عالم، ادب اور ادبی مستقبل

0 comments
عالم کے لیے شاعری کا ذوق ہونا ضروری ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے،  اس سے زیادہ اہم اور توجہ طلب معاملہ یہ ہے کہ ادب میں اسلام پسندوں کی نمائندگی کتنی ہے،  کتنا مواد ہمارے زیر اثر تیار ہو رہا ہے، کتنے لوگ اس کی بدولت دین کے قریب آرہے ہیں وغیرہ وغیرہ. حیرانی کی بات یہ ہے کہ عام لوگ انہی افسانوں اور کہانیوں سے اپنی ذاتی زندگی کے اہم معاملات میں راہنمائی طلب کرتے ہیں اور اس ادب کو پڑھنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رائے کو ہی زیادہ ترجیح دیتے ہیں. کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ ادب میں موجود غلاظت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس سے آنکھیں پھیر لی جائیں بلکہ کام تو یہ ہے کہ ایک منصوبہ بندی سے اسلام کے بنیادی نظریات سے میل کھانے والے،  انقلابی،  سماجی اور معاشرتی لٹریچر کی تیاری ہے جو آنے والے دنوں میں نسلوں کو خدا کے قریب کرے اب میں امید پیدا کرے اور ان کو نیکی کے راستوں میں استقامت عطا فرمائے. ہمارا کام رستے بند کرنا نہیں نکلے راستوں کو راہ راست بنانا ہے.اگر یہی حالات رہے تو ہماری آنے والی نسلوں کو ادب میں صرف "ظالم ملا"  اور لب و رخسار سے کھیلتے ہوئے مظلوم شاعر ہی نظر آئیں گے. کیونکہ قوموں کی زہن سازی میں ادب کا جتنا کردار ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے؟
آپ اگر مبلغ اور داعی ہیں اور ادب سے شغف نہیں رکھتے تو پہلے سے دیندار لوگ تو آپکو سنتے رہیں گے اور راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے مگر عام لوگ سختی سے دور بھاگیں گے یہ  مزہبی معاملے سے زیادہ نفسیاتی معاملہ ہے. آپ کے پچھلے جمعے کے خطبے کی باتیں تو شاید لوگ بھول جائیں مگر انکے زہنوں میں سالہا سال نسیم حجازی کے قلم سے جنم لینے والے اسلامی تاریخ کے دیے روشن رہیں گے.اسی طرح کے مزید دیے روشن کرنے کی ضرورت ہے تاکہ علماء کا کام مزید آسان بنایا جا سکے اور ایک مسلمان کو گھر سے ہی زہنی آمادگی کے ساتھ مسجد میں بزور فکر و تدبر لایا جا سکے. 
آپ کی رائے کا منتظر 
ملک انس اعوان

http://image6.buzzintown.com/files/article/upload_6000/upload_bigcrop/235655-for-the-love-of-pens.jpg

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔