حقیقی افسانے

0 comments

میں پڑھتا ہوں مگر پڑھتے ہوئے بے چین ہوتا ہوں
بڑی عجلت دکھاتا ہوں ورق پہلے پلٹتا ہوں
کہانی جب کوئی ختم سی محسوس ہوتی ہے
یوں لگتا ہے کہ جیسے تکلیف سی محسوس ہوتی ہے
یہی کردار تو زندہ ہیں  فقط صحن تصور میں
یہی تو باعث رونق ہیں بازارِ تخیل میں
انہی سے گفتگو میں زندگی کے دن گزرتے ہیں
انہیں سے بات کرنے میں بھرے موسم گزرتے ہیں
انہی قدموں کی آہٹ سے تو دل آباد رہتا ہے
تعاقب میں جو یہ آئیں تو سب ہی ساز رہتا ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔