بامروت خاندانی لوگ

0 comments

ایک کام کے سلسلے میں سرکاری دفتر جانا پڑا، جن صاحب کی نظر کرم مطلوب تھی ایک ٹھیک ٹھاک اعلی افسر تھے اور انسے واجبی سی جان پہچان تھی. انکے دفتر پہنچا اور ان کے سیکرٹری کے ہاتھ پیغام بھیجا،  کچھ ہی دیر میں سیکٹری صاحب واپس آتے ہوئے دکھائی دیے، آتے ہی روکھے انداز سے کہنے لگے کہ انتظار کیجیئے وہ ابھی میٹنگ میں ہیں. قریباً 15 منٹ کے وقفے کے بعد مجھے بلایا تو وہ سرکاری افسر سیٹ سے اٹھ کر ملے اور سب سے پہلے انتظار کروانے کیلئے معذرت کی اور اسی وقت جو کام کئی مہینوں سے نہیں ہو پایا تھا تمام  پیچیدگیوں  اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کر ڈالا، جب میری واپسی ہونے لگی تو انہوں دوبارہ معذرت چاہی جس پر  بذات خود مجھے شرمندگی محسوس ہونے لگی. کیونکہ نہ تو وہ مجھے جانتے تھے اور نہ ہی انکو مجھسے کوئی مطلب درپیش تھا.
دفتر سے نکلتے ہی میں نے اسی دفتر میں موجود ایک صاحب سے ان افسر کے بارے میں معلومات حاصل کیں کہ انکا تعلق کس خاندان سے ہے اور یہ کس کے بیٹے ہیں تو مجھے کوئی شک نہ رہا کہ خاندانی آدمی بہرحال خاندانی ہی ہوتا ہے، با مروت اور با اخلاق ہوتا ہے.
اختیارات اس کی گردن میں سریا پیدا نہیں کرتے بلکے وہ مزید عاجز ہو جاتے ہیں. جبکہ آج کل ایسے لوگ ڈھونڈنے سے نہیں ملتے.....!

ملک انس اعوان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔