ڈر اور لالچ

0 comments
ہزار نسخوں، کتابوں، تحریری و تقریری مواد سے کہیں زیادہ کارآمد شے آپکا اپنا زہن ہے. یہ کیسے اور کس معیار کے تحت فیصلے کرتا ہے، کہاں کہاں کیسے تبدیلیاں قبول کرتا ہے یہ سمجھنا سب سے زیادہ ضروری ہے. اس ضمن میں وہ چیزیں جو زہن اور عقل پہ سب سے زیادہ پر اثر ہیں ان میں سے پہلا "ڈر" اور دوسری چیز "لالچ"ہے . 
ایک لمحے کے لیے رکیے.... یہ دونوں چیزیں اپنی ذاتی حیثیت میں بری نہیں ہیں بلکہ محض فطری احساسات ہیں. ان فطری احساسات کو Deal کیسے کرنا ہے اس کے لیے خالقِ فطرت و قدرت کا تیار کردہ انسان کے لیے آخری اور بہترین user manual اٹھا لیجیے اور سمجھیے کہ خالق نے بار بار کیوں آیات مبارکہ میں کہیں دوزخ سے ڈرایا ہے اور کبھی جنت کے حسین مناظر کی خیالی تصویر سے نیکی کی جانب راغب کیا ہے. 
اب پھر رکیے...... غور کیجیئے کہ الله آپکے نفس کو kill نہیں کر رہا بلکہ modify کر رہا ہے کبھی جہنم کے ڈر سے اور کبھی جنت کے لالچ سے، بس یہی کچھ آپکو کرنا ہے. 
یعنی.... خود سے لڑنا نہیں بلکہ اپنی ذات سے مذاکرات کرنے ہیں، اس کو مائل کرنا ہے اور اس عمل کے پریکٹیکلی کئی طریقے ہیں اور کئی انداز، حسب ضرورت کسی بھی دوا کا استعمال کیا جا سکتا ہے، ان طریقوں پہ پھر کبھی تفصیل سے بتایا جائے گا اب آ جائیے 
"ڈر " کے ذکر کو کھولتے ہیں. 
ڈر پہ قابو پائیے،کیونکہ انسانی ذہن ایک وقت میں صرف ایک ہی قسم کے ڈر کا سامنا کر سکتا ہے، ڈر کا جھمگٹا اس کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے اور باقی صلاحیتوں پہ بھی غالب آنے کی کوشش کرتا ہے. 
لہذا ڈر کو خدا تک محدود کر دیجیے اور باقی ہر قسم کے خوف سے خود کو آزاد کر لیجیے. کیونکہ جس قدر آپ اپنے ڈر کو قابو میں رکھ سکیں گے اتنی ہی تیزی سے امید آپ کے اندر پیدا ہوگی اور فروغ پائے گی. 
دوسری چیز تھی"لالچ"یہ بھی انسان کے اندر خدا کی جانب سے ایک Built in Function ہے ،لالچ بذات خود اپنے اندر ڈھیروں احساسات کا مجموعہ ہے مگر اس کے اجزاء ترکیبی  یعنی recipe میں سب سے اہم چیز چاہت ہے. آپ کسی بھی چیز کو  کسی بھی حد تک چاہ سکتے ہیں لہذا اپنی چاہت کو مثبت چیزوں میں  اس طرح تقسیم کر دیجیے کہ منفی اشیاء کے لیے آپکے پاس کوئی چاہت باقی نہ رہے.
آپکا یہی عمل آپکی توجہ کو بھی تقسیم کرتا ہے. اور جب توجہ تقسیم ہوتی ہے تو وقت کی تقسیم بھی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے. 
آپ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا ہے لہذا اپنے آپ سے دوستی کیجیئے، سمجھائیے اور احساسات کو قابو کرنے میں خود کفیل ہو جائیے. 


تحریر 
ملک انس اعوان




دھواں دار تخیل

0 comments

کافی غور کے بعد انکشاف ہوا یا کیا جارہا ہے کہ یہ جو ہم سرِ شام حسب طبعیت ریلوے اسٹیشن پہ بادلوں کا نظارہ کرنے اور حسب توفیق ٹہلنے جاتے ہیں اس دوران ہمارے تخیل میں دھویں کی مقدار  زیادہ کیوں ہو جاتی ہے؟
اس لیے کہ وہاں پہ شہر بھر سے آئے ہوئے چھوٹے طیارے ہمارے ارد گرد "ریفیولنگ" اور پرواز کی نیت سے اجتماعی طور پہ اڑان بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے باعث نشیلا دھواں اکثر و بیشتر ہوا کے سر پہ سوار ہو کر ہماری جانب لپکتا ہے، جو بالآخر کسی نہ کسی صورت ہمارے تخیل تک پہنچ جاتا ہے. شہری انتظامیہ کو اس ضمن میں بھی سوچنا چاہیے، یا ریلوے اسٹیشن کی حدود کو سرکاری طور پر رن وے قرار دے کر اس کا انتظام اپنے سر لے لینا چاہیے . وگرنہ جس رفتار سے طیاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے کچھ بعید نہیں کہ چند ماہ تک یہاں  بین الاقوامی پروازوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ فضائی کرتب کے مظاہرے بھی دیکھنے کو ملیں گے.....!
ارے ہاں رکیے اسپانسر کا نام تو سنتے جائیے.

اس انکشاف میں ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے محمد اجمل مہوٹہ سکنہ پکہ ملانہ تحصیل و ضلع ڈیرہ اسماعیل خان.

ملک انس اعوان
بمقام :ریلوے اسٹیشن، اٹک شریف
کیفیت : معتدل شریف
3 مئی 2017

تذکرہ لسی شریف

0 comments


غالباً بلکہ یقیناً ستمبر 2013 میں ہم اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اٹک شریف تشریف لے آئے تھے  یاد رہے کہ اس وقت "آستانہ عالیہ ہاسٹلیہ" کی عدم موجودگی کے باعث اٹک "شریف" نہیں تھا بہرحال ان دنوں سے جنوری 2014 تک ہم اپنے احباب کو گواہ بنا کر کہتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ہوٹل، ڈھابہ ہم سے بچ گیا ہو جہاں ہم نے لسی شریف کا سوال نہ کیا ہو.... وہ کہتے ہیں ناں کہ
"قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں"
کیونکہ ہماری آمد کے بعد موسم سرما کا آغاز ہو چکا تھا، چناچہ جیسے تیسے سردیاں جہاد بالنفس کرتے ہوئے گزاریں اور گرمیوں کا انتظار کیا یا  اس دوران اپنے دستِ نیم نازک سے ہاسٹل میں ہی اپنی روحانی تسکین کا سامان کیے رکھا.
اب تو الحمداللہ جوبھی موسم ہو، کہیں نہ کہیں سے لسی شریف درآمد کروا ہی لیتے ہیں.

انس اعوان