علماء سر جوڑ کر بیٹھے نماز میں ہاتھ اوپر باندھنے ہیں یا نیچے کے مسئلے پر سوچ بچار کر رہے تھے، دوسری جانب وضو اور غسل کے فرائض پر بحث و مباحثہ جاری تھا، ایک جانب ٹوپی کے بغیر نماز ادا کرنے کے ثواب اور ایسا نہ کرنے کے باعث گناہ کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا، آوازیں بلند ہوتی چلیں گئیں، کوئی اپنے اکابر کی پرستش کر رہا تھا اور کوئی پیر پرستی، آوازیں اس قدر بلند ہو گئیں کہ ہاتھ گریبانوں تک پہنچ گئے، مساجد علیحدہ کی گئیں نت نئے ناموں، ٹوپیوں اور پگڑیوں کے عنوانات سے طرح طرح کے گروہ سامنے آتے چلے گئے. ادھر باہر کی دنیا میں خلافت کا سورج غروب ہو رہا تھا. امت مسلمہ کو قوموں میں تقسیم کر دیا گیا، نئے علم اور قانون ان پہ مسلط کر دیے گئے، کچھ دیر گزری تو معلوم ہوا کہ مسجد کے باہر ایک بنک کھل گیا ہے اور سود پر قرضے دے رہا ہے. کوتوالی کو دیکھ کر نمازی مسجد میں جا گھستے ہیں اور فقط الله سے دعا میں مگن ہو جاتے ہیں، کچھ عرصے بعد ساتھ ہی سینما گھر کھلتا ہے، پھر بغل میں ہی قانونی طور پر تسلیم شدہ شراب خانے کھل جاتے ہیں . اتنے میں کہیں عرب سے سید قطب اور حسن البنا کی آواز اور بر صغیر سے سید ابو الاعلی مودودی کی آواز اٹھتی ہے اور وہ لوگوں کو مسلکی اور روایتی مذہبی مسائل سے اوپر اٹھ کر ایک اہم دینی مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ مسلمانوں تمہارے ہاتھ سے امامت چھن چکی ہے، قوت کا مرکز اب تمہارے ہاتھ میں نہیں رہا، مختلف پگڑیوں اور ٹوپیوں والے ان کے گرد اکٹھے ہونے لگتے ہیں امت کا تصور واضح ہونے لگتا ہے، انسان کیوں اشرف المخلوقات اور دنیا میں الله کا نمائندہ ہے یہ سمجھ آنے لگتا ہے.
ایوان ہو، تعلیمی ادارے ہوں، اقتدار کے حلقے ہوں، فکری نشستیں ہوں، لٹریچر ہو یا ادب ہر جگہ الله والوں کی دنیا والوں کے ساتھ جنگ چھڑ جاتی ہے، اہل دنیا جس رنگ اور ڈھنگ سے وار کرتے اہل دین اسی رنگ میں انکو اس کا جواب دیتے، دنیا والے ایک طرف مزہب والے بھی انکے مقابلے میں نکل آتے ہیں
اکابر اپنی اکابر پرستی اور پیر اپنی پیر پرستی کے دفاع میں اسلام پسندوں کے خلاف اتر آتے ہیں مگر وہ رکنے والے کہاں تھے.... چلتے گئے... بڑھتے گئے.... لوگ بولتے رہے.... راستوں میں کانٹے بچھاتے رہے.... لاشیں بچھتی رہیں... لیکن قافلے لیلائے دیں کی چاہت میں رکے نہیں.... تھمے نہیں بلکے رفتار مزید بڑھتی چلی گئی۔۔۔۔ بھلا دیوانوں کو انجام کی کیا پرواہ ان کو تو بس منزل چاہیے۔











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔