میں تو ہوں عدم تصور سے ہراساں پہلے
میرے دشمن تو میرے سامنے آتا کیوں ہے
اک تو کمبخت یہ کافر ہے دل مسلم بھی
ائے میری جان تو میری جان جلاتا کیوں ہے
ہے تیرا نام اگر آ ، صاحب گفتار تو بن
کبھی غالب کبھی جالب کو بلاتا کیوں ہے
ہے میرا وصف مروت میں مر بھی جانا
آہ اک نظر مسلسل سی جماتا کیوں ہے
ملک انس اعوان










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔