دھن موسیقی پہ محو رقص ابدان
لب و رخسار سے لبریز سیاہ اذہان
گو کچھ وقت تو یجہان بپا رکھتے ہیں
بحر جہل میں طوفان مچا رکھتے ہیں
تراشیدہ مصنوعی سامان ہیں بس
اک لحظہِ ایمان کی مار ہیں بس
شاہ شہر کو اسی لحظہ سے ڈر رہتا ہے
اس کے گھر جو صدا کفر کا گھر رہتا ہے
وہ یہ چاہے ہے کہ رکھوں میں زبان کو بند
ظلم ہوتا رہے اور رہوں میں مکاں میں بند
وہ یہ چاہے ہے کہ ذکر لب و رخسار کروں
حق کہوں جو بھی کرے اس کا ہی پرچار کروں
خاکی وردی میں بھی ہو سکتے ہیں شیطان بہت
بوٹ پالش کے بھی ہوسکتے ہیں امکان بہت
ڈھونڈیے اور کئی ذہنی ہیں یہاں غلام بہت
اہل علم، اہل مصلحت اور اہل کلام بہت
میرا یہ جرم مجھے محبوب ہیں افغان بہت
اہل شام ،اہل ایمان ،اہل شیشان بہت
ملک انس اعوان











0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔