رہے ہیں
وہاں پہ سنسان راستوں پر
وہ شور وحشت مچا ہوا ہے
کہ ذات و ہستی الجھ رہی ہے
کوئی باب ذلت پلٹ رہا ہے
Ad
موضوعات
آمدو رفت
سیاہ
0
comments
Empty Bottles
0
comments
تسخیر
0
comments
صبح ہونا نہ ہونا ضروری نہیں، بس اٹھتے ہی آنکھیں ملنے سے زیادہ فکر پلکیں سیدھی کرنے کی ہوتی ہے، حالانکہ دیکھنے کے حوالے سے کچھ خاص ذوق نہیں پایا جاتا ہے مگر اس اہتمام کو قائم رکھا جاتا ہے، کیونکہ سیدھی روشنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل کے اسیر خانے کے اندر کسی تاریک، تعفن زدہ سنسان کمرے کی چھت سے دھار بناتے ہوئے امید نام کے لاشے پہ پڑتی ہے، جو کارِ دنیا کی فکر میں لاحق ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور مجھے بھی اٹھنے پہ مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اس بیداری کاحاصل آوارگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک تو ہم نے کچھ کیا نہیں ہے اور بقول ہمارے نہ ہم سے کچھ سرزد ہونے کا امکان باقی ہے.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنے ہر سوال کا جواب خود دینا عجیب عادت ہے. یہ مکالمہ ہماری شعوری بیداری سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے، کبھی کبھی اسکا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ لا شعور میں بھی قدم جمانے لگتا ہے.خوابوں کے کئی قافلے بھی اس کی زد میں آتے پائے گئے ہیں. اس عادت کی طرح نجانے کیوں ہر شے اپنے آپ میں ایک تسخیری وصف پیدا کرنا چاہتی ہے.
آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ کیسے میت کے چہرے پہ سے کپڑا اتار اتار کر دیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے آگے ہی بڑھ جانا ہے. دنیا ہے ہوتا ہے اور چلتا ہے. لیکن یہ تسخیری صفت کہ بس دیکھ لیا جائے وحشت انگیز ہے . ارے کیا ہے اگر کوئی مر گیا ہے بات ختم اپنے احساسات کی تسخیری قوت کو روکیے، ہر لمحہ، ہر احساس، ہر منظر ہر شے فتح کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے. دوسرا دیکھنے والوں نے بنیادی طور پہ کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا ہے. جوکہ کسی قدر دیکھنے کی توہین بھی ہے.
اب کہ ذوق دید کہاں بس ذوق تماشا کا رواج ہے، ہم یہ سوچتے ہیں اور سنا ہے کہ انسانی معاشروں میں جانوروں کو لڑا کر ذوق تماشا کو تسکین پہنچانے پہ پابندی ہے، چنانچہ یہ کام اب انسانوں کو باہم دست و گریباں کر کے پورا کیا جا رہا ہے. اور جدید انسان کے لیے ان تماشوں کا منعقد کرنا مزید سہل ٹھہر گیا ہے. اب تو ہم اسے جدید انسان کی بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں. کبھی کبھی تو چائے کی پیالی میں دیکھتے ہوئے پوری دنیا کا شور اضافی اور غیر اہم محسوس ہوتا ہے اور ایک موہوم سی خواہش انگرائی لیتی ہے کہ کاش اس پیالی میں دنیا و ما فیہا کو گھول کر پی جاؤں. مگر پھر کہیں دور پار سے یہ بھی خیال آتا ہے کہ کہیں باہر کا دوزخ میرے اندر کے دوزخ سے نہ مل جائے وگرنہ "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" حالانکہ سمجھ سے تو یہ پہلے ہی سے باہر ہے.
یہ دو دوزخوں کا معاملہ بھی کیا دلچسپ ہے کہ ان کے مابین کبھی کبھی تو اپنی ذات ایک پردہ معلوم ہوتی ہے، جس کا واحد کام ان دونوں کی شناخت کو قائم رکھنا ہے. اور اس وجود کے ہونے میں سے اگر "یقین" کی قوت نکال دی جائے تو، واقعتاً وجود کہیں بھی موجود نہیں ہے.
بقول جون "وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں" کے مصداق ہم ایک خلا میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا وجود محض سوچتے رہنے کی حد تک موجود ہے جہاں آپ سوچنا بند کریں گے آپ موجود سے لا موجود میں ڈھل جائیں گے، آخر اس کمتر سی ہئیتی موجودگی کا مذاق بھی کیوں، یہ تو عجب بدمذاقی ہوئی. اچھا ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، وگرنہ یہاں وہ وہ تماشے برپا ہوتے کہ خدا کی پناہ. صد شکر کہ ہم اب بھی اسی کی پناہ میں ہیں.
ملک انس اعوان
سید طفیل الرحمان شہید
0
comments
OIC World Halal Summit
0
comments
Yesterday there was a beautiful event named as "World Halal Summit 2019" arranged by #OIC - SIMIT in the historical city of Istanbul. Being a student of MBA it was a great experience to observe the B2B meetings .it was an opertunity to know about Halal food market, its advantages and its scope in future. I met many people from all over the Muslim world and they discussed their business models and their collaboration with other nations and how they are expanding their businesses across the world.I was amazed to know about Indonesian entrepreneurship model by providing the basic capital and business assistance to the Madrasas (Religious) schools by the Provincial Government to launch their own businesses using the same students as human resource and to provide quality goods and services to community to earn profits which are then distributed for paying the loan back to Government in parts, to pay the wages and to provide money for development of Madrasas and Mosques, so by doing this at the same time they are empowering and training young blood and making the religious institutions a profit able entities who are not dependent on Zakat.There were some presentations of detailed scientific research on Halal meat and scientific discussion about the methods to know "weather the meat is halal or not? " even its still not possible to know it. But scientists described its different dimensions and the framework of their future research work. In this event there was a "Startup" corner in which the students shown up their ideas and business proposals to get investments, and no doubt these ideas were amazingly useful and profitable at the same time. Luckily, I got people from some IT and software companies and shall visit Istanbul Tech Park soon because there is a lot of space between Pakistan and Turkey for IT industry, Turkey have the advantage of European market and Pakistan have low cost human resources. So if we can manage it, it would be a good thing for our local software houses in Pakistan who are relying on outsourcing from other countries. We can fill the gap and we will fill it.
ان شاء اللہ
~Anas

محبت کی اک لازوال داستان
1 comments
بھڑ
0
comments
آج نماز مغرب کی ادائیگی کے بعد جوں ہی اپنے غریب خانے کے آہنی دروازے پہ دستک دی، پاس ہی لگے برقی بورڈ کے اندر موجود بھڑوں کے چھتے کے ایک متحرک کارکن نے فرط جذبات میں آگے بڑھ کر لب بوسی کرنے کی کوشش کی جس سے بچنے کے لیے کی گئی دفاعی کاروائی بھی بے سود ثابت ہوئی اور دشمن جاں کی جانب سے نچلے ہونٹ کی اندرونی جانب ڈنگ شریف ثبت کر دیا گیا.
اب پچھتائے کا ہوت... البتہ فوراً جوابی کارروائی اس طرح سے کی گئی کہ پہلے دشمن کا محاصرہ کیا گیا پھر ایک عدد اعلی کوالٹی کے insecticide سپرے کی آدھی مقدار دشمن کے علاقے میں اتار دی گئی. لاشیں عبرت کے لیے چھوڑ دی گئیں ہیں...!
تاہم مستقبل قریب کی ساری ملاقاتیں کینسل کر دی گئی ہیں...... 😜
ملک انس اعوان
طوطا سیاست
0
comments
ہمارے غریب خانے میں دو مادہ طوطے ہیں، جن میں سے ایک نسلی اور گھر کی پلی ہوئی ہے جبکہ دوسری کا بچپن کسی اور کے آنگن میں گزرا ہے اور نسلاً بھی کوئی خاص نسب کی حامل نہیں ہے ، جب دوسرے والی گھر لائی گئی تو زیادہ باتونی اور بے ضرر ہونے کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ٹھہر گئی، یہ قربت بڑھتی گئی اور اس قدر کہ اسٹیبلشمنٹ کی طوطا چشمی کو پہلے والی طوطی نے شدت سے محسوس کیا اور برا مانا.... پہلے وہ چپ رہ کر احتجاج درج کرواتی رہی.. مگر کہاں اسٹیبلشمنٹ کی بے حسی... جب اسے احساس ہوا کہ اس طرح تو اسٹیبلشمنٹ پگھلنے والی نہیں تو اس نے ایک نیا ہتھیار آزمایا، اس نے دوسری طوطی کی آوازوں کی نقالی شروع کر دی...... اب جب وہ نسلی طوطی دوسرے والی طوطی کی آنکھیں گھما گھما کر نقالی کرتی ہے تو بہت ترس آتا ہے اور پیار بھی...!
خیر یہ تو معصوم پرندے کی محبت ہے کہ وہ ہر دم اپنے مالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا رہتا ہے ....!
خیر چھوڑیے اس کا سیاست سے کیا لینا دینا. 😂
انس
مدرس اور مونچھیں
0
comments
فیمنسٹ حضرات کی باتیں ایک جانب آج تو سورۃ النساء کی مختصر تفسیر کے دوران مدرس محترم نے مرد حضرات کو اچھا خاصہ پنجابی والا "دبلّا" ہے اور یہ تک کہہ دیا ہے کہ "ان مونچھوں والے بدمعاشوں کو کیوں خوشی سے جائداد دیتے ہو یہ کونسا بعد از مرگ دعائیں دیتے ہیں، اپنی بیٹیوں لاڈو رانیوں کو ضرور حصہ دو یہی تو دعائیں کرتی ہیں خیال رکھتی ہیں"
اس دوران سارے مونچھوں والے بدمعاش ایک دوسرے کی جانب دیکھ رہے تھے، سب نے اپنی مونچھیں چھپا لیں 😂.
ملک انس اعوان
وادی سون
0
comments
وادی سون
ایک ایسی وادی جس کے متعلق عمومی طور پر سوچنا شاید ہمارے لیے ممکن نہیں ہے. یہاں کی فضاایک مہیب خاموشی میں اٹی رہتی ہے جس کا کوئی سرا عقل کے ہاتھ نہیں آتا.سوائے اس کے کہ بادل اپنے صبر کا دامن چھوڑ دیں اور پہاڑوں کے کندھوں پر سر رکھ کر روئیں، جس سے موسمی ندی نالے جنم لیتے ہیں اور چیختے چنگھاڑتے وادی کے نشیبی علاقوں کی جانب کود جاتے ہیں، پانی اپنے ساتھ صدیوں سے آج بھی پتھروں کو اکھیڑ اکھیڑ کر اپنے سفر میں شریک کرتا ہے، یہ پتھر پانی کے ساتھ نشیب کی جانب اس طرح دوڑتے چلے جاتے ہیں گویا ایک ایک پتھر پر ایک ایک کوڑے مارنے والا مسلط کر دیا گیا ہے جو ایک کے بعد ایک کوڑے رسید کرتا ہے اور پتھر چیختے چلّاتے ہوئے مزید رفتار پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں. یہی نسبتاً گول پتھر ہمارے آباء کے گھروں کی دیواروں میں چن دیے جاتے رہے ہیں اور آج بھی یہ پتھر اس ان جانے والوں کی یاد میں ماتم کر رہے ہیں جو کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے.
ارے ہاں... "پنج پیر" کے سامنے ایک اونچی پہاڑی پر بیٹھ کر لہراتی ہوا کا لمس اس لیے بھی اچھا لگ رہا تھا کہ اگر یہ ہوا بھی نہ ہو تو یہ غیر مرئی سکوت کانوں کے پردے پھاڑ کر رکھ دے. یہاں کے باسیوں کے سپاٹ چہرے اور بھوری آنکھیں ہرگز ہرگز حیرت میں مبتلا نہیں کرتیں واضح پتہ چلتا ہے کہ اصلاً یہ لوگ یہاں کے نہیں ہیں لیکن یہاں قدرت کے ساتھ ایسا تال میل بٹھا چکے ہیں کہ شاید یہاں انسے پہلے صرف سمندر ہی سمندر تھا جس کے سینے میں چھوٹی چھوٹی سیپیوں کی طرح لاکھوں راز چھپے بیٹھے ہیں.
ان خاموش طبع لمبے لبادوں، بھوری آنکھوں، کشادہ سینوں والے صحرائی قافلے کی تھکن آج بھی وادی کے پہاڑوں، جھرنوں، چشموں اور انکی آل اولاد میں دیکھی جا سکتی ہے. آج بھی ایسے ہی محسوس ہوتا ہے گویا وہ پر وقار بھوری آنکھوں والوں جن کی ارواح روز ان ندی نالوں، پہاڑی چوٹیوں پہ آکر خاموشی سے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو جاتی ہیں. اور ایک ایسا اسم پڑھتی ہیں جس سے وادی خاموشی کے وجد میں آ جاتی ہے.
سورج کے ڈوبتے ہی ایک لطیف خنک ہوا وادی کے در و بام کو چھوتی ہوئی آسماں کی جانب روانہ ہو جاتی ہے گویا ان لمبے لبادوں والوں نے اپنی اولاد پہ اچٹتی سی نگاہ ڈالی ہو اور بلندی کی جانب سفر شروع کر دیا ہو.....!
ملک انس اعوان
دو کھجوریں
0
comments
کوٹ رنجیت، شیخوپورہ کی ایک مسجد میں، نماز مغرب کے بعد مسجد کے دروازے پہ ایک پختون بچہ ہر نمازی کو دو کھجوریں دیتا جا رہا تھا ، حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے اصحاب حرمین میں اہل عرب کے ایسے اعمال کے حوالے سے بتاتے رہتے ہیں، دوم مولانا عثمان خالد شیخوپوری نے پچھلے جمعہ میں اس سے وابستہ صحابہ کرام رض کا ایک واقعہ سنایا تھا وہ بھی ذہن میں آ گیا.
___
ہمارے یہاں ایک عورت تھی جو نالوں پر اپنے ایک کھیت میں چقندر بوتی۔ جمعہ کا دن آتا تو وہ چقندر اکھاڑ لاتیں اور اسے ایک ہانڈی میں پکاتیں پھر اوپر سے ایک مٹھی جو کا آٹا چھڑک دیتیں۔ اس طرح یہ چقندر گوشت کی طرح ہو جاتے۔ جمعہ سے واپسی میں ہم انہیں سلام کرنے کے لیے حاضر ہوتے تو یہی پکوان ہمارے آگے کر دیتیں اور ہم اسے چاٹ جاتے۔ ہم لوگ ہر جمعہ کو ان کے اس کھانے کے آرزومند رہا کرتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث 938
ملک انس اعوان
استقبال مسرت
0
comments
اس سے پہلے کہ قدرت آپکو اپنے کیے کی سزا دے، خود کو اپنی ذات تسکین کے واسطے سزا میں مبتلا رکھنا چاہیے ، اس کا مقصود تقدیر کے امر کو ٹالنا نہیں بلکہ اس کا مقصور خالصتاً اپنے ضمیر کی تسکین (satisfaction) ہونا چاہیے. شاید کچھ لوگ اسے شکست تسلیم کرنے سے تشبیہ دیتے ہیں،ہو سکتا ہے وہ درست بھی ہوں مگر یہ عمل قدرت کی چال سے پہلے اپنی چال چلنے کے مترادف ہے. گویا تاش کے کھیل میں کسی دوسرے کی چال کے چلنے سے پہلے ہی اس کا توڑ نکال کر اپنی چال چل جانا ہے. جو خوشیوں کا رزق آپ کے مقدر میں ہے اسے بالآخر مل کر ہی رہنا ہے، وہ سب حاصل کا حصہ ہیں اس لیے حاصل کے حصول کی کیا کوشش کرنا؟ اسی مقدر کی خوشیاں جو اوپر سے آپکی جانب روانہ کر دی گئی ہیں انکا زمین پہ استقبال پرتپاک انداز میں کیا جانا چاہیے، وہ بھی یوں کہ سوز کی کیفیت کو بحال رکھا جائے، غم کو تازہ اور ذہن کو آلام سے مسلسل استفادہ کرواتے رہنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے روشنی کے استقبال کے لیے قدرت رات کی چادر پھیلا دیتی ہے. جتنا اندھیرا زیادہ ہو گا، روشنی کی ایک ننھی سی کرن اتنی ہی نمایاں ہو گی اور نمو پائے گی.
اسی طرح اپنی زندگی میں بھی سوز کی خوشبو کو قائم رکھنا چاہتے تاکہ ہر خوشی ہر لمحہ مسرت زمین دل پہ بھرپور طریقے سے پھل پھول سکے.
ملک انس اعوان
20 جنوری 2018
