احساس اور دوستی

0 comments
سوال :آپ ایک وسیع حلقہ احباب رکھتے ہیں لیکن آپ اس کا انکار بھی کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے دوم آپ کے نزدیک دوستی سے کیا مراد ہے اور "احساس" کا اس میں کتنا کردار ہے؟
جواب : میرے بارے میں زیادہ لوگ یہ قیاس کرتے ہیں کہ جناب کا حلقہ احباب بہت وسیع ہے لیکن در اصل حقیقت کچھ اور ہے۔میرے نزدیک دوستی صرف وقت گزاری اور کوئی قلیل وقتی مشروط رشتہ نہیں ہے بلکہ آخری سانس تک احساس کے انتہائی باریک باریک نقطوں کو سمجھنے کا نام دوستی ہے۔اور میرے ذہن میں ایک دوست کا جو تصور موجود ہے اس کا حقیقت میں تمام جملہ خصوصیات کے ساتھ ہونا قریباً نا ممکن سی بات ہے۔لیکن میری تلاش کبھی ختم نہیں ہوئی، ویسے بھی اس چند سالہ زندگی میں اتنا کچھ کر پانا  یا ہو جانا کچھ غیر معمولی سا لگتا ہے، یا یوں کہیے کہ نا ممکن۔ایک بات جو ہم نے محسوس کی ہے کہ کوئی بھی رشتہ احساس کے ایندھن کے بغیر زندگی کی  سڑک پر زیادہ دیر چل نہیں پاتا ۔ اور اس ضمن میں سب سے اہم نقطہ یہ بھی ہے کہ "احساس" ان چند انسانی محسوسات میں سے ایک شے ہے جو کبھی بھی مصنوعی طور پر پیدا نہیں کی جا سکتی ۔اس کا پہلے سے ہونا ہی اس کے ہونے کی دلیل ہے، با امر مجبوری جو احساس جان بوچھ کر دلایا جائے اسے میں ذاتی طور پر احساس نہیں گردانتا۔ اسے آپ دوسرے فرد کی مہربانی ،عنایت یا رحم تو کہہ سکتے ہیں لیکن احساس نہیں۔دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں عمومیً حساسیت کا جو پیمانہ رکھا جاتا ہے وہ سرے سے ہی غلط ہے۔میرے کچھ احباب کا اور قدرے میرا بھی یہ ماننا ہے کہ احساس کی ایک مناسب مقدار ہر انسان میں موجود ہوتی ہے جو انسان کی ترجیحات کے مطابق اثر انداز ہوتی ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترجیحات کس طرح طے کی جاتیں ہیں اس کا سب سے مناسب اور قابل عمل طریقہ یہ ہے کہ آپ جس فرد کی ترجیحات معلوم کرنا چاہیں تو اس کی مصروفیت کا باریکی سے مطالعہ کیجئے جن چیزوں پر وہ شخص زیادہ وقت صرف کرے وہی اس کی ترجیح شمار کی جائے گی۔
اب جبکہ آپ کے پاس ترجیحات  موجود ہوں تو آپ خود محسوس کرنے لگیں گے کہ احساس کی مقدار ترجیحات میں زیادہ ہے۔اور یہ بھی ایک مسلم حقیقت ہے کی ترجیحات وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔

تحریر
ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔