Ad
موضوعات
آمدو رفت
ڈر اور لالچ
0
comments
دھواں دار تخیل
0
comments
کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.
اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.
ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017
تذکرہ لسی شریف
0
comments
غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.
انس اعوان
