اس سے پہلے کہ قدرت آپکو اپنے کیے کی سزا دے، خود کو اپنی ذات تسکین کے واسطے سزا میں مبتلا رکھنا چاہیے ، اس کا مقصود تقدیر کے امر کو ٹالنا نہیں بلکہ اس کا مقصور خالصتاً اپنے ضمیر کی تسکین (satisfaction) ہونا چاہیے. شاید کچھ لوگ اسے شکست تسلیم کرنے سے تشبیہ دیتے ہیں،ہو سکتا ہے وہ درست بھی ہوں مگر یہ عمل قدرت کی چال سے پہلے اپنی چال چلنے کے مترادف ہے. گویا تاش کے کھیل میں کسی دوسرے کی چال کے چلنے سے پہلے ہی اس کا توڑ نکال کر اپنی چال چل جانا ہے. جو خوشیوں کا رزق آپ کے مقدر میں ہے اسے بالآخر مل کر ہی رہنا ہے، وہ سب حاصل کا حصہ ہیں اس لیے حاصل کے حصول کی کیا کوشش کرنا؟ اسی مقدر کی خوشیاں جو اوپر سے آپکی جانب روانہ کر دی گئی ہیں انکا زمین پہ استقبال پرتپاک انداز میں کیا جانا چاہیے، وہ بھی یوں کہ سوز کی کیفیت کو بحال رکھا جائے، غم کو تازہ اور ذہن کو آلام سے مسلسل استفادہ کرواتے رہنا چاہیے، بالکل اسی طرح جیسے روشنی کے استقبال کے لیے قدرت رات کی چادر پھیلا دیتی ہے. جتنا اندھیرا زیادہ ہو گا، روشنی کی ایک ننھی سی کرن اتنی ہی نمایاں ہو گی اور نمو پائے گی.
اسی طرح اپنی زندگی میں بھی سوز کی خوشبو کو قائم رکھنا چاہتے تاکہ ہر خوشی ہر لمحہ مسرت زمین دل پہ بھرپور طریقے سے پھل پھول سکے.
ملک انس اعوان
20 جنوری 2018










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔