صبح ہونا نہ ہونا ضروری نہیں، بس اٹھتے ہی آنکھیں ملنے سے زیادہ فکر پلکیں سیدھی کرنے کی ہوتی ہے، حالانکہ دیکھنے کے حوالے سے کچھ خاص ذوق نہیں پایا جاتا ہے مگر اس اہتمام کو قائم رکھا جاتا ہے، کیونکہ سیدھی روشنی آنکھوں سے ہوتے ہوئے دل کے اسیر خانے کے اندر کسی تاریک، تعفن زدہ سنسان کمرے کی چھت سے دھار بناتے ہوئے امید نام کے لاشے پہ پڑتی ہے، جو کارِ دنیا کی فکر میں لاحق ہڑبڑا کر اٹھتا ہے اور مجھے بھی اٹھنے پہ مجبور کر دیتا ہے، حالانکہ اس بیداری کاحاصل آوارگی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اب تک تو ہم نے کچھ کیا نہیں ہے اور بقول ہمارے نہ ہم سے کچھ سرزد ہونے کا امکان باقی ہے.
یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپنے ہر سوال کا جواب خود دینا عجیب عادت ہے. یہ مکالمہ ہماری شعوری بیداری سے لے کر تاحال جاری و ساری ہے، کبھی کبھی اسکا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے اور یہ لا شعور میں بھی قدم جمانے لگتا ہے.خوابوں کے کئی قافلے بھی اس کی زد میں آتے پائے گئے ہیں. اس عادت کی طرح نجانے کیوں ہر شے اپنے آپ میں ایک تسخیری وصف پیدا کرنا چاہتی ہے.
آپ دیکھتے نہیں کہ لوگ کیسے میت کے چہرے پہ سے کپڑا اتار اتار کر دیدار کرتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں، ظاہر ہے انہوں نے آگے ہی بڑھ جانا ہے. دنیا ہے ہوتا ہے اور چلتا ہے. لیکن یہ تسخیری صفت کہ بس دیکھ لیا جائے وحشت انگیز ہے . ارے کیا ہے اگر کوئی مر گیا ہے بات ختم اپنے احساسات کی تسخیری قوت کو روکیے، ہر لمحہ، ہر احساس، ہر منظر ہر شے فتح کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے. دوسرا دیکھنے والوں نے بنیادی طور پہ کچھ دیکھنا بھی نہیں ہوتا ہے. جوکہ کسی قدر دیکھنے کی توہین بھی ہے.
اب کہ ذوق دید کہاں بس ذوق تماشا کا رواج ہے، ہم یہ سوچتے ہیں اور سنا ہے کہ انسانی معاشروں میں جانوروں کو لڑا کر ذوق تماشا کو تسکین پہنچانے پہ پابندی ہے، چنانچہ یہ کام اب انسانوں کو باہم دست و گریباں کر کے پورا کیا جا رہا ہے. اور جدید انسان کے لیے ان تماشوں کا منعقد کرنا مزید سہل ٹھہر گیا ہے. اب تو ہم اسے جدید انسان کی بنیادی ضرورت سمجھنے لگے ہیں. کبھی کبھی تو چائے کی پیالی میں دیکھتے ہوئے پوری دنیا کا شور اضافی اور غیر اہم محسوس ہوتا ہے اور ایک موہوم سی خواہش انگرائی لیتی ہے کہ کاش اس پیالی میں دنیا و ما فیہا کو گھول کر پی جاؤں. مگر پھر کہیں دور پار سے یہ بھی خیال آتا ہے کہ کہیں باہر کا دوزخ میرے اندر کے دوزخ سے نہ مل جائے وگرنہ "کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی" حالانکہ سمجھ سے تو یہ پہلے ہی سے باہر ہے.
یہ دو دوزخوں کا معاملہ بھی کیا دلچسپ ہے کہ ان کے مابین کبھی کبھی تو اپنی ذات ایک پردہ معلوم ہوتی ہے، جس کا واحد کام ان دونوں کی شناخت کو قائم رکھنا ہے. اور اس وجود کے ہونے میں سے اگر "یقین" کی قوت نکال دی جائے تو، واقعتاً وجود کہیں بھی موجود نہیں ہے.
بقول جون "وہ خلا ہے کہ سوچتا ہوں میں" کے مصداق ہم ایک خلا میں جی رہے ہیں جہاں ہمارا وجود محض سوچتے رہنے کی حد تک موجود ہے جہاں آپ سوچنا بند کریں گے آپ موجود سے لا موجود میں ڈھل جائیں گے، آخر اس کمتر سی ہئیتی موجودگی کا مذاق بھی کیوں، یہ تو عجب بدمذاقی ہوئی. اچھا ہے کہ سب کچھ انسان کے اختیار میں نہیں ہے، وگرنہ یہاں وہ وہ تماشے برپا ہوتے کہ خدا کی پناہ. صد شکر کہ ہم اب بھی اسی کی پناہ میں ہیں.
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔