تمہیں حق ہے

0 comments

تمہیں حق ہے
کہ مجھکو خاک زاروں میں گھسیٹو تم
میری داڑھی کے ہر اک بال کو جڑ سے اکھیڑو تم
میرے بازو جسم کی قید سے آزاد کردو تم
تمہیں حق ہے
کہ میرے ناخن اکھیڑ ڈالو تم
جو چاہو کرو پابند کرو آہنی فصیلوں میں
کہ میری آہ کو بھی قید کرلو تم
تمہیں حق ہے
مجھے ذلت کے ٹکوں کے بدلے بیچ ڈالو تم
میرے بچے اٹھا کر قید خانے بھیج ڈالو تم
سارے ضبط کے امتحاں بھیج ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ میں ہوں توحید کا فرزند
مجھے یقیں ہے کہ حق بیاں ہے میرا
سو زباں میری گدی سے کھینچ ڈالو تم
تمہیں حق ہے
کہ تم ہی ر یاست ہو
مجھے دہشت گرد کہہ کر مار ڈالو تم
کسی خاموش سی اک رات میں مجھے
انکاؤنٹر میں مار ڈالوں تم
تمہیں حق ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔